زوبین گرگ کی اہلیہ کا بڑا بیان، کہا- ’ہم واقعے کی پوری سچائی جاننا چاہتے ہیں‘
زوبین گرگ کی موت پر ان کی اہلیہ گرِما سائیکیا گرگ نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ خاندان واقعے کی مکمل سچائی جاننا چاہتا ہے، اسی لیے قانونی اور شفاف تحقیقات جاری ہیں اور عوام کو بھی حقیقت جاننے کا حق ہے

گوہاٹی: آسام کے معروف گلوکار زوبین گرگ کی موت سے جڑے معاملے میں ان کی اہلیہ گریما سائکیا گرگ نے پہلی مرتبہ تفصیلی عوامی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اور ان کا خاندان اس واقعے کی مکمل اور غیر مبہم سچائی جاننا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق سچ تک پہنچنے کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا گیا ہے اور یہ جدوجہد مسلسل مختلف عدالتی مراحل سے گزر رہی ہے۔
گریما سائکیا گرگ کا یہ بیان سنگاپور کی کورونر عدالت میں ہونے والی کارروائی کے ایک دن بعد سامنے آیا۔ عدالت میں پیش کیے گئے حقائق کے مطابق 53 سالہ گلوکار 19 ستمبر 2025 کو لازارس جزیرے کے قریب سمندر میں تیرتے ہوئے ڈوب گئے تھے۔ کارروائی کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ واقعے سے قبل انہوں نے مبینہ طور پر شراب نوشی کی تھی اور سمندر میں اترنے سے پہلے لائف جیکٹ پہننے سے انکار کیا تھا۔
اپنے فیس بک بیان میں گریما گرگ نے کہا کہ واقعے کے بعد عوامی سطح پر تشویش پیدا ہوئی اور کئی ایسے سوالات سامنے آئے جن کے واضح جوابات موجود نہیں تھے۔ ان حالات میں خاندان نے خود کو اس بات کا پابند محسوس کیا کہ آسام کے عوام اور متعلقہ حکام کے سامنے تصدیق شدہ معلومات کو شفافیت، وقار اور سچائی کے احترام کے ساتھ رکھا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ حادثے کے فوراً بعد خاندان شدید صدمے میں تھا اور جذباتی طور پر اس قدر متاثر ہو چکا تھا کہ فوری طور پر قانونی کارروائی شروع کرنا ممکن نہیں تھا۔ بعد ازاں جب سوشل میڈیا پر کشتی سے متعلق کچھ ویڈیوز منظر عام پر آئیں اور موت کے حالات پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے تو باضابطہ جانچ کے لیے ایف آئی آر درج کرائی گئی۔
گریما گرگ کے مطابق واقعے کے فوراً بعد سنگاپور کے حکام نے خود نوٹس لیتے ہوئے قانونی کارروائی شروع کر دی تھی۔ اس دوران سنگاپور میں واقع ہندوستانی ہائی کمیشن نے پوسٹ مارٹم سمیت طبی اور قانونی مراحل میں تعاون فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ جانچ کے عمل کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے خاندان نے دانستہ طور پر عوامی بیانات دینے سے گریز کیا تاکہ تحقیقات متاثر نہ ہوں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صحت میں بہتری آنے کے بعد آسام سی آئی ڈی میں ایف آئی آر درج کرائی گئی، جس کے نتیجے میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔ کئی ماہ کی جانچ کے بعد آسام پولیس نے قتل سے متعلق دفعات کے تحت دو ہزار پانچ سو سے زائد صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں داخل کی۔
کورونر عدالت کی سماعت کا حوالہ دیتے ہوئے گریما گرگ نے کہا کہ خاندان نے کشتی کے سفر کی منصوبہ بندی، حفاظتی انتظامات، طبی پس منظر، ردعمل کے وقت اور کسی ممکنہ بے ضابطگی سے متعلق اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے مرکز اور آسام حکومت سے سخت نگرانی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سچ جاننے کا حق نہ صرف خاندان بلکہ آسام کی عوام کو بھی حاصل ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔