پھر افغان شہریوں نے پاکستان کے خلاف کیا مظاہرہ، افغانستانی امور میں مداخلت نہ کرنے کا مطالبہ

افغانستان کے باشندوں نے دہلی کے چانکیہ پوری علاقہ میں جمع ہو کر ایک بار پھر اپنا احتجاج درج کرایا، اس سے قبل 10 ستمبر کو بھی پاکستان کے خلاف افغان شہریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد سے ہی ہندوستان مین مقیم افغان شہری پاکستان کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہر کر رہے ہیں۔ دہلی میں افغان شہریوں نے ایک ہفتہ میں دوسری مرتبہ پاکستان کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا، اور آج ایک بار پھر یہ مطالبہ کیا کہ پاکستان افغانستان کے معاملوں میں مداخلت بند کرے۔ منگل کی دوپہر افغان باشندوں نے دہلی کے چانکیہ پوری علاقے میں جمع ہو کر اپنا احتجاج درج کیا۔ اس سے قبل 10 ستمبر کو بھی پاکستان کے خلاف افغان شہریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔

افغان شہریوں کا کہنا ہے کہ طالبان ایک سفید جانور کی طرح ہے اور سفید جانور پر کوئی بھروسہ نہیں کرتا ہے، پاکستان انھیں ابھی ڈیولپ کر رہا ہے۔ طالبانی افغان کے لوگ نہیں ہیں، یہ پاکستانی ہیں۔ اگر طالبان کا کوئی آدمی مرتا ہے تو ان کی جیب سے پاکستانی شناختی کارڈ نکلتا ہے۔


5 سال سے دہلی میں مقیم افغان شہری مصطفیٰ انصاری نے خبر رساں ادارہ آئی اے این ایس کو بتایا کہ ’’ہم پاکستان کے خلاف احتجاج درج کرا رہے ہیں کیونکہ پاکستان ہمارے ملک میں مداخلت کر رہا ہے اور طالبان کو اپنی حمایت دے رہا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہمیں ابھی تک کوئی مدد نہیں ملی ہے، سب کو معلوم ہے کہ پاکستان نے پنج شیر کے اوپر ائیر اسٹرائیک کیا اور اس کا حق نہیں بنتا ہے کہ دوسرے ملک کے معاملوں میں مداخلت کرے۔‘‘ مصطفیٰ انصاری کا کہنا ہے کہ افغانستان میں حالات اتنے ٹھیک نہیں ہیں، اپنے اہل خانہ سے بات کرنے پر پتہ چلا کہ وہ گھر سے باہر نہیں نکل پا رہے ہیں۔ ہم 20 سال پہلے بھی طالبان کا تجربہ کر چکے ہیں۔

دراصل طالبان نے 15 اگست کو پنج شیر کو چھوڑ کر پورے افغانستان پر قبضہ کر لی تھا۔ حالانکہ اس کے کچھ دنوں بعد طالبان نے پنج شیر وادی پر قبضہ کا بھی دعویٰ کیا۔ طالبانیوں کے اس قبضہ کے خلاف کئی افغانی شہری آواز اٹھا رہے ہیں اور پاکستان کے ذریعہ طالبان کی حمایت پر بھی ناراض ہیں۔ پاکستان کے خلاف مظاہرہ کر رہے ایک افغان شہری نے بتایا کہ ’’افغان کی حکومت گرنے کے بعد طالبان کی نئی حکومت آئی ہے، اس لیے ہم احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ بے گناہ لوگوں کی جان جا رہی ہے، ساتھ ہی پنج شیر پر حملے ہو رہے ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔