نیپال میں ہلاکت خیز سیلاب کے درمیان 5.2 شدت کے زلزلہ سے سبھی خوفزدہ!

بتایا جا رہا ہے کہ ریکٹر اسکیل پر 5.2 شدت کے زلزلہ سے قبل بھی کم شدت کے کچھ جھٹکے محسوس کیے گئے تھے، جس کے بعد سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے شدید تباہی ہوئی۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i

نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بدھ کی دیر شام 5.2 شدت کا زلزلہ آیا، جس نے سبھی لوگوں کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق زلزلے کا مرکز کوڈاری سے تقریباً 55 کلومیٹر شمال مغرب میں تھا۔ یہ علاقہ لینڈ سلائیڈنگ کے لیے حساس ہے۔ زلزلے کی گہرائی اور نقصان کی سطح کے بارے میں فوری طور پر کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔ یہ زلزلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک میں اچانک آنے والے سیلاب سے 162 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بتایا جا رہا ہے کہ ریکٹر اسکیل پر 5.2 شدت کے زلزلہ سے قبل بھی کم شدت کے کچھ جھٹکے محسوس کیے گئے تھے، جس کے بعد سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے شدید تباہی ہوئی۔ یو ایس جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے حوالہ سے ’نیویارک ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ علاقہ میں محسوس کیے گئے جھٹکوں کو ابتدائی طور پر 4.4 شدت کا زلزلہ بتایا گیا تھا۔ بعد میں یو ایس جی ایس نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا کہ لینڈ سلائیڈنگ کی طاقت 5.2 شدت کے زلزلے کے برابر درج کی گئی۔ اس سے پہلے نیپال کے ایک عہدیدار نے کہا تھا کہ ممکن ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ زلزلے کی وجہ سے ہوئی ہو۔


قابل ذکر ہے کہ تبت کی جانب سے نیپال میں آئے سیلاب کی اس تباہی میں 1,000 سے زیادہ لوگ بہہ گئے ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان رسوا ضلع کو ہوا ہے۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق اب تک 750 سے زیادہ سیاح لاپتہ ہیں۔ رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ لاپتہ سیاحوں میں سے 400 سے زیادہ غیر ملکی شہری ہیں، جن میں 134 ہندوستانی شہری بھی شامل ہیں۔ اس آفت میں 157 سے زیادہ لوگوں کی موت سے متعلق تصدیق بھی ہو چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق سیلاب کے پانی میں کئی گاؤں بہہ گئے ہیں۔

اس سیلاب اور ندیوں کی طغیانی نے پورے نیپال کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حالات ایسے ہیں کہ مزید سیلاب کے خطرے، دشوار گزار پہاڑی علاقوں اور ٹوٹی ہوئی سڑکوں کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں کافی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اس کے باوجود امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور لوگوں کو بچانے کے لیے تقریباً ایک درجن ہیلی کاپٹر تعینات کیے گئے ہیں۔ نیپال کی فوج، آرمڈ پولیس فورس اور نیپال پولیس کے اہلکار یہ کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔ ہندوستان نے بھی نیپال کی مدد کے لیے ہیلی کاپٹر اور اہلکار بھیجے ہیں۔


کاٹھمنڈو کے مقامی صحافی اشوک ادھیکاری کے حوالہ سے ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیلاب کا ملبہ رسوا، نواکوٹ، سندھ پال چوک اور چتوان جیسے علاقوں تک پہنچ گیا ہے۔ نتیجتاً کم از کم 10 سے 12 اضلاع کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے اور ٹرانسپورٹ کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔ ہر جگہ یہی سوال ہے کہ لاپتہ لوگ کہاں ہیں؟ کون محفوظ ہے اور کون ملبے میں پھنسا ہوا ہے؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔