یہ کیسا حج ہے، نہ کعبہ کو چھونا نہ حجر اسود کا بوسہ، رمی جمرات کے لئے کنکریاں بھی حکومت دے گی 

جو مومنین اس وقت مکہ مکرمہ میں موجود ہیں اور حج کی تکمیل کی طرف بڑھ رہے ہیں، وہ یقیناً ایک تاریخ کا حصہ بن رہے ہیں۔ ان کی حفاظت کے لیے سعودی انتظامیہ نے ہر طرح کے احتیاطی اقدامات کیے ہیں۔

خانہ کعبہ، تصویر گیتی ایمج
خانہ کعبہ، تصویر گیتی ایمج
user

تنویر احمد

کورونا نے دنیا کے رسم و رواج ہی بدل کر رکھ دیئے ہیں۔ حالات اس قدر خراب ہیں کہ عبادات بھی سخت شرائط و ضوابط کے سایے میں ادا ہو رہی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی اور تازہ مثال حج 2020 ہے جہاں عازمین نہ ہی کعبہ کا بوسہ لے سکیں گے، نہ حجر اسود کو چوم سکیں گے، اور نہ ہی رمی جمرات کے لیے کنکریاں اٹھا سکیں گے۔ ایسے حالات پہلے کبھی نہیں پیدا ہوئے اور سبھی دعاء گو ہیں کہ آئندہ بھی کبھی ایسا دن دیکھنے کو نہ ملے۔ چنندہ لوگوں کو حج کی اجازت تو مل گئی، لیکن وہ سعادت نہیں مل پائے گی جو گزشتہ سالوں میں مومنین کو ملا کرتی تھیں۔

https://twitter.com/Saudi_Gazette/status/1288429565069664256?s=20

مناسک حج کا آغاز ہو چکا ہے، عازمین منیٰ پہنچنے بھی شروع ہو گئے ہیں لیکن اس بار سب کچھ بدلا بدلا ہوا ہے۔ عازمین کو رہنما خطوط کے متعلق تفصیلی جانکاری دے دی گئی ہے اور انھیں بتا دیا گیا ہے کہ وہ آبِ زم زم اپنی مرضی کے مطابق نہیں پی سکیں گے، نہ ہی وہ شیطان کو مارنے کے لیے کنکریاں جمع کرپایں گے۔ انھیں ہدایت دی گئی ہے کہ کنکریاں ایک پلاسٹک میں سعودی عرب اتھارٹی کے ذریعہ دستیاب کرائی جائیں گی جو کہ کسی بھی طرح کے جراثیم اور بیکٹیریا سے پاک ہوں گے۔ ان کنکریوں کا استعمال ہی رمی جمرات کے لیے کیا جا سکے گا۔ اسی طرح آب زم زم بھی عازمین حج کو بوتل میں فراہم کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اس مرتبہ حج کے لیے محض 10 ہزار لوگوں کا ہی انتخاب کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے یہ تعداد انتہائی کم ہے کیونکہ پچھلی بار جو رپورٹس سامنے آئی تھیں، ان کے مطابق تقریباً 25 لاکھ لوگوں نے حج کی سعادت حاصل کی تھی۔ بہر حال، اس سال جن 10 ہزار لوگوں کو اس عبادت کے لیے منتخب کیا گیا ہے ان میں سے 7 ہزار وہ خوش نصیب افراد ہیں جن کا تعلق سعودی عرب سے نہیں ہے لیکن اس وقت سعودی میں موجود تھے۔ بقیہ 3 ہزار سعودی باشندے ہیں۔ علاوہ ازیں ایسے مومنین کو ہی اس بار حج کی سعادت مل رہی ہے جن کی عمر 20 سے 50 سال کے درمیان ہے۔ قابل ذکر یہ بھی ہے کہ اس مرتبہ صرف ان لوگوں کو حج کی اجازت دی گئی ہے جنھوں نے پہلے اس فرض کی ادائیگی نہ کی ہو۔

ظاہر ہے کہ کورونا وبا نے لاتعداد مومنین کو اس مرتبہ حج کی سعادت حاصل کرنے سے محروم کر دیا ہے۔ جو اس وقت مکہ میں موجود ہیں اور حج کی تکمیل کی طرف بڑھ رہے ہیں، وہ یقیناً ایک تاریخ کا حصہ بن رہے ہیں۔ ان کی حفاظت کے لیے سعودی انتظامیہ نے ہر طرح کے احتیاطی اقدامات کیے ہیں۔ سماجی فاصلہ کو یقینی بنانے کے لیے ہر اس مقام پر نشان ڈالے گئے ہیں جہاں پر عازمین کو ٹھہرنا ہے۔ نمازوں کے دوران بھی سماجی فاصلہ کا خیال رکھا جا رہا ہے اور مختلف مقامات پر سینیٹائزیشن کا عمل بھی لگاتار انجام پا رہا ہے۔ بس اب یہی دعا ہے کہ سبھی عازمین حج بخیر و خوبی اپنی عبادت مکمل کریں، اور ان عازمین کی دعاؤں سے کورونا وبا کا اثر اس دنیا سے ختم ہو جائے۔

Published: 29 Jul 2020, 7:11 PM
next