خواتین ریزرویشن بل: ’یہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے‘، اںتخاب کے درمیان خصوصی اجلاس بلائے جانے پر جے رام رمیش کا رد عمل
پی ایم مودی کے خط کے جواب میں کھڑگے نے مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ وہ خواتین کو بااختیار بنانے کے بجائے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے خواتین ریزرویشن بل کے نفاذ میں جلد بازی کر رہی ہے۔

راجیہ سبھا رکن اور کانگریس کے جنرل سکریٹری (مواصلات) جے رام رمیش نے ’ناری شکتی وندن ادھینیم‘ پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے کے خط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’انتخابات کے درمیان خصوصی اجلاس بلایا جانا ضابطہ اخلاق کی واضح خلاف ورزی ہے۔‘‘ جے رام رمیش نے اتوار (12 اپریل) کو نریندر مودی کے نام پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے کا لکھا ہوا خط سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کیا۔
جے رام رمیش نے ’ایکس‘ پوسٹ میں لکھا کہ ’’کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس بلائے جانے پر اپنی بات رکھی ہے۔ یہ اجلاس آئندہ ہفتہ تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں جاری انتخابی مہم کے دوران بلایا جا رہا ہے جو کہ ’مثالی ضابطہ اخلاق‘ کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے (کھڑگے نے) اپوزیشن کے اس مطالبے کو دوہرایا ہے کہ کل جماعتی اجلاس 29 اپریل کے بعد ہی کسی بھی وقت بلایا جائے۔‘‘
دراصل خواتین ریزرویشن (ترمیمی) بل پر غور و خوض کرنے اور اسے منظور کرنے کے لیے ایک خصوصی اجلاس بلایا گیا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے ہفتہ (11 اپریل) کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا، دونوں ایوانوں میں تمام پارٹیوں کے پارلیمانی لیڈران کو خط لکھ کر ’ناری شکتی وندن ادھینیم‘ کو اتفاق رائے سے منظور کرانے کے لیے حمایت مانگی ہے، تاکہ 2029 کے انتخابات سے قبل خواتین ریزرویشن کے کے نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔
حالانکہ کانگریس نے خصوصی اجلاس بلانے سے قبل حد بندی کے متعلق کل جماعتی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ سب 29 اپریل کے بعد کیا جائے، جب تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے لیے جاری انتخابی مہم ختم ہو جائے گی۔ وزیر اعظم مودی کے خط کے جواب میں ملکارجن کھڑگے نے مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ وہ خواتین کو بااختیار بنانے کے بجائے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے خواتین ریزرویشن (ترمیمی) بل کے نفاذ میں جلد بازی کر رہی ہے۔ کانگریس صدر نے مزید لکھا کہ ’’خصوصی اجلاس اپوزیشن کو اعتماد میں لائے بغیر بلایا گیا ہے اور حکومت حد بندی کے متعلق کوئی بھی تفصیلات فراہم کیے بغیر ہی ایک بار پھر اپوزیشن سے تعاون کی توقع کر رہی ہے۔‘‘
کانگریس صدر نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر اس خصوصی اجلاس کا مقصد ہماری جمہوریت کو مضبوط کرنا اور سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا ہے تو حکومت کو مشورہ ہے کہ 29 اپریل کے بعد کسی بھی وقت ایک کل جماعتی اجلاس بلائے۔ تاکہ حد بندی کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا جا سکے، جس مسلئہ کو ’ناری شکتی ادھینیم‘ میں کی جا رہی ترامیم سے جوڑا جا رہا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔