امریکہ میں 129 ہرن کورونا سے متاثر، تازہ تحقیق سے طبی حلقہ پریشان!

رپورٹ کے مطابق جنگلی ہرن میں کورونا وائرس کا ذخیرہ ہو سکتا ہے، تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ 2021 کے شروعاتی مہینوں میں اوہیو میں مختلف مقامات پر ہرنوں کی آبادی میں بی.1.2 وائرس کئی بار پھیل چکا ہے۔

کورونا وائرس، تصویر یو این آئی
کورونا وائرس، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

امریکی سائنسدانوں نے اوہیو ریاست میں چھ مقامات پر سفید پونچھ والے کئی ہرنوں میں کورونا وائرس کے کم از کم تین ویریئنٹ کے انفیکشن کا پتہ لگایا ہے۔ سائنسدانوں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ہرنوں میں یہ انفیکشن غالباً انسانوں سے پھیلا ہے۔ اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد طبی حلقہ پریشان ہے اور کورونا کو قابو کرنے میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اوہیو اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے جنوری اور مارچ 2021 کے درمیان شمال مشرقی اوہیو کے 9 مقامات پر 360 سفید پونچھ والے ہرنوں کے نمونے لیے ہیں۔ پی سی آر جانچ سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے سائنسدانوں نے ہرنوں کے نمونوں (35.8 فیصد) میں جینیاتی عناصر کا پتہ لگایا۔ محققین چھ مقامات پر سورس کوو-2 (بی.1.2، بی.1.582 اور بی.1.596) کے تین ویریئنٹ کی پہچان کرنے میں اہل تھے۔


رسالہ ’جرنل‘ میں شائع رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ جنگلی ہرن میں سورس کوو-2 وائرس کا ذخیرہ ہو سکتا ہے۔ تجزیہ سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ 2021 کے شروعاتی مہینوں میں اوہیو میں اہم بی.1.2 وائرس مختلف مقامات پر ہرنوں کی آبادی میں کئی بار پھیل چکا ہے۔ نتائج کی بنیاد پر محققین نے اندازہ لگایا کہ انفیکشن کی وسعت 9 سائٹس میں 13.5 سے 70 فیصد تک تھی، جس میں سب سے زیادہ پھیلاؤ 4 سائٹس میں دیکھا گیا تھا جو زیادہ گھنی آبادی والے علاقوں سے گھرے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔