ایک ماہ میں 23 فیصد سستا ہوا خام تیل، ہندوستانیوں کو ایندھن کی مہنگائی سے کب ملے گی راحت؟
’رائٹرز‘ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ موجودہ وقت میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً 4 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ رہی ہیں۔

عالمی بازاروں میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل گراوٹ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ 23 جون کو بھی بازار بند ہونے کے بعد خام تیل کی قیمت ایک فیصد کی گراوٹ کے ساتھ بند ہوئی تھی۔ اگر گزشتہ ایک ماہ کی بات کریں تو خام تیل کی قیمتوں میں 23 فیصد کی گراوٹ دیکھنے کو مل چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ملک میں آخری بار ایندھن کی قیمت میں اضافہ ہوا تھا تب سے خلیج اور امریکی خام تیل کی قیمتوں میں 20 ڈالر فی بیرل سے زیادہ کی گراوٹ آ چکی ہے۔ ’رائٹرز‘ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ موجودہ وقت میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً 4 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ رہی ہیں، جو کہ عالمی معیشت کے لیے کافی اچھے اشارے مانے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں کافی کمی ہوئی ہے۔ امریکہ نے ایران کو آئندہ 2 ماہ تک اپنا تیل فروخت کرنے کے لیے لائسنس دے دیا ہے۔ ساتھ ہی آبنائے ہرمز کے کھلنے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک نے بھی سپلائی اور پیداوار بڑھانے پر اپنی رضامندی ظاہر کی ہے۔ جس کا اثر خام تیل کی قیمتوں پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ویسے ماہرین اسے ایک عارضی راحت قرار دے رہے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت میں ابھی کچھ پوائنٹس ایسے ہیں، جن پر غیر یقینی صورتحال کے کافی گہرے بادل ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں گزشتہ تقریباً ایک ماہ میں 23 فیصد کی گراوٹ دیکھنے کو مل چکی ہے۔ اعداد و شمار کو دیکھیں تو خلیجی ممالک کے خام تیل ’برینٹ‘ کی قیمت 26 مئی کو 99.58 ڈالر فی بیرل پر تھی، جو کہ اب 76 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ چکی ہے۔ 24 جون کو کاروباری سیشن کے دوران خام تیل کی قیمت 75.97 ڈالر فی بیرل پر دیکھی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دوران خام تیل کی قیمت میں 23.61 ڈالر فی بیرل کی گراوٹ دیکھنے کو مل چکی ہے۔ برینٹ کروڈ آخری بار 2 مارچ کو 75.75 کی سطح پر دیکھا گیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ قیمتیں تقریباً 4 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
دوسری جانب امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں میں بھی بڑی گراوٹ دیکھنے کو مل چکی ہے۔ اگر 24 جون کی بات کریں تو خام تیل کی قیمت میں 0.57 فیصد کی کمی دیکھی جا رہی ہے اور یہ 72.73 ڈالر پر پہنچ گئی ہے، جبکہ کاروباری سیشن کے دوران یہ 72.36 ڈالر فی بیرل تک گر گئی تھی۔ جبکہ 26 مئی کو خام تیل کی قیمت 93.89 ڈالر فی بیرل دیکھی گئی تھی۔ تب سے اب تک امریکی خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 23 فیصد کی گراوٹ دیکھنے کو مل چکی ہے۔ 3 مارچ کو امریکی تیل 70 ڈالر کی سطح پر دیکھا گیا تھا اور اب ڈبلیو ٹی آئی بھی تقریباً 4 ماہ کی کم ترین سطح پر نظر آ رہا ہے۔
خام تیل کی قیمتوں میں کمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پیر کے روز ایران کو ابتدائی بات چیت کے بعد امریکہ سے 60 دنوں کی پابندیوں میں چھوٹ ملنے اور لبنان میں ایک بڑے معاہدے کے تحت لڑائی میں کمی کی خبروں کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد کی گراوٹ آئی اور یہ ٹرینڈ جاری ہے۔ منگل کو عمان اور ایران آبنائے ہرمز میں نیوی گیشن کے مستقبل کے انتظام پر بات چیت جاری رکھنے پر متفق ہوئے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کو کہا کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے کے تحت ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر ٹول نہیں وصول پائے گا، کیونکہ ایسا نظام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ پیر کے روز آبنائے ہرمز سے 19 ملین بیرل تیل نکلا، اور منگل کے روز ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے خام تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کی طرف اشارہ کیا۔
خام تیل کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ کے بعد اب سوال اٹھنے لگا ہے کہ ہندوستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کب دیکھنے کو ملے گی۔ خاص بات یہ ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں یہ کمی ہندوستان میں مئی کے دوران پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 7.5 فیصد اضافے کے بعد آئی ہے۔ 25 مئی کو تیل کمپنیوں نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں آخری بار اضافہ کیا تھا۔ اس کے بعد سے کمپنیوں کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ ایسے میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد اب ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے مطالبات زور پکڑنے لگے ہیں۔ ماہرین کی مانیں تو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی تب تک دیکھنے کو نہیں ملے گی، جب تک کہ پٹرولیم کمپنیوں کے نقصان کی بھرپائی نہیں ہو جائے گی۔ حال ہی میں وزیر پٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری کا بیان سامنے آیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ملک کی ریفائنریز میں جب سستا خام تیل آنے لگے گا، اس کے بعد عام لوگوں کو اس کی راحت ملنی شروع ہو جائے گی۔
قابل ذکر ہے کہ دہلی میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بالترتیب 102.12 روپے اور 95.20 روپے فی لیٹر ہے۔ کولکاتہ میں پٹرول کی قیمت 113.51 روپے اور ڈیزل کی قیمت 99.82 روپے فی لیٹر ہے۔ ممبئی میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بالترتیب 111.21 روپے اور 97.83 روپے فی لیٹر دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ جبکہ چنئی میں پٹرول کی قیمت 107.77 روپے اور ڈیزل 99.55 روپے فی لیٹر پر آ گیا ہے۔ ویسے مئی کے مہینے میں ایندھن کی قیمتوں میں 7 سے 8 فیصد کا اضافہ دیکھنے کو ملا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
