امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئے امن معاہدہ سے ہندوستان کے لیے 5 فائدوں کی راہ ہموار
خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے ہندوستانی کرنسی روپیہ کو بھی فائدہ ہوگا، جو عالمی کشیدگی کے دوران امریکی ڈالر کے مقابلے میں مسلسل کمزور ہو رہی تھی اور 95 کی سطح سے بھی آگے نکل چکی تھی۔

امریکہ اور ایران کے درمیان بالآخر جنگ بندی ہو ہی گئی۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امن معاہدے پر اتفاق کی خبر دے کر پوری دنیا کو راحت کی سانس لینے کا موقع فراہم کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث طویل عرصہ سے بند آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی ہٹا دی گئی ہے اور اسے دوبارہ کھولنے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان یہ امن معاہدہ ہندوستان کے لیے کئی اعتبار سے راحت بخش ثابت ہو سکتا ہے۔ خاص طور سے 5 بڑے فائدوں کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جو آنے والے دنوں میں ہندوستانی معیشت کو مضبوطی دے سکتی ہے۔ آئیے جانتے ہیں ان 5 فائدوں کے بارے میں...
پہلا فائدہ: تیل اور گیس کا بحران کم ہوگا
امریکہ-ایران امن معاہدہ کا اثر خام تیل پر نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔ پیر کے روز بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 5 فیصد کمی کے ساتھ 83 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کروڈ کی قیمت 5.50 فیصد گر کر 80 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ مربان کروڈ میں بھی تقریباً 7 فیصد کی مزید بڑی کمی آئی اور یہ تقریباً 77 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ ایران اور آبنائے ہرمز ہندوستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے سپلائی کا ایک اہم مرکز ہیں اور ہندوستان اپنی ضرورت کا تقریباً 85 فیصد تیل درآمد کرتا ہے، اس لیے یہ معاہدہ ملک میں تیل و گیس کے بحران کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسرا فائدہ: پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی سستے ہو سکتے ہیں
آبنائے ہرمز کے کھلنے اور تیل و گیس کی سپلائی چین میں بہتری آنے سے ملک میں ان کی درآمدات بڑھ جائیں گی، جس سے قلت ختم ہو سکتی ہے۔ خام تیل سستا ہونے سے پٹرول اور ڈیزل کی لاگت کم ہوگی اور ان کی قیمتوں میں مزید کمی آ سکتی ہے۔ یہ عام ہندوستانی کے لیے بڑی راحت ہوگی۔ گیس کی فراہمی میں رکاوٹیں دور ہونے سے ایل پی جی بحران بھی کم ہوگا اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں سلنڈروں کی قیمتیں گھٹا سکتی ہیں۔ اس سے نہ صرف عام لوگوں بلکہ صنعتوں کو بھی فائدہ ہوگا۔ ایندھن سستا ہونے سے مہنگائی پر قابو پانے میں مدد ملے گی کیونکہ نقل و حمل کے اخراجات کم ہوں گے اور کھانے پینے کی اشیا سمیت دیگر ضروری سامان کی قیمتوں میں بھی کمی آ سکتی ہے۔
تیسرا فائدہ: شیئر بازار کے رجحان میں بہتری
عالمی کشیدگی، جنگ اور جغرافیائی سیاسی تناؤ ایسے عوامل ہیں جو براہ راست شیئر بازار کو متاثر کرتے ہیں۔ ہندوستانی شیئر بازار بھی طویل عرصہ سے اس کے اثرات محسوس کر رہا ہے۔ چاہے اسرائیل-فلسطین جنگ ہو، روس-یوکرین جنگ ہو یا امریکہ-ایران تنازعہ، ہر پیش رفت کا اثر ہندوستانی بازار پر دیکھا گیا ہے۔ اس کی بڑی مثال یہ ہے کہ جیسے ہی ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امن معاہدے کا اعلان کیا، پیر کے روز بازار کھلتے ہی سینسیکس اور نفٹی میں زبردست تیزی دیکھی گئی۔ خاص طور پر تیل کی لاگت سے وابستہ شعبوں کے حصص میں نمایاں اضافہ ہوا۔
چوتھا فائدہ: روپے کو مضبوطی ملے گی
خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے ہندوستانی کرنسی روپیہ کو بھی فائدہ ہوگا، جو عالمی کشیدگی کے دوران امریکی ڈالر کے مقابلے میں مسلسل کمزور ہو رہی تھی اور 95 کی سطح سے بھی آگے نکل چکی تھی۔ اس کی ایک بڑی وجہ خام تیل ہی ہے، کیونکہ تیل سستا ہونے سے ہندوستان کا درآمدی بل کم ہوگا اور ملک کا تجارتی خسارہ بھی گھٹے گا۔ اس سے کرنسی پر دباؤ کم ہوگا اور روپے کو مضبوطی حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
پانچواں فائدہ: لاکھوں ہندوستانی تارکین وطن کو بڑی راحت
مشرق وسطیٰ کی جنگ نے نہ صرف درآمدات اور برآمدات کو متاثر کیا بلکہ خلیجی ممالک میں ملازمت کرنے والے لاکھوں ہندوستانیوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر دیں۔ رپورٹس کے مطابق تقریباً 90 لاکھ ہندوستانی خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں۔ امن معاہدہ ان ہندوستانی تارکین وطن کی سلامتی اور ان کے روزگار سے متعلق پیدا ہونے والے خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
