اب گولی سے کورونا کا ہوگا خاتمہ، فائزر کی دوا کو یوروپین یونین نے دی منظوری

گزشتہ سال کے آخر میں ای ایم اے کے ذریعہ اس کے ایمرجنسی استعمال کے لیے رہنمائی کیے جانے کے بعد منظوری نے یوروپی یونین کی رکن ریاستوں کو دوا کے استعمال کی اجازت دی۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

یوروپین میڈیسن ایجنسی (ای ایم اے) نے سنگین بیماری کے جوکھم والے بالغوں کے علاج کے لیے امریکہ کثیر ملکی بایو ٹیکنالوجی فرم فائزر کی کورونا گولی کے استعمال کو شرط کے ستھ منظوری دی ہے۔ خبر رساں ایجنسی سنہوا کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے آخر میں ای ایم اے کے ذریعہ اس کے ایمرجنسی استعمال کے لیے رہنمائی کیے جانے کے بعد منظوری نے یوروپی یونین کی رکن ریاستوں کو دوا کے استعمال کی اجازت دی۔

ای ایم اے نے ایک بیان میں کہا کہ ’’لوگوں کے استعمال کے لیے دوائی مصنوعات کی کمیٹی (سی ایچ ایم پی) نے بالغوں میں کورونا کے علاج کے لیے اینٹی وائرل دوا پیکسلووِد کے لیے شرط کے ساتھ مارکیٹنگ اتھارٹی دینے کی سفارش کی تھی، جنھیں متبادل آکسیجن کی ضرورت نہیں ہے اور جن میں سنگین خطرہ ہے۔‘‘

پیکسلووِد یوروپی یونین میں کورونا کے علاج کے لیے مشورہ کی گئی پہلی اینٹی وائرل دوا ہے۔ اس میں ایک ساتھ پیک کیے گئے دو سرگرم اشیاء ہیں۔ ایک جسم میں سارس-کوو-2 کی ضرب کرنے کی صلاحیت کو کم کرتا ہے، جب کہ دوسرا پہلی شئے کو جسم میں ان سطحوں پر طویل مدت تک رہنے میں اہل بناتا ہے جو وائرس کے ضرب کو متاثر کرتے ہیں۔


ای ایم اے نے کہا کہ انھوں نے کورونا سے جڑے مریضوں کے مطالعہ کے اعداد و شمار کا جائزہ کیا، جس سے پتہ چلا کہ پیکسلووِد کے ساتھ علاج نے کم از کم ایک مشکل حالات والے مریضوں میں اسپتال میں داخل ہونے اور موت کے جوکھم کو کافی کم کر دیا۔ تحقیق میں شامل بیشتر مریض کورونا وائرس کے ڈیلٹا ویریئنٹ سے متاثر تھے۔ تجربہ گاہ میں ہوئی تحقیق کی بنیاد پر پیکسلووِد اومیکرون اور دیگر شکلوں کے خلاف بھی اثردار ہونے کی امید ہے۔ ای ایم اے نے کہا کہ گولی کے منفی اثرات انتہائی ہلکے ہیں۔ ای ایم اے کی سفارش سبھی یوروپی یونین کی رکن ریاستوں میں نافذ ہونے والے فوری فیصلے کے لیے یوروپی کمیشن کو بھیجی گئی تھی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔