رمی جمرات: عازمین حج نے بڑے شیطان کو ماری کنکریاں، سوشل ڈسٹنسنگ کا رکھا گیا خاص خیال

حجاج کرام چہرے پر ماسک لگا کر ایک دوسرے سے تقریباً ڈھائی میٹر کا فاصلہ بنائے ہوئے تھے جب انھوں نے بڑے شیطان العقبہ کی طرف کنکریاں پھینکیں۔ یہ کنکریاں انھیں ایک پلاسٹک کے پیکٹ میں ملی تھیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

کورونا وبا کے پیش نظر حج 2020 کے دوران عازمین کا انتہائی محتاط طریقے سے ارکان حج کی تکمیل کا سلسلہ دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہا ہے۔ رکن اعظم وقوف عرفہ مکمل کرنے کے بعد مومنین جمعرات کی شام کو ہی مزدلفہ پہنچ گئے تھے، اور پھر جمعہ کو منیٰ میں انھوں نے بڑے شیطان 'العقبہ' کو کنکریاں ماریں۔ اس دوران سوشل ڈسٹنسنگ (سماجی فاصلہ) کا خاص خیال رکھا گیا اور چھوٹے چھوٹے گروپ کو ہی ایک ایک کر کے رمی جمرات کی اجازت ملی۔

سعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ کے آفیشیل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر رمی جمرات کے پہلے دن کی تصویر بھی سامنے آ گئی ہے جس میں صاف دیکھنے کو مل رہا ہے کہ عازمین حج چہرے پر ماسک لگائے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے سے مناسب فاصلہ بھی بنائے ہوئے ہیں۔ خواتین بھی چہرے پر ماسک لگا کر کنکریاں علامتی شیطان کی طرف پھینکتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ یہ کنکریاں فرزندانِ توحید کو ایک پلاسٹک کے پیکٹ میں ملی تھیں جو کہ جراثیم سے پوری طرح پاک تھیں۔ کورونا انفیکشن سے بچنے کے لیے سعودی وزارت نے یہ انتظام کیا تھا ورنہ پہلے مزدلفہ میں ہی عازمین حج کنکریاں چن لیا کرتے تھے۔


واضح رہے کہ سعودی عرب کے قومی مرکز برائے انسداد امراض کے حوالے سے یہ بیان میڈیا میں پہلے ہی سامنے آ چکا ہے کہ رواں‌سال حج سیزن پر صحت پروٹوکول کی روشنی میں حجاج کرام سینیٹائز کی گئی جراثم سے پاک اور پیک شدہ کنکریاں فراہم کی گئی ہیں۔ بیان میں‌ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کورونا وبا سے بچاؤ کے لیے اختیار کردہ میکانیزم کے مطابق رمی جمرات کے لیے حجاج کو چھوٹے چھوٹے گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ایک وقت میں ایک سے زاید گروپ کو رمی کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ رمی جمرات کے مناسک حج کی ادائیگی کے دوران حجاج کرام ایک دوسرے کے درمیان ڈھائی میٹر کے فاصلے پر ہوں‌ گے۔

اس ہیلتھ پروٹوکول کے مطابق ہی آج عازمین حج نے بڑے شیطان العقبہ کو کنکریاں ماریں۔ جمرات کے لیے کچھ مقرر کردہ راستے بھی تھے، صرف انہی راستوں کا استعمال کرنے کی اجازت عازمین کو دی گئی۔ اب آئندہ بڑے شیطان کے ساتھ ساتھ مزید دو چھوٹے شیطانوں کو کنکریاں مارنے کا عمل کیا جانا ہے۔ دراصل پہلے بڑے شیطان کو سات کنکریاں ماری جاتی ہیں، اور پھر اگلے دن سے تینوں شیطانوں کو سات سات کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ اسی لیے پلاسٹک کے پیکٹ میں اللہ کے سبھی مہمانوں کو 28-28 کنکریاں فراہم کیے جانے کا انتظام ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔