مشرقِ وسطیٰ کی جنگ، عالمی توانائی کی سیاست اور ہندوستانی مفادات پر قمر آغا کی تفصیلی رائے
قومی آواز کے ڈیجیٹل ایڈیٹر سید خرم رضا سے گفتگو میں سید قمر آغا نے ایران۔اسرائیل کشیدگی، امریکی حکمت عملی، تیل کی سیاست اور ہندوستانی معیشت پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران و اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے عالمی سیاست کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ توانائی کے وسائل، فوجی حکمت عملی اور بڑی طاقتوں کی صف بندی نے اس تنازعہ کو صرف علاقائی مسئلہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے عالمی اثرات کا حامل بحران بنا دیا ہے۔ انہی امور پر قومی آواز کے ڈیجیٹل ایڈیٹر سید خرم رضا نے خارجہ پالیسی، سلامتی اور سماجی معاملات کے ممتاز مبصر قمر آغا سے تفصیلی گفتگو کی۔
سوال کیا گیا کہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کا آپ کس طرح جائزہ لیتے ہیں؟ اس کے جواب میں قمر آغا نے کہا کہ صورتحال تشویشناک ہے اور جنگ اب صرف ایران تک محدود نہیں رہی بلکہ پورے خطے میں پھیل چکی ہے۔ ان کے مطابق متعدد ممالک اس کشیدگی کی لپیٹ میں آ چکے ہیں اور خطے میں غیر یقینی کیفیت بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ دنیا کے لیے اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد سپلائی یہیں سے ہوتی ہے، جس کا بڑا حصہ ایشیائی ممالک، خصوصاً ہندوستان، چین، جاپان اور کوریا کو جاتا ہے۔ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوگا، جس کا براہِ راست اثر درآمد کنندہ معیشتوں پر پڑے گا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس کشیدگی کے پس منظر میں داخلی سیاسی عوامل بھی کارفرما ہیں، مثلاً بنجامن نیتن یاہو اور ڈونالڈ ٹرمپ کے اپنے سیاسی مسائل، تو اس کے جواب میں قمر آغا نے کہا کہ اس صورتحال کو محض داخلی سیاست تک محدود کر کے نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ یہ ایک طویل عرصے سے جاری امریکی پالیسی کا تسلسل ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل خطے میں اپنی فوجی برتری کو کسی صورت چیلنج ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا اور ایران نے اسی برتری کو چیلنج کیا ہے۔ یہ امر نہ اسرائیل کے لیے قابل قبول ہے اور نہ ہی امریکہ کے لیے، کیونکہ امریکی پالیسی بھی یہی رہی ہے کہ خطے میں اسرائیل کی عسکری بالادستی برقرار رہے۔
ایک اور سوال میں دریافت کیا گیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے طویل مدتی مقاصد کیا ہو سکتے ہیں؟ اس کے جواب میں قمر آغا نے کہا کہ اسرائیل خطے میں اپنی بالادستی مستحکم کرنا چاہتا ہے، جبکہ امریکہ اپنی حکمت عملی کو ازسرنو ترتیب دے رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ خطے میں اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ مگر وہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی کم کر کے اپنی توجہ انڈو پیسیفک خطے کی جانب منتقل کرنا چاہتا ہے تاکہ چین کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس حکمت عملی کے تحت امریکہ چاہتا ہے کہ خطے کی سلامتی کا بڑا بوجھ اسرائیل اٹھائے اور اسی تناظر میں ابراہیمی معاہدے کو وسعت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین جیسے ممالک کے ساتھ سکیورٹی تعاون کو مضبوط کیا جا سکے۔
سوال کیا گیا کہ کیا توانائی کے وسائل اس تنازعہ کا بنیادی محرک ہیں؟ اس کے جواب میں قمر آغا نے کہا کہ توانائی کی سیاست اس بحران کا مرکزی پہلو ہے۔ ان کے مطابق امریکہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کے وسائل پر زیادہ کنٹرول چاہتا ہے تاکہ پیداوار، تقسیم اور قیمتوں کے تعین میں اس کا اثر و رسوخ بڑھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر توانائی کے ذخائر پر زیادہ کنٹرول حاصل ہو جائے تو تیل کو بطور معاشی اور سیاسی ہتھیار بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایران اس تناظر میں اہم ہے کیونکہ وہ نہ صرف تیل و گیس سے مالا مال ہے بلکہ جغرافیائی طور پر بھی انتہائی اہم مقام پر واقع ہے۔
ایک سوال میں ایران کے جغرافیائی محلِ وقوع کی اہمیت پر روشنی ڈالنے کو کہا گیا۔ اس کے جواب میں قمر آغا نے کہا کہ ایران کی سرحد پاکستان، افغانستان، عراق، آذربائیجان اور آرمینیا سمیت متعدد وسطی ایشیائی ریاستوں سے ملتی ہے، اس لیے وہ وسطی ایشیا کا دروازہ سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیا معدنی وسائل اور توانائی کے ذخائر سے مالا مال ہے اور روس کا اثر و رسوخ وہاں نمایاں ہے۔ امریکہ ایک ایسے ایران کا خواہاں ہو سکتا ہے جو اس کے لیے دوستانہ ہو تاکہ وسطی ایشیا میں روسی اثر کو محدود کیا جا سکے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ ایران کا مستقبل کس سمت میں جاتا دکھائی دیتا ہے تو اس کے جواب میں قمر آغا نے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کا مستقبل آسان نظر نہیں آتا۔ ملک جنگی کیفیت سے گزر رہا ہے، معیشت دباؤ میں ہے اور پابندیوں نے اس کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایران نے خود انحصاری کو اپنی پالیسی کا محور بنایا ہے۔ وہ صنعتی پیداوار بڑھانا اور برآمدات کو فروغ دینا چاہتا ہے، مگر پابندیاں اس راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اس کے باوجود ایران نے مزاحمت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور عندیہ دیا ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ بھرپور جواب دے گا۔
ہندوستان کے حوالے سے سوال کیا گیا کہ اس صورتحال کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ اس کے جواب میں قمر آغا نے کہا کہ ہندوستان کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں اور ہر سال 30 سے 40 ارب ڈالر زرِمبادلہ بھیجتے ہیں۔ خطے کے ساتھ ہندوستان کی دوطرفہ تجارت 150 سے 200 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔ سعودی عرب اور قطر کی جانب سے آئندہ برسوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے وعدے بھی کیے گئے ہیں۔ اگر جنگ طویل ہو جاتی ہے اور تیل کی فراہمی متاثر ہوتی ہے تو چھ سے سات فیصد معاشی ترقی کا ہدف متاثر ہو سکتا ہے۔
ایک سوال میں ہندوستان کے بدلتے ہوئے مؤقف پر بات کی گئی۔ اس کے جواب میں قمر آغا نے کہا کہ ہندوستان نے حالیہ عرصے میں توازن قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ایک طرف ایران کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں اور ہندوستان کی بعض ریفائنریاں ایرانی تیل کے مطابق ڈھالی گئی ہیں، دوسری طرف خلیجی ممالک کے ساتھ مضبوط تجارتی اور سفارتی روابط ہیں۔ ان کے مطابق یہی توازن آئندہ بھی ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی چیلنج رہے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔