امریکی حملہ اور شام کی خانہ جنگی

امریکہ نے جو شامی ’باغیوں‘ کو ٹریننگ کا پروگرام شروع کیا تھا اس کو اکتوبر2015ء میں ’سرکاری‘ طور پر بند کرنا پڑا۔ اس پروگرام کی خاص بات یہ تھی کہ 500 ملین ڈالرخرچ کر کے صرف 60 جنگجو ہی تیار کئے جا سکے۔

By قومی آوازبیورو

امریکہ نے فرانس اور برطانیہ کے ساتھ مل کر شام کے شہر دمشق پر جو حملے کئے ہیں اس نے عالمی دنیا کے سامنے کئی سوال کھڑے کر دیئے ہیں، جیسے کیا یہ سرد جنگ کا آغاز ہے، کیا یہ جنگ سیدھے طور پر ایران اور سعودی عرب کے مابین جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے اور کیا یہ بھی عراق اور افغانستان کی طرح کی جنگ ہو گی۔ ان سوالوں کے جواب کے علاوہ ایک بات تو طے ہے کہ شام میں خانہ جنگی ابھی ختم ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ شام اس خانہ جنگی میں پوری طرح تباہ ہو گیا ہے اور لاکھوں قیمتی جانیں کھو چکا ہے۔

اگر ہم شام کی موجودہ صورت ِحال دیکھیں اور خانہ جنگی کی وجوہات پر غور کریں تو کئی پہلو سامنے آتے ہیں۔ شام میں اکثریت سنی مسلمانوں کی ہے اور مذہبی اقلیتیں اسد حکومت کی حمایت کرتی ہیں ۔ اس حقیقت سے بھی چشم پوشی نہیں کی جا سکتی کہ شام بنیادی طور پر ایران اور سعودی عرب کے مابین میدان جنگ میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ روایتی طور پر ایران، عراق اور حزب اﷲ اسد کے حامی ہیں اور اب اسد کو روس کی بھی حمایت کھل کر حاصل ہےجبکہ سعودی عرب کے ساتھ خلیجی ممالک کی اکثریت اسد مخالف ہے اور اس میں امریکہ کے ساتھ ساتھ مغربی دنیا بھی ان کا ساتھ دے رہے ہیں ۔ اس ساری صورت ِحال نے خطہ میں ایک عدم استحکام کی صورتحال پیدا کر دی ہے ۔

اسد حکومت کے خلاف اٹھنے والی تحریک کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عدم استحکام میں سامراج نے اپنے پنجے گاڑنے شروع کر دیئے ہیں ۔ اس نے اپنے مقاصد کے لئے فرقہ واریت کا کارڈ کھیلتے ہوئے اس لڑائی کو فرقہ وارانہ جنگ میں تبدیل کر دیا جس میں یہ تاثر دیا گیا کہ یہ لڑائی سنی اکثریت کی علوی اقلیت کے خلاف حق و باطل کی لڑائی ہے۔

مارکس وادی ہمیشہ بیان کرتے ہیں کہ فوج بھی سماج کا ہی عکس ہوتی ہے اوراس کا سماج میں کوئی آزادانہ وجود نہیں ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ جولائی 2011ء میں فوج کے ایک دھڑے کی طرف سے آزاد شامی فوج (FSA) کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا مقصد اسد کو اقتدار سے بے دخل کرنا تھا ، لیکن جلد ہی اس میں نام نہاد اسپانسرڈ ’’باغیوں‘‘ کی اکثریت ہوتی گئی جو کہ اب یہ محض سامراجی آلہ کار بن کر رہ گئی ہے۔ اس خانہ جنگی میں تیز ی آتی گئی اور 2012ء تک یہ آگ دمشق اور حلب تک پھیل گئی۔ سعودی عرب اور قطر کی طرف سے پوری دنیا سے اسلامی شدت پسندوں کو شام میں اسد حکومت کے خلاف نا م نہاد جہاد کےنام پر جھونکا گیا اور ان کی بڑے پیمانے پر مالی امداد کی گئی۔

نام نہاد باغی او ر مختلف اسلامی شدت پسند گروہ اس وقت شام میں قتل و غارت میں مصرو ف ہیں۔ ان وحشی بنیاد پرست گروہوں کا اصل مقصد لوٹ مار اور کالے دھن کے کاروبار کو فروغ دینا ہے۔ روس کی ستمبر 2015ء سے جاری ان بنیاد پرستوں کے خلاف کاروائیوں کا مقصد اپنے سامراجی مفادات کا دفاع کرنا ہے۔ روس نے جہاں فضائی بمباری سے بشارالاسد کی حمایت کی وہیں اس نے اپنے فوجی مشیر بھی بھیجے ۔ باغی گروہوں کا سب سے بڑا حامی طیب اردگان رہا ہے جس نے اپنے ملک کے راستے ان کی رسد جاری رکھی۔ تاہم آج کل وہ روس کے ساتھ ہاتھ ملاتا نظر آتا ہے۔ ترکی کی شام میں موجودگی بھی اب روس کے مرہون منت ہے۔

امریکہ نے جو شامی ’باغیوں‘ کو ٹریننگ کا پروگرام شروع کیا تھا اس کو اکتوبر 2015ء میں ’سرکاری‘ طور پر بند کرنا پڑا۔ اس پروگرام کی خاص بات یہ تھی کہ 500 ملین ڈالرخرچ کر کے صرف 60 جنگجو ہی تیار کئے جا سکے۔ لیکن داعش کے خلاف لڑنے والےامریکی حمایت یافتہ باغی پھر داعش کے ساتھ ہاتھ ملا لیتے ہیں۔ جان کیری نے دعویٰ کیا کہ صرف 15 سے 20 فیصد ہی برے ثابت ہوئے، لیکن یہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔ اس کی اہم وجہ مالی مفادات اور کالے دھن سے استفادہ حاصل کرنا ہے، امریکی پالیسی سازوں کے ہاتھوں تیار کردہ سپولیے ، پل کر پھر ان کو ہی آنکھیں دکھانے لگ جاتے ہیں، جن کا خاتمہ کرنے کے لئے پھر ان کی جگہ نئے سپولیے بھرتی کئے جاتے ہیں۔

حلب پر جب دوبارہ شامی فوج کا قبضہ ہوا تو اس کو پوری دنیا میں آزادی سے مشابہت دی گئی۔ حلب پر قبضہ بلا شبہ بشارالاسد اور روس کے لئے اہم کامیابی تھی لیکن سب سے بڑی کامیابی ایران کی تھی۔ اس سے ایران کو علاقائی طور پر اپنا اثرو رسوخ اور ایجنڈا آگے بڑھانے میں مدد ملی ۔ مثال کے طور پر ایرانی اشرافیہ کا خواب ہے کہ وہ عراق سے ہوتے ہوئے بحر روم تک تجارت کے لئے زمینی راستہ بنائیں جو کہ تہران کے لئے اہم اثاثہ بن سکتا ہے۔

حلب پر قبضہ اور بشار الاسد کی پیش قدمی کی اہم وجوہات میں ایک سعود ی عرب اور قطر کا معاشی بحران بھی تھا کیونکہ جہاں ایک طرف روسی بمباری سے اسد کی فوج کو مدد ملی وہیں سعودی عر ب کی طرف سے باغیوں کو ملنے والی مالی امدادمیں زبردست کمی آئی ۔ آج امریکہ نے جو اپنے اتحادیوں کے ساتھ حملہ کیا اس کے اوقات کو نظر میں رکھنے کی ضرورت اس لئے ہے کیونکہ ایک دن پہلے ہی سعودی شہزادہ سلمان امریکہ کے دورہ پر واشنگٹن میں موجود ہیں ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کیمیائی حملہ بھی عراق کی طرح ’دبلیو ایم ڈی‘ ہی ثابت ہوں گے۔ یہ امریکی حملےصرف اپنی طاقت کے مظاہرےاور اپنے مفادات کو پورا کرنے کے لئے ہیں۔

یہاں یہ وضاحت کرنا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ’دبلیو ایم ڈی‘ یعنی ویپنس آف ماس ڈسٹرکشن (بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ) کے نام پر صدام حکومت کے خلاف حملہ کیے تھےاور بعد میں یہ ثابت ہو ا کہ عراق کے پاس ایسے کوئی ڈبلیو ایم ڈی نہیں تھے اور یہ سارا حملہ خلیج کے تیل پر قبضہ کرنےکے لئے کیا گیا تھا ۔

کیمیائی حملہ کا بہانہ بنا کر جس طرح امریکہ نے شام پر حملہ کیا ہے اور جس طرح کا روس سے رد عمل آیا ہے اس سے ایک بات واضح ہے کہ دنیا صاف طور پر سرد جنگ کے زمانہ کی طرح دو گروپ میں تقسیم ہونے کی جانب گامزن ہے ۔ یہ ضرور ہے کہ سعودی عرب اور ایران میں تناؤ بڑھے گا لیکن اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اس کا ابھی اندازہ لگانا مشکل ہے۔