پلکھوا لنچنگ: قاسم کے قاتل کو 20 دن میں ملی ضمانت

قاسم کے قاتل یودھشٹر کو 20 دن میں ضمانت ملنے سے قاسم کی فیملی صدمے میں ہے۔ اس خبر سے مایوس قاسم کے بھائی سلیم کا کہنا ہے کہ ’’اب مجھے انصاف کی کوئی امید نہیں۔‘‘

تصویر قومی آواز/آس محمد
تصویر قومی آواز/آس محمد
user

آس محمد کیف

ہاپوڑ: پلکھوا موب لنچنگ میں مارے گئے قاسم کے گھر میں ایک بار پھر ماتم کا ماحول ہے۔ حیرت انگیز طور پر ہاپوڑ کی ایک سیشن عدالت نے ہی قاسم کے قتل کے معاملے میں گرفتار کیے گئے بجھیڑا گاؤں کے اہم ملزم کو محض 20 دن میں ضمانت دے دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قاسم قتل معاملہ: گائے کاٹنے کی افواہ نے ایک مسلمان کی پھر جان لے لی

ابھی اس معاملے میں گرفتاری چل رہی ہے اور قاسم کے گھر والوں کو اپنا وکیل تک کھڑا کرنے کا موقع نہیں ملا۔ سرکاری وکیل نے ان کی بات کس طرح رکھی اس کی بھی انھیں جانکاری نہیں ہے۔ مقامی پولس نے قاسم کے گھر والوں کو یہ بھی نہیں بتایا کہ ملزم کی طرف سے کسی نے عدالت میں ضمانت کی عرضی داخل کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یو پی: گئو کشی کی افواہ پر مسلم نوجوان کا پیٹ پیٹ کر قتل

سیشن جج رینو اگروال نے ایک لاکھ روپے کے مچلکہ پر شیو دیال کے بیٹے یودھشٹر کو ضمانت دے دی۔ اس خبر کے بعد مقامی سطح پر ایک بار پھر ماحول خراب ہو گیا ہے۔ کل یودھشٹر کو ضمانت مل گئی تھی اور خاص بات یہ ہے کہ کل ہی اس واقعہ میں زخمی 67 سالہ سمیع الدین کو اسپتال سے چھٹی ملی ہے۔

دھیان دینے والی بات یہ ہے کہ یودھشٹر کی نامزدگی نہیں کی گئی تھی لیکن زخمی سمیع الدین کے ذریعہ پولس کو دیے گئے بیان کی بنیاد پر اسے ملزم بنایا گیا تھا۔ واقعہ سے اگلے دن ہی اسے دوسرے ملزم راکیش کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ آئندہ پیر کے روز راکیش کی ضمانت پر سماعت ہونی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بے دم قاسم کو مارتے رہے شرپسند عناصر، پولس دیکھتی رہی تماشا

قابل ذکر ہے کہ عید کے دو دن بعد پلکھوا کے بجھیڑا گاؤں میں گئو کشی کی افواہ پر قاسم کا پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا تھا جس میں قاسم کو بچانے آئے ایک بزرگ کسان سمیع الدین کی بھی بری طرح پٹائی کی گئی تھی۔ 302/307 جیسے سنگین جرائم میں ایک مہینے سے بھی کم وقت میں ضمانت ہو جانا حیران کرنے والا ہے۔

اس ضمانت کے بعد قاسم کے گھر والے صدمے میں ہیں۔ قاسم کے بھائی سلم کا کہنا ہے کہ ’’کبھی کبھی ماحول خراب کرنے کے معاملے میں بھی ملزم کو باہر آنے میں ایک مہینے لگ جاتے ہیں اور یہاں قتل جیسے جرم میں 20 دن میں ضمانت دے دی گئی۔ اب مجھے انصاف کی کوئی امید نہیں۔‘‘ ہاپوڑ کے وکیل شاہد اس ضمانت پر حیرانی ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’اس ضمانت کو منسوخ کرانے کی کارروائی کی جانی چاہیے۔ ابھی ملزم پوری طرح گرفتار بھی نہیں ہوئے ہیں کہ ایک ملزم کوضمانت مل گئی۔‘‘ یودھشٹر کی ضمانت اس لیے بھی حیران کرنے والی ہے کیونکہ چار سال قبل مظفر نگر کے کوال میں موب لنچنگ میں مارے گئے گورو سچن کے قتل کے ملزمین کی ضمانت پر ابھی تک سماعت بھی نہیں ہوئی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔