نیپال میں گلیشیئر جھیلیں پھٹنے کا خطرہ بڑھا، 47 جھیلوں سے کبھی بھی گرم ہو سکتا ہے موت کا بازار!

بتایا جا رہا ہے کہ جن 47 گلیشیئر جھیلوں میں گلوف آنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، ان میں سے 21 نیپال میں واقع ہیں اور 25 جھیلیں تبت میں ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>گلیشیئر جھیل، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/AIRNews_Chennai">@AIRNews_Chennai</a></p></div>
i

’انٹرنیشنل سنٹر فار انٹیگریٹیڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ‘ (آئی سی آئی ایم او ڈی) اور نیپال حکومت کے سائنسی جائزوں کے مطابق 47 گلیشیئر جھیلوں کو ’ممکنہ طور پر خطرناک گلیشیئر جھیلوں‘ (پی ڈی جی ایل ایس) کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان جھیلوں سے کبھی بھی ’گلیشیئل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ‘ (گلوف) آ سکتا ہے، جو نیپال کے دریائی نظام میں تباہ کن سیلاب کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو موت کا بازار گرم ہو جائے گا، جس میں لاشوں کے ڈھیر لگ جائیں گے۔

بتایا جا رہا ہے کہ جن 47 گلیشیئر جھیلوں میں گلوف آنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، ان میں سے 21 نیپال میں واقع ہیں اور 25 جھیلیں تبت میں ہیں۔ یہ جھیلیں ان دریاؤں کے بالائی حصے میں واقع ہیں جو جنوب کی جانب بہتے ہوئے نیپال میں داخل ہوتی ہیں۔ اس لیے یہ نشیبی علاقوں میں آباد برادریوں اور بنیادی ڈھانچے کے لیے ممکنہ خطرہ پیدا کرتی ہیں۔ اس پوری فہرست میں سے ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے کچھ تیزی سے پھیلنے والی، مورین (پتھروں اور ملبے) سے تیار بند نما جھیلوں کو خاص طور پر نشان زد کیا ہے۔ ان کے خطرے کو کم کرنے اور پانی کی سطح گھٹانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت بتائی گئی ہے۔


ان میں سب سے نمایاں جھیلیں لوئر برون (ٹال پوکھری)، تھولاگی (ڈونا)، لومڈنگ تسو، ہونگو-2/چاملانگ ساؤتھ، تسو رولپا اور امجا تسو ہیں۔ ان زیادہ خطرے والی جھیلوں سے پیدا ہونے والا خطرہ بنیادی طور پر ان پہاڑی اور کوہستانی اضلاع میں مرکوز ہے، جو نشیبی سمت بہنے والی دریائی وادیوں کے راستے میں واقع ہیں۔ اگر کوئی بڑا ’گلوف‘ آتا ہے تو ان علاقوں کے لوگوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مشرقی اور وسطی نیپال، جن میں کوشی اور باگمتی دریائی طاس شامل ہیں، وہاں مجموعی علاقائی خطرے کا 85 فیصد سے زیادہ حصہ حساس علاقوں میں مرکوز ہے۔

سب سے زیادہ خطرے والے اضلاع میں سولوکھمبو شامل ہے، جہاں دودھ کوشی اور امجا طاس واقع ہیں۔ سنکھوا سبھا ضلع برون اور ارون دریائی وادیوں کے کنارے واقع ہے۔ دولکھا ضلع تاما کوشی دریائی کوریڈور میں ہے اور تسو رولپا جھیل سے خطرے کا سامنا کر سکتا ہے۔ وہیں سندھ پال چوک ضلع بھوٹے کوشی اور سن کوشی دریائی وادیوں کے کنارے واقع ہے اور تبت میں سرحد پار واقع جھیلوں سے آنے والے ممکنہ سیلاب کے خطرے میں ہے۔ اس کے علاوہ رامے چھاپ، کاؤرے پالانچوک اور رسوا اضلاع میں دریاؤں کے کنارے آباد بستیاں بھی حساس مانی جاتی ہیں، خاص طور پر تریشولی دریائی طاس کے آس پاس کے علاقے۔


مغربی اور دور مغربی نیپال میں، جہاں گنڈکی اور کرنالی دریائی طاس پھیلے ہوئے ہیں، کئی اضلاع کی برادریوں اور پن بجلی کے منصوبوں پر بھی براہ راست خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ان میں منانگ اور لمجنگ اضلاع شامل ہیں، جو تھولاگی جھیل کے نیچے مارسیانگدی دریائی طاس میں واقع ہیں۔ اس کے علاوہ گورکھا ضلع بوڑھی گنڈکی طاس میں، مستنگ اور میاگدی اضلاع کالی گنڈکی طاس میں، جبکہ ہُملہ کے دور دراز علاقے، جن میں لیمی وادی اور ہُملہ کرنالی کوریڈور شامل ہیں، بھی ممکنہ طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔