کیوبا نے ٹرمپ کی دھمکیوں کا دیا جواب، امریکی عوام سے پوچھا ’کیا آپ ایسا ہونے دیں گے؟‘
کیوبا کے صدر میگل ڈیاز کانیل نے کہا کہ ’’کوئی بھی حملہ آور خواہ کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو، کیوبا کو جھکا نہیں سکتا، بلکہ اسے خود مختاری اور آزادی کے دفاع کے لیے پرعزم عوام کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘

کیوبا نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلسل دی جا رہی فوجی دھمکیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ کیوبا کے صدر میگل ڈیاز کانیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’امریکی صدر کیوبا کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیوں کو خطرناک اور غیر معمولی حد تک بڑھا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے بین الاقوامی برادری اور امریکی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ طے کریں کہ کیا وہ ایسے سنگین مجرمانہ فعل کو ایک چھوٹے لیکن بااثر اور دولت مند گروہ کے مفادات کے لیے ہونے دیں گے، جو بدلے اور تسلط کی سیاست کرتا ہے۔
کیوبا کے صدر نے مزید لکھا کہ ’’کوئی بھی حملہ آور خواہ کتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو، کیوبا کو جھکا نہیں سکتا، بلکہ اسے خود مختاری اور آزادی کے دفاع کے لیے پرعزم عوام کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘ صدر کے علاوہ کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز پریلا نے بھی ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ٹرمپ کی واضح اور براہ راست فوجی حملے کی دھمکی نے کیوبا کے خلاف جارحیت کو خطرناک سطح تک پہنچا دیا ہے۔‘‘ روڈریگز نے یہ بھی کہا کہ کیوبا کے انقلاب کے تئیں عوامی حمایت کا مظاہرہ جمعہ کو ’مئی ڈے‘ کے موقع پر بڑے پیمانے پر ہوا، جب لاکھوں لوگ سڑکوں پر اترے۔
واضح رہے کہ فلوریڈا کے ’پام بیچ‘ میں ایک پروگرام کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’’امریکہ بہت جلد کیوبا پر کنٹرول کر سکتا ہے، جب وہ ایک کام ختم کر لے گا۔‘‘ ٹرمپ کا اشارہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کی طرف تھا۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ طیارہ بردار جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ کو کیریبیئن خطے میں بھیج سکتے ہیں، جو ایران سے لوٹتے وقت کیوبا کے ساحل سے تقریباً 100 گز کے فاصلے پر رک سکتا ہے۔
اس سے قبل کیوبا نے امریکہ کی نئی پابندیوں کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے سرے سے خارج کر دیا تھا۔ کیوبا کا کہنا ہے کہ یہ قدم ملک کے عوام کو اجتماعی طور پر سزا دینے کے ارادے کی عکاسی کرتا ہے۔ برونو روڈریگز نے کہا کہ ’’ہم امریکی حکومت کی جانب سے اپنائی گئی حالیہ یکطرفہ تدابیر کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اقدامات دائرہ اختیار سے باہر اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہیں، ساتھ ہی امریکہ کو کیوبا یا کسی تیسرے ملک پر ایسی پابندیاں عائد کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ کیوبا کے وزیر خارجہ کا یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے جمعہ کو کیوبا پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جس میں امریکہ کے اندر یا اس کے کنٹرول میں آنے والے متعلقہ اثاثوں کو منجمد کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔