ایرانی رہنما کے قتل پر حکومت کی خاموشی غیر جانبداری نہیں، بلکہ دستبرداری ہے...سونیا گاندھی کا مضمون
ایران کے سپریم لیڈر کے قتل پر ہندوستان کی خاموشی خارجہ پالیسی کی سمت پر سوال اٹھاتی ہے۔ خودمختاری، عالمی قانون اور تزویراتی خودمختاری کے دعووں کے باوجود مؤقف کا ابہام سفارتی ساکھ کو متاثر کر سکتا ہے

تحریر: سونیا گاندھی
یکم مارچ کو ایران نے تصدیق کی کہ اس کے سپریم لیڈر، آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای، کو ایک روز قبل امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے ہدفی حملوں میں قتل کر دیا گیا۔ جاری سفارتی مذاکرات کے دوران کسی برسرِ اقتدار سربراہِ مملکت کا قتل معاصر بین الاقوامی تعلقات میں ایک نہایت سنگین دراڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم اس واقعے کے صدمے سے بڑھ کر جو بات نمایاں ہے، وہ نئی دہلی کی خاموشی ہے۔
حکومتِ ہند نے نہ تو اس قتل کی مذمت کی اور نہ ہی ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر کوئی واضح مؤقف اختیار کیا۔ ابتدا میں وزیر اعظم نے امریکہ-اسرائیل کی وسیع فوجی کارروائی کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر جوابی حملے کی مذمت کی، مگر اس سے پہلے کے واقعاتی تسلسل کا ذکر نہیں کیا۔ بعد ازاں انہوں نے محض ’گہری تشویش‘ اور ’مکالمہ و سفارت کاری‘ کی عمومی باتیں کیں، حالانکہ یہی سفارتی عمل اسرائیل اور امریکہ کے ان بڑے اور بلا اشتعال حملوں سے قبل جاری تھا۔ جب کسی غیر ملکی رہنما کے ہدفی قتل پر ہمارا ملک خودمختاری یا بین الاقوامی قانون کے دفاع میں واضح آواز بلند نہ کرے اور غیر جانبداری ترک کر دی جائے تو خارجہ پالیسی کی سمت اور ساکھ دونوں پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔
اس معاملے میں خاموشی غیر جانبداری نہیں ہے۔ یہ قتل باضابطہ اعلانِ جنگ کے بغیر اور جاری سفارتی عمل کے دوران کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 2(4) کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کو ممنوع قرار دیتی ہے۔ برسرِ اقتدار سربراہِ مملکت کا ہدفی قتل ان اصولوں کی جڑ پر ضرب ہے۔ اگر ایسے اقدامات پر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اصولی اعتراض نہ اٹھائے تو بین الاقوامی ضابطوں کا انحطاط معمول بنتا جائے گا۔
اس تشویش میں وقت کا عنصر بھی شامل ہے۔ قتل سے محض 48 گھنٹے قبل وزیر اعظم اسرائیل کے دورے سے واپس آئے تھے، جہاں انہوں نے بنجامن نیتن یاہو کی حکومت کی کھل کر حمایت دہرائی، جبکہ غزہ میں جاری تنازعہ پر عالمی سطح پر شہری ہلاکتوں، بالخصوص خواتین اور بچوں کی اموات، پر شدید ردِعمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب گلوبل ساؤتھ کے بیشتر ممالک، نیز برکس کے شراکت دار روس اور چین، فاصلہ اختیار کیے ہوئے ہیں، ہندوستان کی جانب سے اخلاقی وضاحت کے بغیر نمایاں سیاسی تائید ایک تشویش ناک انحراف دکھائی دیتی ہے۔ اس واقعے کے اثرات جغرافیائی سیاست سے آگے تک پھیلے ہوئے ہیں اور ہندوستان کا رویہ ایک طرح کی خاموش تائید کا تاثر دے رہا ہے۔
انڈین نیشنل کانگریس نے ایرانی سرزمین پر بمباری اور ہدفی قتل کی دوٹوک مذمت کی ہے اور اسے علاقائی و عالمی سطح پر خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔ ہم نے ایرانی عوام اور دنیا بھر کی شیعہ برادری سے اظہارِ تعزیت کیا ہے اور یاد دلایا ہے کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی تنازعات کے پرامن حل پر مبنی ہے، جیسا کہ آئینِ ہند کی دفعہ 51 میں عکاسی کی گئی ہے۔ خودمختار مساوات، عدم مداخلت اور امن کے فروغ جیسے اصول تاریخی طور پر ہندوستانی سفارت کاری کی شناخت رہے ہیں۔ موجودہ خاموشی محض حکمتِ عملی نہیں بلکہ ہمارے اعلان کردہ اصولوں سے ہم آہنگ نظر نہیں آتی۔
ہندوستان کے لیے یہ واقعہ خاص طور پر پریشان کن ہے۔ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات تہذیبی بھی ہیں اور تزویراتی بھی۔ 1994 میں جب اسلامی تعاون تنظیم کے بعض حلقوں نے کشمیر کے معاملے پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں ہندوستان کے خلاف قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی، تو تہران نے اسے روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس مداخلت نے ایک نازک معاشی مرحلے پر کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی بنانے سے بچایا۔ ایران نے پاکستان کی سرحد کے قریب زاہدان میں ہندوستانی سفارتی موجودگی کو بھی ممکن بنایا، جو گوادر بندرگاہ اور چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے تناظر میں تزویراتی توازن کی حیثیت رکھتا ہے۔
موجودہ حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ اپریل 2001 میں اُس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے تہران کے سرکاری دورے کے دوران ایران کے ساتھ ہندوستان کے گہرے تہذیبی اور عصری روابط کی گرمجوشی سے توثیق کی تھی۔ اُن کے ان بیانات میں جھلکتی تاریخی وابستگی آج کی پالیسی میں نمایاں دکھائی نہیں دیتی۔
گزشتہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات دفاع، زراعت اور ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں بڑھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تہران اور تل ابیب دونوں سے روابط رکھنے والا ملک ہونے کے ناطہ ہندوستان کے پاس تحمل کی اپیل کرنے کی سفارتی گنجائش موجود ہے۔ مگر یہ گنجائش ساکھ پر منحصر ہے، اور ساکھ اصولی مؤقف سے پیدا ہوتی ہے، وقتی مصلحت سے نہیں۔
یہ محض اخلاقی سوال نہیں، بلکہ تزویراتی ضرورت بھی ہے۔ خلیجی خطے میں تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی مقیم ہیں۔ ماضی کے بحرانوں، خلیجی جنگ سے لے کر یمن، عراق اور شام تک، میں اپنے شہریوں کے تحفظ کی ہماری صلاحیت اس لیے ممکن ہوئی کہ ہمیں ایک خودمختار فریق سمجھا جاتا تھا، کسی بڑی طاقت کا نمائندہ نہیں۔
یہ ساکھ اتفاقاً نہیں بنی۔ آزادی کے بعد ہندوستان کی خارجہ پالیسی عدم وابستگی کے تصور پر استوار ہوئی، جو محض غیر جانبداری نہیں بلکہ تزویراتی خودمختاری کا شعوری اظہار تھا۔ یہ بڑی طاقتوں کی رقابتوں میں ضم ہونے سے انکار تھا۔ موجودہ لمحہ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ آیا یہ مؤقف کمزور تو نہیں پڑ رہا۔ طاقتور ریاستوں کی یکطرفہ فوجی کارروائی پر تنقیدی خاموشی اسی اصول سے پسپائی کا تاثر دیتی ہے۔
یہ معاملہ صرف تاریخ کا نہیں بلکہ آج کے ہندوستانی عزائم کا بھی ہے۔ جو ملک خود کو گلوبل ساؤتھ کی آواز کہنا چاہتا ہو، اس کے لیے خاموش رضامندی کی تصویر مہنگی پڑ سکتی ہے۔ اگر خودمختاری کو بغیر نتیجے کے نظر انداز کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ ایران کے معاملے میں ہوا، تو چھوٹی ریاستیں بڑی طاقتوں کے رحم و کرم پر رہ جائیں گی۔ ہندوستان بارہا اصولوں پر مبنی عالمی نظام کی وکالت کرتا آیا ہے، جو کمزوروں کو جبر سے تحفظ دے۔ اگر یہی اصول کڑے امتحان کے وقت بیان نہ کیے جائیں تو وہ دعویٰ کمزور پڑ جاتا ہے۔ کل کو گلوبل ساؤتھ کے ممالک اپنی علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہندوستان پر کیوں اعتماد کریں گے اگر آج ہم ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کریں؟
اس تضاد پر کھلے مباحثے کا مناسب فورم پارلیمنٹ ہے۔ جب ایوان کا اجلاس دوبارہ ہوگا تو بین الاقوامی نظام میں اس دراڑ اور ہماری خاموشی پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ کسی غیر ملکی سربراہِ مملکت کا ہدفی قتل، عالمی ضابطوں کا انحطاط اور مغربی ایشیا میں بڑھتی بے یقینی محض خارجی موضوعات نہیں بلکہ ہندوستان کے تزویراتی مفادات اور اخلاقی وابستگیوں سے براہِ راست جڑے ہیں۔ واضح اور دوٹوک مؤقف اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ جمہوری احتساب اور تزویراتی وضاحت دونوں اسی کا تقاضا کرتے ہیں۔
ہندوستان طویل عرصے سے ’وسودھیو کٹمبکم‘ - دنیا ایک خاندان ہے، کا حوالہ دیتا آیا ہے۔ یہ تہذیبی تصور محض رسمی نعرہ نہیں بلکہ انصاف، تحمل اور مکالمے کے عزم کا تقاضا کرتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔ جب اصولوں پر مبنی عالمی نظام دباؤ میں ہو تو خاموشی دستبرداری کے مترادف ہے۔ ہندوستان نے خود کو محض علاقائی طاقت نہیں بلکہ امن، خودمختاری اور انصاف کی آواز کے طور پر پیش کیا ہے۔ آج ضرورت ہے کہ ہم اسی اخلاقی قوت کو دوبارہ واضح اور پختہ انداز میں بیان کریں۔
(مضمون نگار سونیا گاندھی کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن اور راجیہ سبھا کی رکن ہیں۔ یہ تحریر دی انڈین ایکسپریس میں انگریزی میں شائع مضمون سے ماخوذ ہے)
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔