عرب لیگ نے ٹرمپ کا اسرائیل فلسطین امن منصوبہ مسترد کر دیا

عرب لیگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ سے متعلق امن منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ عرب لیگ کے مطابق یہ منصوبہ دونوں فریقوں کے لیے انصاف پر مبنی ڈیل فراہم نہیں کر سکتا۔

عرب لیگ نے ٹرمپ کا اسرائیل فلسطین امن منصوبہ مسترد کر دیا
عرب لیگ نے ٹرمپ کا اسرائیل فلسطین امن منصوبہ مسترد کر دیا
user

ڈی. ڈبلیو

فلسطین کی درخواست پر عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کا اجلاس آج مصری دارالحکومت قاہرہ میں منعقد کیا گیا۔ اس اجلاس میں امریکی صدر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ امن منصوبے پر غور کیا گیا۔

صدر ٹرمپ کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اجلاس کے بعد عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے اعلان کیا کہ وہ امریکی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے امریکا سے تعاون نہیں کریں گے۔

قاہرہ میں عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابو الغیط نے کہا، ''اس منصوبے میں پیش کیے گئے حل تنازعے کو ایک ریاستی صورت حال بناتے ہوئے دوسرے فریق کو دوسرے درجے کا شہری بنا دے گا، یہ اپارتھائیڈ ہے، جس میں فلسطینی دوسرے درجے کے شہری اور شہریت کے بنیادی حقوق سے محروم ہوں گے۔‘‘

اسرائیل اور فلسطین کے مابین قیام امن سے متعلق ٹرمپ کے منصوبے میں اسرائیل کو ویسٹ بینک میں بنائی گئی یہودی بستیوں کا اسرائیل میں انضمام کر دینے کی اجازت دینا بھی شامل ہے۔ فسلطینی اور بین الاقوامی برادری کی اکثریت ان آبادیوں کو غیر قانونی قرار دیتی ہے۔ علاوہ ازیں ٹرمپ منصوبے کے تحت اسرائیل وادی اردن کو بھی ضم کر لے گا۔ یہ علاقہ ویسٹ بینک کا ایک چوتھائی حصے پر مبنی ہے۔

مجوزہ امن منصوبے کے مطابق فلسطینی ریاست غزہ، ویسٹ بینک کے ٹکڑوں میں پھیلی ہوئی آبادیوں اور یروشلم کے نواحی علاقے پر مشتمل ہو گی۔ ایک دوسرے سے کٹے ہوئے علاقوں کو سڑکوں، پلوں اور سرنگوں کے ایک جال کے ذریعے منسلک کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ مجوزہ فلسطینی ریاست کی ایئر اسپیس اور سکیورٹی کا مکمل انتظام اسرائیل کے حوالے کیے جانے کی تجویز بھی دی گئی تھی۔

'ایک ہزار مرتبہ نہیں‘

عرب لیگ کے اجلاس میں فلسطینی صدر محمود عباس بھی شریک تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور ایک ایسی فلسطینی ریاست کے قیام کے عزم پر قائم ہیں جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو گا۔ فلسطینی صدر نے ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کے ردِ عمل میں کہا تھا کہ وہ 'ایک ہزار مرتبہ نہیں‘ کہہ کر اسے مسترد کرتے ہیں۔

سعودی عرب اور مصر امریکا کے بھی قریبی اتحادی ہیں۔ دونوں ممالک نے صدر ٹرمپ کی کوششوں کی توصیف کی تھی تاہم دونوں ممالک نے اجلاس میں مجوزہ منصوبے کے بارے میں 'نیوٹرل پوزیشن‘ اختیار کی۔

اردن نے تاہم اس ضمن میں سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اسرائیل کو 'فلسطینیوں کی زمین ضم‘ کرنے سے خبردار کیا۔ اردن نے واضح طور پر کہا کہ وہ ایسی آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کرے گا جس میں مکمل ویسٹ بینک اور مشرقی یروشلم بھی فلسطینی ریاست کا حصہ ہو۔