’10 سے 15 روپے سستا ہو پٹرول-ڈیزل‘، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے درمیان چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کا حکومت کو خط

چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) کے چیئرمین برجیش گوئل نے مرکزی وزیر پٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری کو خط لکھ کر تمام ریاستوں کے وزرائے خزانہ کی ایمرجنسی میٹنگ بلانے کی اپیل کی ہے۔

ہردیپ سنگھ پوری، تصویر یو این آئی
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں آج ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہے۔ دہلی میں پٹرول کی قیمت اب 102.12 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 95.20 روپے فی لیٹر پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ 10 دنوں میں یہ چوتھی بار ہے جب دونوں ایندھن کی قیمتیں تیزی سے اوپر گئی ہیں، جس کی وجہ سے عام صارفین اور تاجروں کی پریشانی بڑھ گئی ہے۔

چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے اس مسلسل بڑھ رہی مہنگائی کو دیکھتے ہوئے فوری طور پر راحت دینے کا مطابلہ کیا ہے۔ سی ٹی آئی کے چیئرمین برجیش گوئل نے مرکزی وزیر پٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری کو خط لکھ کر تمام ریاستوں کے وزرائے خزانہ کی ایمرجنسی میٹنگ بلانے کی اپیل کی ہے۔ گوئل نے تجویز پیش کی ہے کہ آئندہ 3 ماہ تک پورے ملک میں پٹرول اور ڈیزل پر فلیٹ 5 فیصد وَیٹ لگایا جائے، جس سے صارفین کو 10 سے 15 روپے فی لیٹر تک کی راحت مل سکے۔


برجیش گوئل نے اپنے خط میں کہا کہ ’’پٹرول-ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن ویٹ ریاستوں کا معاملہ ہے۔ اس لیے اس بحران کی گھڑی میں راحت دینے کی ذمہ داری صرف مرکز کی نہیں ہے اس کے لیے ریاستوں کو بھی آگے آنا ہوگا۔ 21 ریاستوں میں بی جے پی یا این ڈی اے کی حکومتیں ہیں، ایسے میں پٹرولیم وزیر ہردیپ سنگھ پوری آسانی سے تمام ریاستوں کو ہدایات جاری کر سکتے ہیں۔‘‘

سی ٹی آئی کے چیئرمین برجیش گوئل نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر 3 ماہ میں بین الاقوامی بازار میں صورتحال معمول پر آ گئی تو ریاستیں اپنی ویٹ کی شرحوں پر دوبارہ نظر ثانی کر سکتی ہیں۔ ساتھی ہی انہوں نے مختلف ریاستوں کے اعداد و شمار بھی شیئر کیے۔ تلنگانہ میں پٹرول پر 35.20 فیصد ویٹ ہے اور آندھرا پردیش میں 31 فیصد ویٹ کے ساتھ اضافی ٹیکس۔ اسی طرح دہلی میں 19.40 فیصد ویٹ جبکہ انڈمان-نکوبار میں ایک فیصد ویٹ ہونے کی وجہ سے پٹرول سستا ہے اور ڈیزل کی صورتحال بھی تقریباً ایسی ہی ہے۔ سی ٹی آئی کے مطابق دہلی میں 2 روز قبل پٹرول کی بیس پرائز 66.29 روپے اور ڈیزل کی 67.36 روپے فی لیٹر تھی، لیکن ٹیکس جوڑنے کے بعد قیمتیں کافی اونچی ہو جاتی ہیں۔ پٹرول پر مجموعی طور پر ٹیکس 50-40 فیصد تک اور ڈیزل پر 35-30 فیصد تک پہنچ رہا ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔