کورونا کے سبب نسوں میں منجمد ہو رہا خون، دورہ قلب کا خطرہ بڑھا

کورونا وائرس سے متعلق فرانس میں ہوئی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اس سے صرف پھیپھڑے ہی متاثر نہیں ہو رہے ہیں بلکہ اس سے نسوں میں خون کے تھکّے بھی جمنے لگتے ہیں۔

تصویر گیٹی ایمج
تصویر گیٹی ایمج
user

قومی آوازبیورو

پوری دنیا اس وقت کورونا کے قہر کا سامنا کر رہی ہے۔ الگ الگ ممالک کے سائنسداں دن رات ویکسین بنانے میں مصروف ہیں۔ اس بیماری کو لے کر لگاتار مطالعے اور تحقیق بھی ہو رہی ہیں جن سے نئے نئے انکشافات ہو رہے ہیں۔ تازہ ترین تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے صرف پھیپھڑے ہی متاثر نہیں ہو رہے ہیں بلکہ اس کی وجہ سے جسم کے کئی حصوں کی نسوں میں خون کے تھکّے بھی جمنے لگتے ہیں۔ فرانس میں ہوئی اس تازہ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کورونا کے بے حد سنگین مریضوں میں دیکھا گیا ہے کہ ان کی نسوں میں خون کے تھکّے جم گئے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایک اسپتال میں کورونا کے تقریباً 100 مریض تھے جن میں سے 23 کافی سنگین حالت میں تھے، ان 23 مریضوں کے پھیپھڑوں کی دھمنیوں میں خون کے تھکّے جم گئے تھے۔ مطالعہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کورونا مریض کے پلیٹلیٹس بھی کم ہونے لگتی ہیں۔ پلیٹلیٹس کاؤنٹ کا کم ہونا بھی کورونا وائرس کی علامت ہے۔ پھیپھڑوں سے انفیکشن آگے بڑھنے پر یہ جسم کے دیگر حصوں پر حملہ کرتا ہے اور جسم کے دیگر حصوں کی نسوں میں خون جمنے لگتا ہے۔ ان تھکّوں کا پھیپھڑے، دل اور دماغ پر اثر ہوتا ہے جس کی وجہ سے اسٹروک جیسی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ خون کے تھکّے بننے کو لے کر زیادہ تر ڈاٹا چین کے مریضوں سے اکٹھا کیے گئے۔

غور طلب ہے کہ پوری دنیا میں اس وائرس نے اب تک 1.14 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کیا ہے اور 5.33 لاکھ سے زائد لوگ موت کا شکار بن گئے ہیں۔ جہاں تک ہندوستان کی بات ہے، مریضوں کی مجموعی تعداد 7 لاکھ کو پار کر چکی ہے جب کہ مہلوکین کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

Published: 7 Jul 2020, 5:40 PM
next