مشرقی چمپارن: جے شری رام کہنے کے بعد بھی مسلم نوجوان کو نہیں چھوڑا، حالات کشیدہ

ہندوتوا تنظیموں کے حملے میں زخمی ایک نوجوان نے کہا کہ وہ اسپتال سے گھر کی طرف جا رہا تھا، ان لوگوں نے پکڑ لیا اور جے شری رام کا نعرہ لگانےکے لیے کہا۔ اس نے نعرہ لگایا پھر بھی بدمعاشوں نے رحم نہیں کیا۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

قومی آوازبیورو

بہار کے مشرقی چمپارن ضلع واقع ڈھاکہ میں گزشتہ 4-3 دنوں سے ماحول میں کشیدگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ 21 ستمبر کو یومِ عاشورہ کے پیش نظر پورے ملک میں تعزیہ کے ساتھ عزاداروں نے جلوس نکالا لیکن مشرقی چمپارن کے ڈھاکہ اور موتیہاری میں ایسا نہیں ہوا۔ دراصل یہاں کے مسلمانوں نے احتیاطاً یہ جلوس 23 ستمبر کو نکالنے کا فیصلہ لیا کیونکہ وہاں 2 دن ہندوؤں کا ڈاک بم نکل رہا تھا۔ مسلم طبقہ کے لوگ نہیں چاہتے تھے کہ کسی طرح کا ہنگامہ برپا ہو، لیکن جب ڈھاکہ کے مسلمانوں نے 23 ستمبر یعنی اتوار کے روز محرم کا جلوس نکالا تو ان پر اینٹ اور پتھروں سے حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں درجن بھر لوگوں کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔ ذرائع کے مطابق کرسیّاں، رَکسا، جھوّا رام، بٹوّا اور کٹھملیا وغیرہ علاقوں میں شرپسند ہندوؤں نے مسلمانوں کو نشانہ بنایا۔

موتیہاری ضلع کے رَکسا رحیم پور باشندہ نسیم نے ’قومی آواز‘ سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ’’آر ایس ایس اور بجرنگ دل کے لوگوں نے ماحول خراب کرنے کی پوری تیاری کر رکھی تھی اور امن برقرار رکھنے کی ہماری ہر کوشش کو انھوں نے ناکام کر دیا۔‘‘ وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’’جلوس پر ہندو شدت پسند لوگوں نے چھتوں سے پتھراؤ کیا، اینٹوں سے حملہ کیا، یہاں تک کہ سڑکوں پر بھی لوگوں کو گھیر گھیر کر پیٹا۔ ایک معصوم لڑکا جو کہ اسپتال سے بذریعہ بائیک اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا اس کا تو ہاتھ ان ظالم لوگوں نے کاٹ دیا۔‘‘

’قومی آواز‘ کے پاس زخمی لڑکے کا ویڈیو بھی موجود ہے جس میں وہ لڑکا خون سے لت پت رو رہا ہے اور کہتا ہوا نظر آرہا ہے کہ ’’میں تو دہلی میں پڑھائی کرتا ہوں۔ یہاں ماموں کا بیٹا اسپتال میں داخل ہے، اسے دیکھنے آیا ہوا تھا۔ سڑک پر کچھ لوگوں نے مجھے پکڑ کر جے شری رام کا نعرہ لگانے کے لیے کہا تو میں نے یہ نعرہ لگا دیا اور کہا کہ میں جلوس نہیں نکالتا، میں اسپتال ماموں کے بیٹے کو دیکھنے گیاتھا۔ لیکن انھوں نے مجھ پر حملہ کر دیا۔‘‘ اس نوجوان کے علاوہ ڈھاکہ اور موتیہاری میں اقلیتی طبقہ کے تقریباً درجن بھر لوگوں کے زخمی ہونے کی خبریں ہیں۔ نسیم بتاتے ہیں کہ ’’جلوس میں اینٹ اور پتھر سے حملوں میں رَکسا رحیم پور کے 5-4 لوگ زخمی ہوئے ہیں جن میں وکیل نامی شخص کی حالت سنگین بنی ہوئی ہے اور وہ اس وقت اسپتال میں داخل ہے۔‘‘ اس درمیان بٹوّا چوک پر کچھ مسلم بہن بیٹیوں کو بھی آر ایس ایس اور بجرنگ دل کے لوگوں کے ظلم کا شکار بننا پڑا۔ ذرائع کے مطابق یہاں جلوس میں شامل بہن بیٹیوں کو نہ صرف زد و کوب کیا گیا بلکہ ان کے کپڑے تک پھاڑے گئے۔

بہر حال، پولس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے شرپسندوں کی ہنگامہ آرائی کو روکنے کی کوشش کی اور محرم کے جلوس کوبحفاظت واپسی کے مقصد سے بدمعاشوں پر لاٹھی چارج بھی کیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولس نے آر ایس ایس اور بجرنگ دل کے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں مان رہے تھے اس لیے انھیں لاٹھی چارج کرنی پڑی۔ اس کارروائی کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ورنہ بہت بڑا ہنگامہ سرزد ہو سکتا تھا۔ لیکن جب بدمعاشوں نے الگ الگ مقامات پر لوگوں کو گھیر کر نشانہ بنانا شروع کر دیا تو پولس اس پر کنٹرول نہیں کر سکی۔

اس پورے ہنگامے کی وجہ لوگ ڈھاکہ کے آزاد چوک کو قرار دے رہے ہیں جہاں سالوں سے ہرا جھنڈا لگا ہوا ہے۔ دراصل ہندوتوا تنظیموں سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کا ویڈیو گزشتہ دنوں وائرل ہوا تھا جس میں انھوں نے پولس انتظامیہ کو دھمکی بھرے انداز میں کہا تھا کہ یہاں سے یا تو یہ ہرا جھنڈا ہٹایا جائے یا پھر بھگوا جھنڈا بھی لگایا جائے۔ ایک ویڈیو میں بھگوا کپڑا کندھے پر رکھے ایک شخص یہ کہتا ہوا دیکھا گیا کہ ’’انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ اسلامی جھنڈے کو جلد سے جلد ہٹایا جائے ورنہ یہاں ایسی زبردست تحریک چلے گی کہ پھر چمپارن والے دیکھیں گے۔‘‘ ایک دوسرا شخص اس ویڈیو میں کہہ رہا ہے کہ ’’ڈی ایس پی آلوک کمار سنگھ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس اسلامی جھنڈے کو ہٹایا جائے۔ ابھی ہم لوگوں کا دو دن ڈاک بم ہے اس لیے خاموش ہیں، ورنہ ایسا تانڈو (ہنگامہ) ہوگا کہ ڈی ایس پی صاحب دیکھتے رہ جائیں گے۔ اگر وہ اپنے آپ کو سب سے بڑا افسر سمجھتے ہیں تو یہ غلط ہے۔ اگر ہمارے لوگوں کی گرفتاری ہوتی ہے تو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’اگر ڈھاکہ میں امن چاہتے ہیں تو کسی بھی ٹارچر نہ کیا جائے اور نہ ہی گرفتار کیا جائے۔ اگر ایسا ہوا تو ایسا ہنگامہ ہو گا کہ آپ لوگ سنبھال نہیں پائیں گے۔ دو دن کا وقت دے رہا ہوں۔ اگر یہ جھندا نہیں اترا اور ہمارے بچوں کی گرفتاری ہوئی تو جو کچھ ہوگا اس کے ذمہ دار انتظامیہ کےافسران ہوں گے۔‘‘

اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہندوتوا تنظیموں سے وابستہ لوگوں نے پہلے تو بھگوا جھنڈا لگانے کی کوشش کی تھی لیکن پولس محکمہ نے سختی سے ان کو روک دیا۔ اب وہ ترنگا جھنڈا لگانے کے لیے بضد ہیں اور کچھ لوگ بھگوا جھنڈا ہر حال میں لگانا چاہتے ہیں۔ چونکہ پولس انھیں ایسا کرنے سے روک رہی ہے اس لیے محرم کے جلوس کو شرپسندوں نے نشانہ بنایا۔

ڈھاکہ سے رکن اسمبلی اور جنتا دل یو لیڈر فیصل رحمن نے اس پورے ہنگامے کے لیے ہندوتوا شدت پسندوں کے ساتھ ساتھ پولس انتظامیہ کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے سے ہی یہ اندیشہ تھا کہ وہ لوگ ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کریں گے اور اس تعلق سے پولس انتظامیہ کو بتایا بھی گیا تھا لیکن انھوں نے پہلے سے احتیاطی اقدام نہیں کیے۔ انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ڈھاکہ میں آزاد چوک کے پاس پولس نے سیکورٹی سخت کی لیکن کچھ دوسرے مقامات پر اس نے انتظامات نہیں کیے جس کی وجہ سے مسلمانوں کو گھیر گھیر کر نشانہ بنایا گیا۔

Published: 24 Sep 2018, 2:02 PM