اے ایس آئی اسٹاف کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی تو تاج محل کو بند کر دیں گے: راشٹریہ ہندو پریشد

اے ایس آئی افسر کا کہنا ہے کہ بغیر اجازت کے کسی بھی محفوظ یادگار پر تشہیری سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ کرشن کی شکل اختیار کیے شخص کو تاج محل میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

تاج محل، تصویر آئی اے این ایس
تاج محل، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

راشٹریہ ہندو پریشد (بھارت) نامی تنظیم سے جڑے کچھ لوگوں نے تاج محل کے مغربی دروازے پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور کہا کہ اگر بھگوان کرشن کی شکل اختیار کیے شخص کو تاج محل احاطہ میں داخل نہ ہونے دینے والے اے ایس آئی اسٹاف کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی تو تاج محل کو بند کر دیا جائے گا۔ تنظیم نے اے ایس آئی (آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا) کے افسران کو اس کے اسٹاف اراکین کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے کرشن کی شکل میں پہنچے مہمان کی بے عزتی کی ہے، انھیں معاف نہیں کیا جا سکتا۔

اس واقعہ کے تعلق سے آثار قدیمہ نگراں (آگرہ سرکل) وسنت سورنکار کا کہنا ہے کہ بغیر قبل اجازت کے کسی بھی محفوظ یادگار پر تشہیری سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قوانین و ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے کرشن کی شکل اختیار کیے شخص کو تاج محل میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اے ایس آئی افسران کا کہنا ہے کہ ماضی میں کئی بار ایسا ہوا ہے جب رام دوپٹہ پہنے لوگوں کے گروپ کو تاریخی یادگار میں داخلے سے روک دیا گیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔