ہندوستان میں اومیکرون کے ’بی اے 4‘ اور ’بی اے 5‘ ویریئنٹ کی تصدیق

جنوبی افریقہ میں بی اے 4 سیکوئنس جنوری 2022 میں ایک فیصد سے بھی کم سے بڑھ کر 29 اپریل 2022 میں 35 فیصد سے زیادہ ہو گیا، اپریل کے آخر تک بی اے 5 سیکوئنس 20 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔

اومیکرون، تصویر آئی اے این ایس
اومیکرون، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

کورونا وائرس کے سب سے زیادہ متعدی اسٹرین ’اومیکرون‘ کے دو ذیلی ویریئنٹس ’بی اے 4‘ اور ’بی اے 5‘ ہندوستان میں ملنے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ یہ دونوں ہی آریجنل ویریئنٹ یعنی بی اے 1 کی بدلی ہوئی شکلیں ہیں۔ کووڈ اسٹرین پر نظر رکھنے والے سرکاری ادارے انساکوگ (آئی این ایس اے سی او جی) نے 22 مئی کو ہندوستان میں ان ذیلی ویریئنٹس کے ہونے کی تصدیق کی۔ تمل ناڈو اور تلنگانہ میں اس کے نئے معاملے سامنے آئے ہیں۔ انساکوگ نے کہا ہے کہ ان ذیلی ویریئنٹس سے بیماری کی سنگینی اور اسپتال میں داخل ہونے کے معاملے بڑھنے جیسے کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے۔ یہ ذیلی ویریئنٹس اس سال کے شروع میں سب سے پہلے جنوبی افریقہ میں پائے گئے تھے۔ اب یہ کئی ممالک میں پھیل چکا ہے۔

گاوی ویکسین ایلائنس کی ویب سائٹ سے ملی جانکاری کے مطابق یہ ویریئنٹ کئی نئے ممالک میں گشت کر رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں بی اے 4 سیکوئنس جنوری 2022 میں ایک فیصد سے بھی کم سے بڑھ کر 29 اپریل 2022 میں 35 فیصد سے زیادہ ہو گیا۔ اپریل کے آخر تک بی اے 5 سیکوئنس 20 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔ مئی میں جنوبی افریقہ میں بی اے 4 اور بی اے 5 کیس دنیا کے معاملوں میں بالترتیب 69 فیصد اور 45 فیصد تھے۔ بی اے 4 آسٹریا (عالمی معاملوں کا 7 فیصد)، برطانیہ (6 فیصد)، امریکہ (5 فیصد)، ڈنمارک (3 فیصد) میں بھی پایا گیا ہے۔ بی اے 5 جرمنی (22 فیصد)، پرتگال (13 فیصد)، برطانیہ (9 فیصد) اور امریکہ (3 فیصد) میں پتہ چلا ہے۔ ابھی کسی نتیجے تک پہنچنا جلدبازی ہوگی، یہ ذیلی ویریئنٹس موجودہ اومیکرون ویریئنٹ کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیل سکتے ہیں یا ٹیکہ کاری یا انفیکشن کے بعد قوت مدافعت کو تیزی سے گھٹا سکتے ہیں۔


گاوی ویب سائٹ کے مطابق بی اے 4 اور بی اے 5 اصل اومیکرون ویریئنٹ کی طرح کئی میوٹیشن کرتے ہیں، لیکن بی اے 2 کے ساتھ زیادہ یکسانیت ہے جو دنیا بھر میں موجود فکر کا موضوع ہے۔ ذیلی ویریئنٹ بھی زیادہ موٹیشن کر سکتے ہیں۔ ویب سائٹ پر بتایا گیا ہے کہ ’’دونوں نئے ویریئنٹس میں ایل 452 آر میوٹیشن ہوتا ہے، جسے پہلے ڈیلٹا ویریئنٹ میں بھی پایا گیا تھا اور مانا جاتا ہے کہ انسانی خلیات سے جڑنے کی وائرس کی صلاحیت کو بڑھا کر یہ وائرس کو مزید متعدی بنا دیتا ہے۔‘‘ ان میں جینیاتی تبدیلی بھی ہوتی ہے جسے ایف 486 وی میوٹیشن کہا جاتا ہے، جہاں ان کے اسپائک پروٹین انسانی خلیات سے جڑتے ہیں۔ اس سے وہ ہمارے دفاعی نظام سے جزوی طور سے بچ سکتے ہیں۔

بہرحال، اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ بی اے 4 یا بی اے 5 سے کوئی نئی علامت دکھائی دے یا زیادہ سنگین بیمار ہو۔ حالانکہ جنوبی افریقہ کے ڈربن میں ایک ادارے کی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اینٹی باڈیز ذیلی ویریئنٹ کے خلاف اتنے اثردار نہیں تھے جتنے وہ اصل اومیکرون اسٹرین پر کارگر تھے۔ یہ تحقیق ان 39 لوگوں پر کی گئی جو اصل اسٹرین سے ٹھیک ہو چکے تھے۔ اس میں یہ بھی پتہ چلا کہ جن 15 لوگوں کو کووڈ-19 کے خلاف ٹیکہ لگا تھا، ان میں اینٹی باڈی نے ریکوری سے بنی قدرتی قوت مدافعت والے لوگوں کے مقابلے میں بہتر اثر کیا۔ تحقیق کے بارے میں ایلیکس سگل نے ٹوئٹر پر کہا کہ بی اے 4/ بی اے 5 پریشانی پیدا کر سکتا ہے اور انفیکشن کی لہر پیدا کرنے کے لیے کافی ہے لیکن گزشتہ لہر کے مقابلے میں زیادہ سنگین بیماری ہونے کے امکانات نہیں ہیں، خصوصاً ان لوگوں میں جنھیں ویکسین لگ چکی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔