چین میں پھر بڑھ رہے کورونا کیسز، 45 نئے معاملے درج؛ پیرو کے حالات تشویشناک

پیرو میں کورونا کے بڑھتے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور روک تھام کےلئے ایمرجنسی اور قرنطینہ میں 31 اگست تک توسیع کردی ہے۔

کورونا وائرس
کورونا وائرس
user

یو این آئی

چین سے پوری دنیا میں پھیلے کورونا وائرس پر اس ملک نے قابو پا لیا تھا، لیکن ایک بار پھر یہاں انفیکشن کے معاملے بڑھتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ چین کے ہیلتھ اتھاریٹی نے ہفتے کے روز بتایا کہ ملک میں کورونا وائرس کی وبا کے 45 نئے معاملوں کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے 39 گھریلو انفیکشن کے ہیں۔ قومی صحت کمیشن کی باقاعدہ رپورٹ کے مطابق گھریلو انفیکشن کے معاملوں میں سے 31 ژنجیانگ اوئیگر خودمختار علاقے کے اور 8 لویوننگ صوبے کےہیں۔ حالانکہ کمیشن کا کہنا ہے کہ جمعہ کو کووڈ-19 سے متعلق یا مشتبہ موت کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے۔

دوسری طرف کورنا وبا کی وجہ سے پیرو میں تشویشناک حالات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ پیدا مسائل کے پیش نظر پیرو کی حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور روک تھام کےلئے ایمرجنسی اور قرنطینہ میں 31 اگست تک توسیع کردی ہے۔ صدر مارٹن وج کارا نے جمعہ کو سرکاری حکم جاری کرکے وائرس کی روک تھام کے اقدامات کو 31 اگست تک کےلئے بڑھا دیا۔

قابل ذکر ہے کہ پیرو میں 16 مارچ سے ایمرجنسی اور قرنطینہ کے حالات ہیں۔ تازہ حکم میں کہا گیا ہے کہ ایمرجنسی کے حالات کے دوران انفرادی آزادی اور سیکورٹی سے متعلق آئینی حقوق کا استعمال ممنوع ہے۔ ایمرجنسی کے حالات میں توسیع کے ساتھ ہی حکومت نے بیماری کو روکنے کےلئے مقامی وقت کے مطابق رات دس بجے سے صبح چار بجے تک قومی شب کرفیو کا حکم بھی دیا ہے۔ پیرو کے زیادہ انفیکشن والے علاقوں میں قرنطینہ نافذ ہے اور سبھی مقامی اسپتال مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں۔

next