یہ کیسا امن معاہدہ؟ جنگ بندی کے چند ہی گھنٹوں بعد ایران کے آئل ریفائنری پر خوفناک حملہ
حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 10 بجے ہوا۔ سرکاری ٹیلی ویژن نے بتایا کہ جنگی طیارے موقع پر آگ بجھانے کے لیے تعینات ہیں۔ اس واقعہ میں کسی جانی نقصان کی خبر نہیں ہے۔

امریکہ کے ذریعہ مشروط جنگ بندی کا اعلان کیے جانے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد ایران کے لاون جزیرہ میں پہلا بڑا حملہ ہوا ہے۔ یہ حملہ لاون جزیرہ پر ایک آئل ریفائنری میں بدھ کی صبح ہوا جو فکر انگیز ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے پی نے ایرانی میڈیا کے سرکاری ٹیلی ویژن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ حملہ جنگ بندی کا اعلان ہونے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد ہوا ہے۔
موصولہ اطلاع کے مطابق حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 10 بجے ہوا۔ سرکاری ٹیلی ویژن نے بتایا کہ جنگی طیارہ موقع پر آگ بجھانے کے لیے تعینات ہے۔ اس واقعہ میں کسی بھی طرح کے جانی و مالی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ ایرانی افسران کی مانیں تو اب تک یہ جانکاری نہیں ملی ہے کہ ریفائنری پر حملہ کرنے کے لیے کون ذمہ دار ہے۔ حملہ جنگ بندی کا اعلان ہونے کے فوراً بعد ہوا ہے۔ رپورٹ میں دیگر کسی طرح کی جانکاری نہیں دی گئی ہے۔
ایران کا لاون جزیرہ خلیج فارس میں موجود اسٹریٹجک طور سے اہم جزیرہ ہے۔ یہ تقریباً 78 اسکوائر کلومیٹر میں پھیلا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ لاوَن سے ایران بڑی مقدار میں خام تیل برآمد کرتا ہے۔ یہ ایک خام تیل برآمدگی کا ٹرمینل ہے۔ یہاں کثیر مقدار میں تیل ریفائن کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں لاوَن کا گیس ایریا بھی ہے۔ آبنائے ہرمز سے یہ تقریباً 450 سے 500 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 40 دنوں سے جاری اس جنگ کو لے کر امریکہ نے مشروط جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ ایران اور امریکہ دونوں ہی فریقین نے ایک دوسرے پر آئندہ 2 ہفتوں تک حملہ نہ کرنے کے لیے امن معاہدہ کیا ہے۔ حالانکہ اسرائیل اس جنگ بندی سے خوش دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ کچھ بیانات ایسے سامنے آئے ہیں، جس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ اسرائیل اپنی کارروائی روکنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔