امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ نے شدت اختیار کی، ٹرمپ نے اسپین سے رشتہ توڑنے کا کیا اعلان، دیکھیں تازہ اپڈیٹس
جرمن چانسلر فریڈرک مرج نے امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کی ہے۔ اس دوران ٹرمپ نے ایک بیان دیا ہے جس میں کہا ہے کہ ’’ایران پر کارروائی کو لے کر جرمنی ہمارے ساتھ ہے۔‘‘

امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اہم شخصیات کی موت نے ایران کو مزید برہم کر دیا ہے۔ ایران نہ صرف اسرائیل پر حملے کر رہا ہے، بلکہ خلیجی ممالک میں موجود امریکی و اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کو بھی ہدف بنا رہا ہے۔ ان حملوں کی وجہ سے جنگ میں شدت پیدا ہو چکی ہے اور عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف ایران دشمن ممالک کے ہر حملے کا جواب پوری طاقت سے دے رہا ہے، دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ لگاتار ایران کو خودسپردگی کی تنبیہ کر رہے ہیں۔
اس جنگ کی وجہ سے سینکڑوں کی تعداد میں ہلاکتیں تو دیکھنے کو ملی ہی ہیں، مالی نقصانات بھی بھرپور انداز میں دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ عالمی سطح پر معاشی حالات خراب ہونے کا ایک نیا دور بھی شروع ہو چکا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس جنگ میں مجموعی طور پر تقریباً 900 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ایران کی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے منگل کے روز جو بیان دیا ہے، اس میں بتایا ہے کہ ہفتہ کے روز شروع ہوئی جنگ کے بعد سے اب تک ایران میں 787 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ ریڈ کریسنٹ نے یہ بھی جانکاری دی کہ اب تک 153 شہروں اور 500 سے زیادہ مقامات پر 1000 سے زیادہ حملے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل میں ایرانی میزائل حملوں کی وجہ سے کم از کم 11 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ایران حامی تنظیم حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر حملے کیے ہیں۔ جواب میں اسرائیلی کارروائی کے دوران لبنان میں کم از کم 52 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ اس جنگ میں امریکی فوجیوں کی بھی موت ہوئی ہے، جن میں 6 فوجیوں کی موت سے متعلق امریکہ نے تصدیق بھی کر دی ہے۔ علاوہ ازیں یو اے ای میں 3 اموات اور کویت و بحرین میں ایک ایک اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ چونکہ حملے دونوں طرف سے جاری ہیں، اس لیے لگاتار نئے اپڈیٹس سامنے آ رہے ہیں۔ متعلقہ ممالک کے سرکردہ لیڈران کے بیانات بھی جاری ہو رہے ہیں، جو حالات کو مزید کشیدہ بنا رہے ہیں۔ آئیے کچھ تازہ اپڈیٹس پر نظر ڈالتے ہیں...
ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کا سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ اس کا بیک اَپ بھی اب ختم ہو گیا ہے۔ ایران شہریوں پر حملے کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں اسپین اور برطانیہ کا بھی ذکر کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’’ہم اسپین کے ساتھ تجارت بند کرنے جا رہے ہیں۔ ہم اسپین کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں رکھنا چاہتے۔‘‘ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ برطانیہ سے بھی خوش نہیں ہیں۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرج نے امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ ’’ہم بہت اچھا کر رہے ہیں۔ ایران کے خلاف کارروائی کے معاملے میں جرمنی ہمارے ساتھ ہے۔‘‘ اس دوران ٹرمپ نے ایرانی فضائی دفاعی نظام ختم ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔
اسرائیلی حملے میں ایران کے نئے وزیر دفاع ماجد ابن الرضا کی موت ہو گئی ہے۔ گزشتہ کل یعنی پیر کو انہیں ایران کا نیا وزیر دفاع مقرر کیا گیا تھا۔
ایران جنگ کے اثرات ہندوستان پر بھی ظاہر ہونے شروع ہو گئے ہیں۔ ہندوستان کو قدرتی گیس فراہم کرنے والے قطر نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ہندوستان کو ایل این جی کی برآمدات میں 40 فیصد تک کمی کر دی ہے۔ قطر دنیا کا سب سے بڑا قدرتی گیس پیدا کرنے والا ملک ہے۔ ایران اور اسرائیل-امریکہ جنگ شروع ہوتے ہی قطر پر بھی حملے ہوئے ہیں۔ اس کا اثر عالمی سطح پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ’اسکائی نیوز‘ کے مطابق ایران جنگ کے بعد برطانیہ میں گیس کی قیمتیں 93 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔
سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے اسرائیلی ہم منصب گیدون ساعر سے فون پر بات کی۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ ایران پر فوجی حملوں کی بیجنگ مخالفت کرتا ہے۔
ایران کے شہر قم پر اسرائیل نے شدید حملہ کیا ہے۔ اس حملہ میں ’اسمبلی آف ایکسپرٹس‘ کی عمارت تباہ ہو گئی ہے۔
ایران جنگ کے درمیان صدر ٹرمپ نے ایک انتہائی اہم بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہم سے بات کرنا چاہتا ہے، لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ ایران کی قیادت ختم ہو گئی ہے۔ ایرانی فضائی دفاع، فضائیہ اور بحریہ سب ختم ہو چکی ہیں۔
ایران نے خلیجی ممالک پر ایک بار پھر حملے تیز کر دیے ہیں۔ کویت اور قطر میں امریکی اڈوں پر شدید دھماکے ہوئے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کے 172 میزائل مار گرائے اور 755 ڈرون روک لیے۔ دوسری طرف بحرین نے مطلع کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کے 73 میزائل اور 91 ڈرون مار گرائے۔
ایران سے جاری جنگ کے درمیان امریکہ نے بیروت میں اپنا سفارت خانہ اگلے حکم تک کے لیے بند کر دیا ہے۔
ایران جنگ کے دوران روس نے بھی انتہائی اہم بیان دیا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ماسکو کو اب تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ایران جوہری اسلحہ تیار کر رہا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران پر ہونے والے حملوں کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں اور عرب ممالک کو معاشی نقصان کے ساتھ جانی و مالی خسارہ بھی اٹھانا پڑ رہا ہے۔