ٹرمپ کو قبل از وقت صدر عہدہ سے ہٹانے کے سوال پر بائڈن نے دیا دلچسپ جواب

حلف برداری تقریب میں ٹرمپ کے شامل نہ ہونے کے اعلان پر بائڈن نے کہا کہ ’’بہت ہی کم چیزیں ہیں جس پر وہ اور میں کبھی متفق ہوں۔ ان کا حلف برداری تقریب میں نہ آنا ایک اچھی بات ہے۔‘‘

تصویر یو این آئی 
تصویر یو این آئی
user

تنویر

ایک طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ نومنتخب صدر جو بائڈن کی حلف برداری تقریب میں شامل نہیں ہوں گے، تو دوسری طرف ٹرمپ کو 20 جنوری سے پہلے ہی صدر عہدہ سے ہٹانے کی سرگرمیاں بھی چل رہی ہیں۔ کیپٹل ہل تشدد کے بعد ایسا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے ذریعہ ٹرمپ کو وقت سے پہلے ہٹایا جا سکتا ہے، لیکن جب اس سلسلے میں بائڈن سے سوال کیا گیا تو انھوں نے انتہائی دلچسپ انداز میں جواب دیا کہ ’’ٹرمپ کو ہٹانے کا سب سے فوری طریقہ 20 جنوری کو میری حلف برداری ہے۔‘‘

یہ بیان جو بائڈن نے ڈیلاویئر میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران دیا۔ جب ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ کیا ٹرمپ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا کر انھیں 12 دن سے پہلے ہی ہٹائے جانے کی تیاری ہو رہی ہے، تو بائڈن نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’میں ایک سال سے بھی زیادہ وقت سے کہتا آ رہا ہوں کہ وہ (ٹرمپ) اس عہدہ پر رہنے کے قابل نہیں ہیں۔ وہ امریکی تاریخ کے سب سے نااہل صدر ہیں۔ لہٰذا انھیں ہٹانے کی بات کا میرے حساب سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ 20 جنوری کو میرا عہدہ سنبھالنا ہی ان کو ہٹانے کا فوری طریقہ ہے۔‘‘

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بائڈن نے صحافیوں سے یہ بھی کہا کہ ’’20 جنوری سے پہلے یا بعد میں ان پر کیا کارروائی کی جائے، اس پر کانگریس کو فیصلہ لینا ہے۔ میں بس ان کے عہدہ چھوڑنے کو لے کر پرجوش ہوں۔‘‘ نومنتخب صدر نے ٹرمپ کے تعلق سے اپنا نظریہ صحافیوں کو سامنے رکھتے ہوئے مزید کہا کہ ’’میں نے ان کے بارے میں جتنا سوچا تھا، وہ اس سے بھی کہیں آگے نکل گئے۔ ان کی وجہ سے ملک کو اور ہمیں پوری دنیا میں شرمندگی برداشت کرنی پڑی۔ وہ اس عہدہ پر بنے رہنے کے لائق نہیں ہیں۔‘‘

نامہ نگاروں نے جو بائڈن سے ٹرمپ کے ذریعہ حلف برداری تقریب میں شامل نہ ہونے کے اعلان پر بھی ان کا نظریہ جاننا چاہا۔ اس پر بائڈن نے کہا کہ ’’یہاں آنے کے دوران مجھے راستہ میں بتایا گیا کہ انھوں نے (ٹرمپ) اشارہ دیے ہیں کہ وہ حلف برداری تقریب میں شامل نہیں ہوں گے۔ بہت ہی کم چیزیں ہیں جس پر وہ اور میں کبھی متفق ہوں۔ ان کا حلف برداری تقریب میں نہ آنا ایک اچھی بات ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلیگرام پر پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next