طالبان کی ہندوستان کے ساتھ بات چیت شروع!

دوحہ میں طالبانی وفد نے ہندوستانی سفارت کار دیپک متل سے ملاقات کی اور کہا کہ افغانستان کی زمین کا استعمال کسی بھی طرح سے ہندوستان مخالف سرگرمیوں اور دہشت گردی کے لیے نہیں کیا جائے گا۔

طالبان لیڈروں کی فائل تصویر
طالبان لیڈروں کی فائل تصویر
user

قومی آوازبیورو

افغانستان سے امریکہ کی واپسی کے فوراً بعد طالبان نے ہندوستان کے ساتھ بات چیت شروع کر دی ہے۔ وزارت داخلہ نے بتایا کہ منگل کو دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے چیف یر محمد عباس اسٹینکزئی نے ایک وفد کے ساتھ قطر میں ہندوستانی سفیر دیپک متل سے ملاقات کی۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس ملاقات میں افغانستان میں پھنسے ہندوستانی شہریوں کی سیکورٹی اور جلد واپسی کو لے کر بات چیت ہوئی۔

ہندوستان نے پہلی بار دونوں فریقین کے درمیان ہوئی میٹنگ کو برسرعام کیا ہے۔ وزارت داخلہ نے کہا کہ ’’یہ میٹنگ طالبانی فریق کی گزارش پر ہندوستانی سفارتخانہ، دوحہ میں ہوئی۔‘‘ جاکاری کے مطابق اس میں افغانستان میں پھنسے ہندوستانی شہریوں کی سیکورٹی اور جلد گھر واپسی پر بات چیت ہوئی۔ افغان شہریوں، خصوصً اقلیتوں، جو ہندوستان کا سفر کرنا چاہتے ہیں، کے سفر کو لے کر بھی بات چیت ہوئی۔


سفارت کار دیپک متل نے ہندوستان کی فکر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی زمین کا استعمال کسی بھی طرح سے ہندوستان مخالف سرگرمیوں اور دہشت گردی کے لیے نہیں کیا جانا چاہیے۔ وہیں اسٹینکزئی نے ہندوستانی سفیر کو یقین دلایا کہ ان ایشوز سے مثبت طریقے سے نمٹا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے چیف شیر محمد عباس اسٹینکزئی، جنھیں شیرو کے نام سے جانا جاتا ہے، انھوں نے 1982 میں ہندوستانی فوجی اکادمی میں فوجی تربیت حاصل کی تھی اور وہ طالبان حکومت کے دوران نائب وزیر صحت کے عہدہ تک پہنچ چکے ہیں۔ بعد میں انھوں نے دوحہ میں ایک اہم امن مذاکرہ کار کی شکل میں کام کیا۔ وہ طالبان حکومت کے خارجہ معاملوں کے نائب وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ 58 سالہ پشتون اسٹینکزئی قبیلے سے آتے ہیں۔ وہ پانچ زبان بولنے میں اہل ہیں اور انھوں نے 19-2015 کے درمیان طالبان کے سیاسی دفتر کے چیف کی شکل میں کام کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔