پیرس کی آواز: علی اکبر فرانس کے اعلیٰ ترین سول اعزاز سے سرفراز

علی اکبر نے اخبار فروشی کا پیشہ اپنایا اور 50 برسوں تک بلا ناغہ پیرس کے شہریوں تک خبریں پہنچاتے رہے ۔ اپنی مخصوص بلند آواز اور ہر ایک سے مسکرا کر ملنے کی عادت نے انہیں پورے پیرس میں ہردلعزیز بنا دیا۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر بشکریہ سوشل میڈیام ویکیپیڈیا</p></div>
i
user

یو این آئی

پا کساتان کے راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے 74 سالہ علی اکبر نے ثابت کر دیا ہے کہ کوئی بھی کام چھوٹا نہیں ہوتا اگر اسے لگن سے کیا جائے۔ پیرس کی گلیوں میں پچھلے 50 سال سے اخبار فروخت کرنے والے علی اکبر کو فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ملک کے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ 'نائٹ آف دی گرینڈ آرڈر آف میرٹ' سے نواز کر انہیں "قومی ہیرو" قرار دے دیا ہے۔

ایک پروقار تقریب کے دوران صدر میکرون نے خود علی اکبر کے سینے پر تمغہ سجایا اور ان کی خدمات کا اعتراف ان الفاظ میں کیا۔ صدر نے علی اکبر کو "پیرس کی آواز" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی مخصوص پکار اور خوش مزاجی شہر کی ثقافت کا حصہ بن چکی ہے۔ صدر میکرون نے جذباتی انداز میں کہا، "ہمیں فخر ہے کہ آپ اب ایک فرانسیسی شہری ہیں۔"


علی اکبر کی زندگی جدوجہد اور استقامت کی ایک روشن مثال ہے۔ وہ 1973 میں راولپنڈی سے بہتر مستقبل کی تلاش میں فرانس منتقل ہوئے تھے۔انہوں نے اخبار فروشی کا پیشہ اپنایا اور 50 برسوں تک بلا ناغہ پیرس کے شہریوں تک خبریں پہنچاتے رہے۔ اپنی مخصوص بلند آواز اور ہر ایک سے مسکرا کر ملنے کی عادت نے انہیں پورے پیرس میں ہردلعزیز بنا دیا۔

علی اکبر نے کہا کہ میں ایک عام سا انسان ہوں، لیکن لوگوں کی بے پناہ محبت اور صدر کی جانب سے ملنے والی اس عزت پر بے حد خوش اور مطمئن ہوں۔" علی اکبر کو ملنے والا یہ اعزاز اس بات کی علامت ہے کہ محنت اور انسانیت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ ایک اخبار فروش کا اعلیٰ ترین ایوارڈ حاصل کرنا ان لاکھوں مہاجرین کے لیے امید کی کرن ہے جو اپنی محنت سے دنیا بھر میں مقام بنا رہے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔