گُھٹنُوں پر آئی یوگی حکومت! راہل اور پرینکا گاندھی کو لکھیم پور کھیری جانے کی ملی اجازت

یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کو لکھیم پور کھیری جانے کی اجازت دے دی ہے، اس سے قبل پرینکا کو راستہ میں ہی روک لیا گیا تھا

راہل گاندھی / ٹوئٹر
راہل گاندھی / ٹوئٹر
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: یوپی حکومت نے لکھیم پور کھیری میں متاثرہ کسان خاندانوں سے حزب اختلاف کے لیڈران کو ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دینے کے معاملہ میں اپنا فیصلہ تبدیل کر دیا ہے۔ یوگی حکومت نے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور ان کی بہن پرینکا گاندھی کو لکھیم پور کھیری جانے کی اجازت فراہم کر دی ہے۔ اس سے قبل پرینکا گاندھی جب لکھیم پور کھیری جا رہی تھیں تو انہیں سیتا پور کے ہرگاؤں میں ہی روک لیا گیا تھا۔ انہیں تبھی سے حراست میں رکھا گیا ہے۔ راہل گاندھی آج صبح دہلی سے لکھنؤ کے لئے روانہ ہوئے، پہلے تو انہیں ایئرپورٹ پر کچھ دیر کے لئے روک لیا گیا لیکن بعد میں انہیں لکھنؤ کے لئے جہاز میں بیٹھنے کی اجازت فراہم کر دی گئی۔

راہل گاندھی نے بدھ کے روز پریس کانفرنس کر کے مرکز اور یوپی حکومت پر حملہ بولا تھا۔ راہل گاندھی نے کہا تھا کہ ہندوستان کے کسانوں پر حملہ ہو رہا ہے۔ انہیں گاڑی کے نیچے روندا جا رہا ہے لیکن ہمیں ان سے ملاقات کرنے کی جازت نہیں دی جا رہی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ کسی کو بھی لکھیم پور کھیری میں کسانوں کو گاڑی سے روندنے کی واردات کی حقیقت نہیں معلوم۔ ہم وہاں جاکر حقیقت معلوم کرنا چاہتے ہیں۔


راہل گاندھی نے کہا تھا کہ یوپی حکومت اور یوپی پولیس نے لکھیم پور کھیری میں دفعہ 144 لگائی ہے، لیکن ہم تین ہی لوگ وہاں جانا چاہتے ہیں۔ پھر بھی حکومت حزب اختلاف کو وہاں جانے سے روک رہی ہے۔ راہل گاندھی نے کہا تھا کہ ان کی بہن کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ کسانوں پر حملہ کے ملزم وزیر اور ان کے بیٹے پر تاحال کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جمہوریت کے حق میں آواز بلند کرتے رہیں گے۔

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ان کی بہن پرینکا گاندھی کو سیتاپور میں حراست میں رکھے جانے پر بھی سوال کھڑے کئے۔ راہل گاندھی نے ٹوئٹ کر کے کہا کہ ان کی بہن سچی کانگریسی ہے، وہ ان سب سے نہیں ڈرتی۔ پرینکا نے بھی اس سے پہلے کہا تھا کہ وہ لکھیم پور کھیری میں متاثرہ کنبوں سے ملاقات کئے بغیر واپس نہیں جائیں گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر چھ ماہ بھی لگ جائیں تو وہ اپنی بات پر ڈٹی رہیں گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔