افغانستان میں پاکستانی حملوں کی آزادانہ تحقیقات پر زور، ایمنسٹی نے فریقین کو یاد دلائی ذمہ داریاں

یو این اے ایم اے نے پاکستان کے فضائی حملوں کی مذمت کی اور تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ دشمنی روکنے اور بین الاقوامی انسانی حقوق قانون کی تعمیل کرنے کی اپیل کی تاکہ عام لوگوں کو نقصان نہ ہو۔

<div class="paragraphs"><p>فوٹو آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

انسانی حقوق کی ایک بڑی تنظیم نے حال ہی میں افغانستان کے ننگرہاراور پکتیکا صوبوں میں پاکستان کی طرف سے کئے گئے فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے آزادانہ، مکمل اورغیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تنازع کے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں۔

عالمی تنظیم کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کو21 اور 22 فروری کو افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں پاکستانی فضائی حملوں میں ہونے والی شہریوں کی ہلاکتوں کی رپورٹوں پر تشویش ہے۔ شہری ہلاکتوں کی ان رپورٹوں کی مکمل، آزادانہ اورغیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب عام شہریوں کو طاقت کے استعمال کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔

اس سے قبل افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے اکتوبر اور دسمبر 2025 کے درمیان 70 شہریوں کی ہلاکت اور 478 دیگر لوگوں کے زخمی ہونے کے لیے پاکستانی ملٹری فورس کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا، جب افغان طالبان فورس اور پاکستانی ملٹری کے درمیان سرحد پر کشیدگی اور جھڑپوں میں اضافہ ہو گیا تھا۔


اس موقع پر ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اپنے بیان میں کہا کہ تنظیم لڑائی میں شامل تمام فریقین سے اپنی اپیل دہراتی ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق عام شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے) نے کہا ہے کہ پاکستانی فضائی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے۔ یو این اے ایم اے نے کہا کہ ننگرہار کے بہسود اور خوگیانی اضلاع میں 21-22 فروری کی رات 11:15 بجے پاکستانی فضائی حملوں میں 13 افراد مارے گئے اور 7 دیگر زخمی ہوئے۔ افغان خبر رساں ایجنسی خامہ پریس نے بتایا ہے کہ فضائی حملے دوپہر 1:45 بجے تک جاری رہے۔ پکتیکا کے ضلع برمل میں دو حملوں میں ایک اسکول اور ایک مسجد کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ پکتیکا کے ضلع اورگن میں ایک مکان تباہ ہو گیا۔

یو این اے ایم اے نے پاکستان کے فضائی حملوں کی مذمت کی اور تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ دشمنی روکنے اور بین الاقوامی انسانی حقوق قانون کی تعمیل کرنے کی اپیل کی تاکہ عام لوگوں کو نقصان نہ ہو۔22  فروری کو افغان وزارت دفاع نے پاکستانی فوج پر ننگرہار اور پکتیکا صوبوں میں مختلف رہائشی علاقوں میں مہلک فضائی حملے کرنے کا الزام لگایا، جس کے نتیجے میں متعدد شہری ہلاک ہوئے۔ افغان وزارت کے مطابق حملوں میں ایک مدرسہ اور متعدد رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا گیا، جس میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔

افغان فضائی حدود کی یہ خلاف ورزی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کابل اسے پاکستان کی جانب سے بار بار جارحانہ کارروائیوں سے تعبیر کررہا ہے۔ افغان وزارت دفاع نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے افغانستان کی قومی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قانون، اچھی ہمسائیگی کے اصولوں اور اسلامی اقدار کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔