کرناٹک معاملہ: رات 2 بجے سے صبح 5 بجے تک سپریم کورٹ میں کیا ہوا ...

سپریم کورٹ نے یدیورپّا کی حلف برداری پر روک لگانے سے انکار کردیا لیکن انھیں حامی ممبران اسمبلی کی فہرست اور ان کے ذریعہ گورنر کو 15 اور 16 مئی کو لکھی چٹھیاں جمعہ تک عدالت میں جمع کرانے کو کہا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے فی الحال بی ایس یدیورپّا کو وزیر اعلیٰ کےعہدہ کا حلف لینے سے نہیں روکا لیکن عدالت نے یدیورپّا سے حامی ممبران اسمبلی کی فہرست طلب کی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے سامنے وہ دونوں خط بھی پیش کریں جو انھوں نے 15 اور 16 مئی کو کرناٹک کے گورنر کو سونپے تھے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی آئندہ سماعت کل یعنی جمعہ کی صبح 10.30 بجے کرنے کو کہا ہے۔

سپریم کورٹ میں دیر رات 2 بجے سے لے کر صبح تقریباً سوا پانچ بجے تک اس معاملے پر سماعت ہوئی۔ دراصل کرناٹک کے گورنر کے ذریعہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود بی ایس یدیورپّا کو حکومت بنانے کی دعوت دیے جانے پر کانگریس اور جے ڈی ایس نے اس معاملے کو عدالت میں لے جانے کا اعلان کیا۔

کانگریس اور جے ڈی ایس کے وکیل ابھشیک منو سنگھوی نے رات تقریباً 10.30 بجے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو اپنی عرضی دی۔ اس عرضی میں بی ایس یدیورپّا کو وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف دلائے جانے کو غیر آئینی بتایا گیا اور کہا گیا کہ یدیورپّا کو اکثریت ثابت کرنے کے لیے 15 دن کا وقت دینے کا مطلب یہی ہے کہ انھیں ممبران اسمبلی کو توڑنے یا خرید و فروخت کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔

کانگریس-جے ڈی ایس کی عرضی ملنے کے بعد رجسٹرار رات تقریباً 11 بجے چیف جسٹس دیپک مشرا کے گھر پہنچے۔ تقریباً ایک گھنٹے کی بات چیت کے بعد چیف جسٹس نے اس معاملے میں تین ججوں کی بنچ تشکیل دی۔ اس بنچ میں جسٹس اے کے سیکری، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس شرد اروِند بوبڈے کو شامل کیا گیا۔

معاملے کی سماعت رات تقریباً 2 بجے شروع ہوئی۔ کانگریس و جے ڈی ایس کی طرف سے ابھشیک منو سنگھوی اور بی جے پی کی طرف سے مکل روہتگی کے علاوہ اٹارنی جنرل وینو گوپال پیش ہوئے۔

بحث کی شروعات ابھشیک منو سنگھوی نے کی۔ انھوں نے دلیل پیش کی کہ جب کسی پارٹی کے پاس اکثریت نہیں ہے تو گورنر نے بی جے پی لیڈر بی ایس یدیورپّا کو حکومت بنانے کے لیے کیوں مدعو کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی کے پاس صرف 104 ممبران اسمبلی ہیں۔ سنگھوی نے کہا کہ گورنر نے اکثریت ثابت کرنے کے لیے پہلی بار کسی پارٹی کو 15 دن کا وقت دیا جب کہ یدیورپّا نے خود 7 دن کا وقت مانگا تھا۔

سنگھوی نے گوا کا حوالہ دے کر کہا کہ ہمارے پاس 117 جب کہ بی جے پی کے پاس صرف 104 ممبران اسمبلی ہیں تو پھر وہ اکثریت کیسے ثابت کرے گی؟ انھوں نے کہا کہ جب کسی پارٹی کے پاس اکثریت نہیں ہے تو گورنر کا یہ فیصلہ پوری طرح سے غیر آئینی ہے۔ سنگھوی نے کہا کہ یدیورپّا کے ساتھ جب تک 8 ممبر اسمبلی نہیں آ جاتے اس وقت تک وہ اکثریت کیسے ثابت کر سکتے ہیں؟

اس درمیان جسٹس سیکری نے کہا کہ گورنر نے اپنے شعور کا استعمال کیا تو ہم ایسے معاملے میں دخل کیسے دے سکتے ہیں؟ یہ فیصلہ حکومت کی صلاح پر نہیں تھا، یہ گورنر کے خصوصی اختیار کا معاملہ ہے۔

جسٹس سیکری نے سنگھوی سے سوال کیا کہ آپ جو بی جے پی کی حکومت سازی کے دعویٰ سے متعلق کہہ رہے ہیں، ہو سکتا ہے وہ سچ ہو پر ہم کیسے مان لیں؟ اس کے جواب میں سنگھوی نے کہا کہ آپ میرٹ پر فیصلہ کریں۔ اس کے بعد سنگھوی نے کہا کہ آخر حلف برداری کی اتنی جلدی کیوں ہے، یہ حلف برداری دو دن بعد بھی تو ہو سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ آئین کی دفعہ 356 کے تحت صدر راج کو روک سکتا ہے تو گورنر کے حکم کو کیوں نہیں؟

لیکن اس سے پہلے عدالت نے سنگھوی کی اپیل کی میرٹ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کے پاس گورنر کی بی جے پی کو حکومت بنانے کی دعوت دینے والی چٹھی ہی نہیں تو کیسے دلیل سنیں؟ عدالت نے سنگھوی سے بی جے پی کے ذریعہ حکومت سازی کا دعویٰ پیش کرنے والی چٹھی بھی طلب کی۔

اس کے بعد سابق اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے اپنی دلیل میں کہا کہ گورنر کے فیصلے پر روک نہیں لگائی جا سکتی۔ انھوں نے کہا کہ گورنر کو پارٹی نہیں بنایا جا سکتا۔ روہتگی نے مزید کہا کہ جگدمبیکا پال اور جھارکھنڈ میں مناسب اکثریت کی حکومت بنوانے کے جن واقعات کا تذکرہ سنگھوی نے کیا اُن دونوں فیصلوں کی ہر جگہ تنقید ہوئی، عدالتوں میں بھی اور میڈیا میں بھی۔

لیکن عدالت نے مکل روہتگی سے بی جے پی کی حمایت کی چٹھی مانگی۔ اس پر ان کا جواب تھا کہ اس معاملے کی سماعت رات میں نہیں ہونی چاہیے تھی، میرے پاس چٹھی نہیں ہے۔ عدالت نے یہی سوال اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال سے پوچھا تو ان کا بھی جواب تھا کہ میں مرکزی حکومت کی طرف سے آیا ہوں، مجھے گورنر کی چٹھی کے بارے میں معلوم نہیں۔

اسی درمیان جسٹس بوبڈے نے پوچھا کہ بی جے پی کو کرناٹک میں 15 دن کیا کرنے کے لیے چاہیے؟ اس کے جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ 15 دن میں آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا۔ جسٹس سیکری نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ آپ کے پاس اکثریت نہیں ہے، کیسے ثابت کرو گے؟ تو ان کا جواب تھا مجھے نہیں پتہ اور ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا ہے۔ عدالت نے جب پوچھا کہ آپ کے نمبر تو ایسا نہیں بتاتے تو ان کا جواب یہی تھا، ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ عدالت نے کہا کہ ایسی حالت میں تو آپ فلور ٹیسٹ میں فیل ہو سکتے ہو، تو اٹارنی جنرل کا جواب تھا کہ یہ تو گورنر کے شعور کا معاملہ ہے۔

اس کے بعد عدالت نے اس معامے میں دونوں فریق کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس درمیان ابھشیک منو سنگھوی نے ایک بار پھر حلف برداری تقریب پر روک لگانے کی اپیل کی، لیکن عدالت نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔ لیکن عدالت نے صاف کہا کہ بھلے ہی یدیورپّا حلف لے لیں، لیکن انھیں اپنے حامی ممبران اسمبلی کے دستخط والی چٹھی اور ان کے ذریعہ 15 اور 16 مئی کو گورنر کو لکھی چٹھیاں عدالت میں جمع کرانی ہوں گی۔

عدالت نے اس کے لیے جمعرات یعنی آج کی دوپہر 2 بجے کا وقت طے کیا تھا، لیکن اٹارنی جنرل اور مکل روہتگی نے دوسرے معاملوں کا حوالہ دے کر اسے کل صبح تک ٹالنے کی اپیل کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے اس کیس کی سماعت جمعہ کی صبح 10.30 بجے کرنے کا حکم جاری کیا۔

سب سے زیادہ مقبول