امریکی پابندیوں کے باعث کیوبا میں ’توانائی بحران‘ ہوا مزید گہرا، اسپین سمیت کئی ممالک کا اظہار تشویش

رواں سال جنوری میں امریکہ کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹائے جانے تک، کیوبا کی توانائی کی ضروریات بڑے پیمانے پر وینزویلا ہی پوری کرتا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>ڈونالڈ ٹرمپ / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

رواں سال جنوری کے آخر میں واشنگٹن کی جانب سے تیل کی سپلائی روکے جانے کے بعد، کیوبا کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بقدر ضرورت ایندھن نہیں مل پا رہا ہے۔ ایندھن کی کمی کی وجہ سے ان 3 مہینوں میں وہاں انسانی صورتحال ایک سنگین موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ اس دوران برازیل، میکسیکو اور اسپین کی حکومتوں نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور صورتحال کو آسان بنانے کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے پر زور دیا ہے۔ اسپین کی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں یہ معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

’سنہوا‘ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز تینوں حکومتوں نے متعلقہ فریقین سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جس سے لوگوں کے حالات زندگی مزید خراب ہوں یا جس سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کیوبا کے عوام کی تکلیفوں کو کم کرنے کے لیے ایک مربوط انداز میں اپنی انسانی امداد بڑھانے کا بھی عزم کیا۔ اپنے بیان میں برازیل، اسپین اور میکسیکو نے ہر لمحہ بین الاقوامی قوانین کے احترام کی ضرورت کو بھی دوہرایا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج علاقائی سالمیت، خودمختار مساوات اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں پر عمل کرنے پر بھی زور دیا۔


برازیل، اسپین اور میکسیکو نے انسانی حقوق، جمہوری اقدار اور کثیر الجہتی کے تئیں اپنے عزم کو بھی ایک بار پھر دوہرایا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی بات چیت کا مقصد موجودہ صورتحال کا کوئی مستقل حل نکالنا ہونا چاہیے اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ کیوبا کے عوام مکمل آزادی کے ساتھ اپنا مستقبل خود طے کریں۔

کیوبا میں موجود اقوام متحدہ کے افسر نے کہا کہ ’’ایندھن کی محدود مقدار میں فراہمی کی خبروں کے درمیان، روس سے بھیجی گئی تیل کی ایک حالیہ کھیپ کو گزشتہ ہفتے امریکہ کی ناکہ بندی کے باوجود بندرگاہ پر اترنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ملک میں انسانی ضروریات اب بھی مسلسل برقرار ہیں۔ مارچ کے آخر سے توانائی کے بحران کے اثرات مزید بگڑ گئے ہیں۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ رواں سال جنوری میں امریکہ کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹائے جانے تک، کیوبا کی توانائی کی ضروریات بڑے پیمانے پر وینزویلا ہی پوری کرتا تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔