ورلڈ بینک کی رپورٹ میں فضائی آلودگی سے سالانہ دس لاکھ اموات کا انکشاف، جے رام رمیش کا مودی حکومت سے سوال
جے رام رمیش نے ورلڈ بینک کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہند گنگی خطے میں فضائی آلودگی کے باعث ہر سال دس لاکھ افراد کی جان جا رہی ہے، لیکن مودی حکومت اس سنگین صحتی بحران کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی

کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے فضائی آلودگی کے بڑھتے ہوئے بحران پر مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہند گنگی خطہ اور ہمالیائی دامن اس وقت ایک سنگین صحتی ایمرجنسی کی زد میں ہیں، جہاں فضائی آلودگی ہر سال تقریباً دس لاکھ افراد کی قبل از وقت موت کا سبب بن رہی ہے، مگر اس کے باوجود مودی حکومت اس بحران کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے مسلسل انکار کی پالیسی پر قائم ہے۔
جے رام رمیش کے مطابق ورلڈ بینک کی رپورٹ ’اے بریتھ آف چینج‘ شواہد پر مبنی، جامع اور بالکل واضح ہے۔ رپورٹ میں اس بات کو نمایاں کیا گیا ہے کہ اس پورے خطے میں فضائی آلودگی نہ صرف انسانی صحت کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے بلکہ اس کے معاشی اثرات بھی نہایت سنگین ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی کے باعث ہر سال علاقائی معیشت کو مجموعی گھریلو پیداوار کے تقریباً دس فیصد کے برابر نقصان اٹھانا پڑتا ہے، جو ترقی، روزگار اور سماجی بہبود پر براہ راست اثر ڈال رہا ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ رپورٹ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ مسئلے کی نوعیت علاقائی ہے، جسے صرف شہروں یا انفرادی ریاستوں تک محدود منصوبہ بندی کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ریاستوں کی سرحدوں سے بالاتر، قانونی اختیارات کے حامل فضائی خطوں پر مبنی نظامِ حکمرانی ناگزیر ہے، تاکہ آلودگی کے بڑے ذرائع پر مؤثر قابو پایا جا سکے۔
جے رام رمیش نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی کہا کہ ورلڈ بینک کی رپورٹ واضح طور پر بتاتی ہے کہ کوئلہ سے چلنے والے پرانے بجلی گھروں، بڑھتی ہوئی گاڑیوں، ناقص ایندھن کے استعمال اور کمزور نفاذی نظام نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ ان کے مطابق ان مسائل کے حل کے لیے پرانے بجلی گھروں کی مرحلہ وار بندش، اخراجی قوانین پر سختی سے عمل، عوامی نقل و حمل کے نظام کی توسیع اور اسے برقی نظام سے جوڑنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی کے بحران کے پیش نظر کانگریس مسلسل اس بات پر زور دیتی آ رہی ہے کہ ہوا آلودگی کے کنٹرول اور روک تھام سے متعلق انیس سو اکیاسی کے قانون اور دو ہزار نو کے قومی ماحولیاتی معیار کا ازسر نو جائزہ لیا جائے، خاص طور پر باریک ذرات پی ایم دو اعشاریہ پانچ کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ ان کے مطابق نیشنل کلین ایئر پروگرام کو نہ صرف مالی اعتبار سے مضبوط بنایا جانا چاہیے بلکہ اس کا دائرہ کار بھی وسیع کیا جانا ضروری ہے، تاکہ حقیقی بہتری کو ناپا جا سکے۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گھریلو ایندھن، صنعت، ٹرانسپورٹ، زرعی باقیات جلانا اور کچرے کے ناقص انتظام جیسے عوامل فضائی آلودگی کے بڑے اسباب ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر حکومتیں شواہد پر مبنی پالیسی، مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے اور سخت نفاذ کو یقینی بنائیں تو فضائی معیار میں نمایاں بہتری ممکن ہے اور لاکھوں جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ جے رام رمیش نے آخر میں سوال اٹھایا کہ جب حقائق اتنے واضح اور خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے تو مودی حکومت کب تک اس سنگین صحتی بحران سے آنکھیں چرائے رکھے گی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔