بی جے پی چھوڑ کانگریس کے لیے بلے بازی کریں گے کیرتی آزاد!

بہار میں بی جے پی کے مشہور چہرہ کیرتی آزاد پارٹی کے ذریعہ معطل کیے جانے سے ناراض ہیں اور جس طرح انھوں نے راہل گاندھی کی تعریف کی، ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ اب کانگریس میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

سابق کرکٹر اور بی جے پی کے معطل رکن پارلیمنٹ کیرتی آزاد نے بی جے پی کو پوری طرح چھوڑنے کا ارادہ بنا لیا ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بہت جلد وہ کانگریس میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔ ایک ہندی نیوز ویب سائٹ سے بات چیت کے دوران انھوں نے جس طرح سےارون جیٹلی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور راہل گاندھی کی کھل کر تعریف کی، اس سے تو یہی اشارہ مل رہا ہے۔ کیرتی آزاد نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ان کے والد بھی کانگریسی رہے ہیں۔

گفتگو کے دوران کیرتی آزاد نے کہا کہ میں نے تو وزیر اعظم نریندر مودی کے ’نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا‘ کے نعرےپر ہی عمل کرتا رہا۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرے خلاف کارروائی کیوں ہوئی؟ جیٹلی کے خلاف بولتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ زمینی لیڈر نہیں ہیں کیونکہ جو مودی لہر میں ہار گیا وہ عوام کا لیڈر کیسے ہو سکتا ہے؟ کیرتی آزاد 2019 کے انتخابات میں کسی قومی پارٹی کی طرف سے انتخاب لڑنے کی خواہش رکھتے ہیں اور جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ ملک میں تو دو ہی قومی پارٹی ہے... تو انھوں نے راہل گاندھی کی تعریف شروع کر دی۔

کانگریس صدر راہل گاندھی سےمتعلق بات کرتے ہوئے کیرتی آزاد نے کہا کہ ’’راہل گاندھی اچھے لیڈر ہیں، لیکن ملک کی عوام جب انھیں موقع دے گی تبھی پتہ چلے گا کہ مودی اور ان میں بہتر کون ہے۔‘‘ بی جے پی کے خلاف بھی کیرتی آزاد نے بے جھجک اپنی رائے ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ وہاں تو ممبران پارلیمنٹ کی ہی نہیں سنی جا رہی ہے۔ بہار حکومت کے بارے میں بولتے ہوئے کیرتی آزاد نے نتیش کمار کو ناکام قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ بہار میں نتیش کمار فیل ہو رہے ہیں۔ مظفر پور شیلٹر ہاؤس عصمت دری معاملہ پر بھی انھوں نے نتیش حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

کیرتی آزاد کی کانگریس میں دلچسپی کا اشارہ ملنے کے بعد بہار میں کانگریس لیڈر راجیش للوٹیا نے کہا ہے کہ کانگریس بڑے دل والوں کی پارٹی ہے، جو بھی کانگریس کے نظریہ کا احترام کرے گا اس کے لیے پارٹی کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ بہر حال، کیرتی آزاد بی جے پی کے ٹکٹ پر تین مرتبہ دربھنگہ سے ممبر پارلیمنٹ رہ چکے ہیں لیکن پارٹی مخالف سرگرمیوں کا حوالہ دے کر انھیں فی الحال پارٹی نے معطل کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کانگریس میں اپنی زمین تلاش کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ باضابطہ طور پر وہ کانگریس میں کب شامل ہوتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔