پنجاب میں نوجوان لیڈر محفوظ نہیں: یوتھ کانگریس
پنجاب یوتھ کانگریس کے سکریٹری انگد دتّا نے کہا کہ "جب حکمراں پارٹی کا اپنا نوجوان لیڈر عوامی جگہ پر گولیوں کا شکار ہو جاتا ہے، تو عام لوگوں کی حفاظت کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔"

پنجاب یوتھ کانگریس کے سکریٹری انگد دتّا نے جمعہ کو جالندھر میں گردوارے کے باہر عام آدمی پارٹی کے نوجوان لیڈر لکی اوبیروئے کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ پنجاب میں قانون کی ناکامی کا ثبوت ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ پنجاب میں نوجوان لیڈر اب محفوظ نہیں ہیں۔
انگد دتّا نے کہا کہ یہ صرف ایک قتل نہیں بلکہ عام آدمی پارٹی کی حکومت کی ناکامی کی دلیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ "جب حکمراں پارٹی کا اپنا نوجوان لیڈر عوامی جگہ پر گولیوں کا شکار ہو جاتا ہے، تو عام لوگوں کی حفاظت کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔"
کانگریس لیڈر نے الزام عائد کیا کہ ’’پنجاب میں گینگ وار، ہتھیاروں کا کلچر اور دن دہاڑے قتل عام عام ہو گئے ہیں، جبکہ حکومت صرف پروپیگنڈا میں مصروف ہے۔ کانگریس، اکالی دل اور اب عآپ کے رہنماؤں نے بھی قانون و نظم کی صورتحال پر سوال اٹھائے ہیں، لیکن حکومت نے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔‘‘ انگد دتّا نے مجرموں کی فوری گرفتاری، اعلیٰ سطحی تحقیقات اور ذمہ دار افسران کی جوابدہی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان جمہوریت کی بنیاد ہیں اور جب نوجوان رہنماؤں کو سڑکوں پر قتل کیا جاتا ہے تو یہ جمہوریت پر براہ راست حملہ ہے۔
یوتھ اکالی دل کے صدر سربجیت جھنجر نے لکی اوبیروئے کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "پنجاب میں دن دہاڑے ایک اور قتل! جب عام آدمی پارٹی کے زیر انتظام پنجاب میں عآپ کے اپنے لیڈر محفوظ نہیں ہیں، تو پنجاب کے عام لوگوں کا کیا ہوگا؟ جالندھر میں ایک عآپ رہنما لکی اوبیروئے کو آج گردوارے کے باہر فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا۔ یہ پنجاب میں قانون و نظم کی اصل تصویر ہے۔ اس دوران پنجاب پولیس دہلی میں بیٹھے اروند کیجریوال اینڈ کمپنی کے اشارے پر مخالف رہنماؤں اور صحافیوں کے خلاف انتقامی کارروائی میں مصروف ہیں۔"
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔