’حکومت ہندوستانی آئین برقرار رکھے گی یا بھگوا آئین تھوپا جائے گا‘، ہندوتوا اشتعال انگیزی پر معروف سماجی کارکنان کا سوال

سادھوی اناپورنا کے ذریعہ ہندوؤں کو مسلم نسل کشی کے لیے دعوت دینے اور سوامی یتی نرسنہانند کے ذریعہ منعقد دھرم سنسد میں مسلمانوں کے خلاف ہوئی زہر انگیزی کو سماجی کارکنان نے ناقابل قبول قرار دیا۔

تصویر ویڈیو گریب
تصویر ویڈیو گریب
user

قومی آوازبیورو

ہریدوار میں 17 سے 19 دسمبر تک منعقد ہوئے ’دھرم سنسد‘ میں ہندو مذہبی لیڈروں اور شدت پسند ہندوتوا تنظیموں سے جڑی ہستیوں کے ذریعہ ہندوستانی مسلمانوں کے خاتمہ کے لیے ہندو برادری سے کی جانے والے کھلی اور اشتعال انگیز اپیل پر مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کی ناراضگی کا سلسلہ جاری ہے۔ 24 دسمبر کو ’انہد‘ تنظیم کے ذریعہ منعقد ایک پریس کانفرنس میں ڈاکٹر سیدہ حمید، پروفیسر رام پنیانی، پرشانت بھوشن، گوہر رضا، انجلی بھاردواج، دیو دیسائی اور شبنم ہاشمی نے دھرم سنسد میں مسلم نسل کشی کی کھلے عام اپیل کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس تعلق سے ایک ورچوئل پریس کانفرنس میں بیان بھی جاری کیا گیا جس میں موجودہ حکومت سے یہ سوال کیا گیا ہے کہ وہ ہندوستانی آئین کو برقرار رکھے گی یا پھر ’بھگوا آئین‘ تھوپا جائے گا۔

پریس بیان میں ہندو مہاسبھا کی جنرل سکریٹری سادھوی اناپورنا کے ذریعہ ہندوؤں کو مسلم نسل کشی کے لیے دعوت دینے پر سخت حیرانی ظاہر کی گئی اور کہا گیا کہ جس طرح سوامی یتی نرسنہانند (کئی مہینوں سے مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کر رہے ہیں) دھرم سنسد کا انعقاد کیا اور اس میں مسلمانوں کے خلاف زہر انگیزی ہوئی، وہ ناقابل قبول ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سوامی یتی نرسنہانند نے پروگرام کے دوران خطاب میں کہا تھا کہ ’’(مسلمانوں کے خلاف) معاشی بائیکاٹ کام نہیں کرے گا۔ بغیر اسلحہ اٹھائے کوئی کمیونٹی محفوظ نہیں۔ اور تلوار کام نہیں آئے گا، یہ صرف اسٹیج پر دکھانے میں اچھا لگتا ہے۔ آپ کو اپنے ہتھیار اَپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے... زیادہ سے زیادہ جدید اور بہتر ہتھیار آپ کی حفاظت کر سکتے ہیں۔‘‘ انھوں نے اسے ایک کروڑ روپے دینے کا وعدہ بھی کیا جو مسلمانوں کے لیے پربھاکرن یا بھنڈراوالے بننے کو تیار ہے۔ دھرم سنسد میں سادھوی اناپورنا نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ’’ہمیں 100 سپاہیوں کی ضرورت ہے جو ان (مسلم) کے 20 لاکھ لوگوں کو مار دے۔‘‘


پریس بیان میں اس طرح کے بیانات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس طرح کے بیانات ہندوستانی آئین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، اور نفرت پھیلانے سے روکنے والی کئی قانونی دفعات کی بھی خلاف ورزی ہے۔ یہ صرف نفرت پھیلانا نہیں ہے، یہ اپیل ہے مسلمانوں کے خلاف تشدد کی۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہریدوار میں دھرم سنسد ختم ہوئے تقریباً 5 دن ہو چکے ہیں اور یہ سب کچھ ریاستی حکومت کی جانکاری میں ہوا۔ جب زہر یہاں (ہریدوار) سے پورے ملک میں، یہاں تک کہ پوری دنیا میں سوشل میڈیا اور دیگر میڈیا کے ذریعہ پھیلا تو انتظامیہ بھی دیکھ رہی تھی۔ ہم سب نے بس ایک جملہ بار بار سنا، پولیس ترجمان نے کہا کہ ’’ہم نظر بنائے ہوئے ہیں، مناسب کارروائی ہوگی۔‘‘

پریس بیان کے آخر میں حکومت و انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مسلم نسل کشی کے لیے اُکسانے اور اشتعال انگیز تقریر کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہو۔ سوامی یتی نرسنہانند، سوامی پربودھانند گری، اناپورنا ما، دھرم داس مہاراج، آنند سوروپ مہاراج اور دھرم سنسد منعقد کرنے و نفرت انگیزی پھیلانے والے دیگر لوگوں کو گرفتار کر ان کے خلاف فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔