طلاق تلاق بل: لوک سبھا میں 27 دسمبر کو ہوگی بحث

طلاق ثلاثہ پر مبنی بل 17 دسمبر کو لوک سبھا میں پیش ہوا تھا، تمام پارٹیاں اس پر 27 دسمبر کو بحث کرانے پر متفق ہو گئی ہیں۔ سمترا مہاجن نے امید ظاہر کی ہے کہ بحث خوشنما ماحول میں ہوگی۔‘‘

قومی آواز گرافکس
قومی آواز گرافکس

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: طلاق ثلاث بل (مسلم خواتین ازدواجی حقوق کی حفاظت بل 2018) پر بحث کرائے جانے پر کانگریس کے راضی ہونے کے بعد اب اس بل پر 27 دسمبر کو بحث ہوگی۔ لوک سبھا میں یہ بل پیش کئے جانے کے بعد کانگریس کے رہنما ملکارجن کھڑگے نے صلاح دی تھی کہ اس پر اگلے ہفتہ چرچہ کرائی جائے۔

اس پر پارلیمانی امور کے وزیر نریندر سنگھ تومر نے حزب اختلاف سے بھروسہ مانگا کہ اس دن بغیر کسی رخنہ اندازی کے بحث ہونے دی جائے گی۔ اس پر کھڑگے نے کہا، ’’ہمارا مشورہ ہے کہ اس بل پر 27 دسمبر کو ہی بحث کرائی جائے۔ ہم سبھی اس میں حصہ لیں گے۔ ہماری پارٹی اور دیگر پارٹیاں بھی اس پر بحث کے لئے تیار ہیں۔‘‘

ان کے بیان پر وزیر قانون روی شنکر نے کہا، ’’کھڑگے جی نے عوامی طور پر وعدہ کیا ہے کہ 27 دسمبر کو بحث کرانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ میری درخواست ہے کہ بحث خوشنما ماحول کرانے کے لئے تعاون دیں۔‘‘ غورطلب ہے سرمائی اجلاس کا ایک ہفتہ سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے اور کئی مسائل پر ہنگامہ آرائی کے سبب کوئی کام کاج نہیں ہو سکا ہے۔

لوک سبھا اسپیکر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ایوان میں کام کاج ٹھیک طرح سے چلے اس کے لئے ہر طرح کا اقدام لیا گیا۔ تمام پارٹیاں اور ارکان پارلیمنٹ تعاون دیں۔ جیسا کہ کھڑگے جی نے کہا ہے کہ طلاق ثلاثہ بل پر 27 دسمبر کو بحث کرائی جائے۔ مجھے امید ہے کہ تمام ارکان بحث میں خوشنودی کے ساتھ حصہ لیں گے۔‘‘

واضح رہے کہ تین طلاق کو غیر قانونی اور غیر ضمانتی جرم بنانے سے متعلق یہ بل 17 دسمبر کو لوک سبھا میں پیش کیا گیا تھا۔ کانگریس کے ششی تھرور نے یہ کہتے ہوئے بل کی مخالفت کی کہ خواتین کا استحصال روکنے جیسے بڑے مسائل کے بجائے یہ بل ایک مخصوص طبقے کے لوگوں کے لئے قانون بنانے کے مقصد سے لایا گیا ہے۔ انہوں نے اس بل کو شاعرہ بانو معاملے میں سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ چونکہ بل مخصوص طبقے کے لئے لایا گیا ہے لہذا آئینی نقطہ نظر سے بھی یہ غلط ہے۔

اس بل میں تین طلاق دینے پر تین سال کی سزا کا التزام ہے۔ اس کےلئے حکومت پہلے ہی آرڈیننس لاچکی ہے۔ تین طلاق کو غیر ضمانتی جرم کے زمرے میں رکھا گیا ہے، حالانکہ بیوی کی رضامندی پر ضلع مجسٹریٹ ملزم شوہر کو ضمانت دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی التزام ہے کہ شکایت کاحق متاثرہ بیوی، اس سے خون کا رشتہ رکھنے والوں اور شادی کے بعد بنے اس کے رشتہ داروں کو ہی ہوگا۔

Published: 21 Dec 2018, 6:09 PM