پریہ دت کا لوک سبھا الیکشن لڑنے سے انکار، مسلم امیدواری کے امکانات روشن

مسلمانوں کے ایک حلقہ نے کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ ممبئی میں کسی بھی لوک سبھا حلقہ سے مسلم امیدوار کو موقع دیا جائے۔ پریہ کے فیصلہ کے بعد ممبئی شمال وسطیٰ سے مسلم امیدواری کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

کانگریس کی سابق ایم پی اور مہاراشٹر میں پارٹی کا معروف چہرہ پریہ دت نے ممبئی شمال وسطی لوک سبھا حلقہ سے 2019 کا الیکشن لڑنے سے انکار کردیا ہے۔ اس تعلق سے سابق ایم پی نے کانگریس کے صدرراہل گاندھی کو ایک مکتوب روانہ کیا ،جس میں انہوں نے واضح طورپر کہا ہے کہ وہ اس مرتبہ عام انتخابات نہیں لڑنا چاہتیں۔ واضح رہے کہ ممبئی میں مسلمانوں کے ایک حلقہ نے کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ ممبئی میں کسی بھی لوک سبھا حلقہ سے مسلم امیدوار کو موقع دیا جائے اور پریہ دت کے فیصلہ کے بعد ممبئی شمال وسطیٰ سے مسلم امیدواری کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔یہاں سے مسلم امیدوار کی امیدیں اس لیے بھی بڑھ گئی ہیں کیونکہ اس حلقہ میں تقریباً پانچ لاکھ مسلم رائے دہندگان ہیں۔

ذرائع کے مطابق پریہ دت نے کانگریس کی ممبئی شاخ میں گروپ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے اسی وجہ سے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے ۔انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ’’کانگریس میں بار بار یہ دیکھا گیا ہے کہ پارٹی میں ایک ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے کانگریس خود کانگریس کو تباہ کرنے پر آمادہ ہے اور اس کا سنجیدگی سے علاج کرنا ہوگا۔‘‘ پریہ دت نے راہل گاندھی کو ایک اچھا لیڈرقراردیا تھا ،جب وہ کانگریس کے نائب صدرتھے اور یہ بھی کہا تھا کہ انہیں پارٹی کی قیادت کرنی چاہئے ۔واضح رہے کہ 2014کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج سامنے آئے کے بعد پریہ دت نے راج ببر اور ستیہ وادی چترویدی کے ساتھ ہی راہل گاندھی کی ٹیم کونشانہ بنایا تھا۔اور دعویٰ کیا تھا کہ ان لوگوں کو رائے دہندگان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔انہوں نے منتخب نمائندوں کو پارٹی میں مزید اختیارت کا مطالبہ کیا تھا۔ستمبر 2018میں انہیں اے آئی سی سی سکریٹری شپ سے ہٹائے جانے پرکانگریس لیڈراشوک گہیلوٹ کو اسی انداز میں جواب دیا تھا۔انہوں نے ایک عام سا خط لکھ کر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کا شکریہ اداکیا تھا ،جنہوں نے انہیں سکریٹری کی ذمہ داری سونپی اور انہوں نے اپنا کام بہتر انداز میں کیا ہے۔

ممبئی کے شمال وسطی لوک سبھا حلقہ سے ایک عرصہ سے مسلم امیدواری کا مطالبہ جاری ہے حال میں ممبئی میں اقلیتی فرقہ کے امیدوار کے سلسلہ میں ایک مہم مسلم حلقہ میں چلائی گئی تھی ،بتایا جاتا ہے کہ کانگریس کے حلقوں میں شمال وسطی ممبئی سے جن امیدواروں کے ناموں پر غورکیا جارہا ہے ،ان میں سابق ریاستی وزیرعارف نسیم خان،سابق ایم پی اور کرکٹرمحمد اظہر الدین ،ایم آرسی سی جنرل سکریٹری ذاکر احمد اور سابق ایم ایل اے ضیاء الدین صدیقی عرف بابا صدیقی شامل ہیں اور اسی وجہ سے مسلم امیدوارکوٹکٹ دینے کے امکانات روشن ہیں۔ اس کی نشاندہی رضا اکیڈمی کے صدر سعید نوری نے کرائی ہے،کیونکہ ان کے مطابق مذکورہ حلقہ میں اقلیتی فرقہ کے تقریباً پانچ لاکھ رائے دہندگان شمال وسطی(نارتھ سینٹرل) لوک سبھا حلقہ میں ہیں اورفلم اداکار اورسابق ایم پی سنیل دت اور پھر ان کی صاحبزادی پریہ دت ایک عرصہ سے کامیابی حاصل کررہے ہیں اور ان کی کامیابی اقلیتی ووٹوں کی مرہون منت رہی ہے۔اس لیے یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اسی حلقہ سے مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیا جائے۔

واضح رہے کہ ممبئی کے چھ لوک سبھاحلقوں میں سے جنوبی ممبئی اور شمال وسطی ممبئی کے حلقے ایسے ہیں جن میں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں ،تقریباً 22سال قبل جنوب وسطی ممبئی سے کانگریس کے ٹکٹ پر انجمن اسلام کے مرحوم صدر ڈاکٹر محمد اسحق جمخانہ والا کو ٹکٹ دیا تھا ،لیکن 1996کے عام انتخابات میں بھگوا لہر اور بی جے پی۔شیوسینا کے درمیان انتخابی سمجھوتہ کے پیش نظر انہیں کامیابی نہیں حاصل ہوئی تھی ،اس کے بعد کانگریس نے کسی بھی مسلم کو پارٹی کا امیدوار نہیں بنایا ہے ،جبکہ شمال وسطی لوک سبھا حلقہ میں مسلمانوں کو کئی لاکھ ووٹ ہیں۔ ممبئی اور مہاراشٹر میں مسلم علمائے کرام ،دانشوروں،تعلیمی میدان اور سیاسی حلقوں میں سرگرم معززین عام شہریوں کا کہنا ہے کہ کانگریس کے قومی صدرراہل گاندھی نے سیکولرزم اور جمہوریت کی بقا کیلیے جو بیڑہ اٹھایا ہے ،اْس کے لیے یہ ضروری ہے کہ اقلیتی فرقہ کے نمائندے کو اس بار موقعہ دیا جائے ،اس مطالبہ اور دیگر امور پر غورکرنے کیلئے یکم جنوری کو کانگریس پارٹی کی ایک میٹنگ ہونیوالی تھی ،لیکن فی الحال اس میٹنگ کو ملتوی کیا گیا ،جس کا مقصد ان چھ حلقوں میں بہتر اور طاقتورامیدوار کو ٹکٹ دینے کے سلسلہ میں غورکرناہے ،ویسے عام طورپر شمال مغربی لوک سبھا حلقہ میں اقلیتی امیدوار کو ٹکٹ دینے کی بات کی جارہی ہے ،جہاں 2014کے انتخابات میں بی جے پی کی پونم مہاجن نے کانگریس امیدوار پریہ دت کو شکست دے دی تھی۔

جمعیتہ علماء قانونی سیل کے انچارج گلزاراعظمی،علما ء کونسل کے سربراہ مولانامحمود دریابادی اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے ممبر حافظ سیداطہرعلی نے بھی اس طرح کے مطالبہ کی حمایت کی ہے۔بلکہ اس طرح کا مطالبہ 2009 سے کرتے آئے ہیں۔یہ مسلمانوں کا ایک دیرینہ خواب ہوگا اور اس فیصلہ کی وجہ سے ان میں اس بات کا اعتماد پیدا ہوگا کہ ان کا خیال رکھا جاتا ہے اور ان کی سنی جاتی ہے۔