امریکہ نے پاکستان کو لگائی پھٹکار، کہا ’دہشت گردوں کی پناہ گاہ بن گیا ہے یہ ملک‘

امریکی محکمہ خارجہ نے ’دہشت گردی 2020‘ پر اپنے ملک کی رپورٹ جاری کی ہے جس میں اس نے پاکستان کو پھٹکار لگائی ہے اور کہا ہے کہ اس نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے محدود پیش رفت کی ہے۔

امریکی صدر جو بائڈن، تصویر آئی اے این ایس
امریکی صدر جو بائڈن، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

دہشت گردوں کی پناہ گاہ بن چکے پاکستان کو امریکہ نے ایک اور زوردار جھٹکا دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ’دہشت گردی 2020‘ پر اپنے ملک کی رپورٹ جاری کی ہے جس میں اس نے پاکستان کو پھٹکار لگائی ہے اور کہا ہے کہ اس نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے محدود پیش رفت کی ہے۔ پاکستان کے خلاف ناراض ہوتے ہوئے محکمہ خارجہ نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ اس نے جیش محمد (جے ای ایم) کے بانی مسعود اظہر اور لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کے ساجد میر جیسے دہشت گرد لیڈروں پر مقدمہ چلانے کے لیے قدم نہیں اٹھایا ہے جو 2008 ممبئی حملے کے ماسٹرمائنڈ ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کو ہدف بنانے والے گروپ، جن میں افغان طالبان اور متعلقہ حقانی نیٹورک شامل ہیں، اس کے ساتھ ہی ہندوستان کو ہدف بنانے والے گروپ، جن میں لشکر اور اس کے متعلقہ فرنٹ ادارے اور جیش شامل ہیں، یہ سبھی پاکستان سے کام کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’پاکستان نے 2020 میں اپنی فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایکشن پلان کو پورا کرنے کی سمت میں اضافی ترقی کی، لیکن سبھی ایکشن پلان آئٹم کو پورا نہیں کیا، اور ایف اے ٹی ایف ’گرے لسٹ‘ میں بنا رہا۔‘‘


امریکی محکمہ خارجہ کے ذریعہ جاری رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکومت اور فوج نے پورے ملک میں دہشت گرد محافظ پناہ گاہوں کے سلسلے میں مایوس کن طور پر کام کیا۔ افسران نے کچھ دہشت گرد گروپوں کو ختم کرنے کے لیے ضروری کارروائی نہیں کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔