یوگی کو کالا جھنڈا دکھانے کے جرم میں چودھری وجیندر گرفتار

یوگی آدتیہ ناتھ اور سابق رکن پارلیمنٹ اور علی گڑھ کانگریس کمیٹی کے صدر چودھری وجیندر سنگھ

گزشتہ دنوں کانگریس لیڈر نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے لیے وقت طلب کیا تھا لیکن انھوں نے ملنے کا وقت نہیں دیا۔ احتجاجاً چودھری وجیندر نے 10 اگست کو ہی یوگی جی کو کالا جھنڈا دکھانے کا اعلان کر دیا تھا۔

علی گڑھ: اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ذریعہ ملاقات کا وقت نہ دیے جانے سے ناراض کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ اور ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر چودھری وجیندر سنگھ نے احتجاجاً آج اس وقت یوگی آدتیہ ناتھ کو کالا جھنڈا دکھانے کی کوشش کی جب وہ علی گڑھ ڈیفنس کوریڈور کا افتتاح کرنے یہاں پہنچے۔ پولس نے انھیں پولس لائن سے قبل جیل روڈ پر ہی گرفتار کر لیا۔ چودھری وجیندر سنگھ کے ساتھ تقریباً 50 سے زائد کانگریس کارکنان بھی تھے جنھیں گرفتاری کے بعد پولس لائن میں بنائی گئی عارضی جیل میں اس وقت تک قید میں رکھا گیا جب تک یوگی آدتیہ ناتھ وہاں سے چلے نہیں گئے۔

دراصل چودھری وجیندر نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کا وقت تو مانگا ہی تھا، ساتھ ہی میمورینڈم بھی دیا تھا جسے انھوں نے قبول نہیں کیا۔ اس سے ناراض چودھری وجیندر نے یوگی آدتیہ ناتھ کی علی گڑھ آمد سے ایک دن پہلے ہی انھیں کالا جھنڈا دکھانے کا اعلان کر دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پولس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انھیں ان کے ساتھیوں کے ساتھ گرفتار کر لیا۔ عارضی جیل سے چھوٹنے کے بعد چودھری وجیندر نے عوام سے گزارش کی کہ ’’ایسی حکومت کو اگلے انتخابات میں سبق سکھائیں جو بڑے بڑے دولت مندوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے عوام سے کیے گئے وعدوں کو بھول جاتی ہے۔‘‘

اس موقع پر کانگریس کے سابق ایم ایل سی و قومی سکریٹری وویک بنسل وزیر اعلیٰ کے ساتھ ساتھ مقامی پولس انتظامیہ کی سخت تنقید کرتے ہوئے نظر آئے۔ انھوں نے کہا کہ ’’صوبائی حکومت مکمل طور پر کسان اور غریبوں کی مخالف اور امیروں کے قدموں میں پڑی ہوئی ہے۔ پولس انتظامیہ بھی پوری طرح حکومت کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی ہے۔‘‘ علی گڑھ ڈیفنس کاریڈور سے متعلق اپنی آراء پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’ڈیفنس کاریڈور محض خام خیالی ہے۔ مرکز و صوبائی حکومت اس طرح کی چیزوں سے عوام کو گمراہ کرنے کا کام کر رہی۔ اس سے غریب، مفلس اور بے بس عوام کا کوئی فائدہ ہونے والا نہیں۔‘‘ وویک مزید کہتے ہیں کہ ’’مرکزی و صوبائی حکومتیں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں اس لیے ہائی پروفائل ڈرامے کر رہی ہیں تاکہ عوام کو الجھائے رکھا جا سکے۔‘‘

سب سے زیادہ مقبول