صرف 1 ووٹ سے جیت، تمل ناڈو میں ’ ٹی وی کے‘ لیڈر سرینواس سیتوپتی نے 4 بار کے رکن اسمبلی کو دی شکست

ٹی وی کے امیدوار سرینواس سیتوپتی کو 83375 ووٹ ملے جبکہ ڈی ایم کے امیدوار پیریاکروپن کو 83374 ووٹ حاصل ہوئے۔ یعنی پیریاکروپن کو محض ایک ووٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

<div class="paragraphs"><p>ووٹ دینے کا نشان، تصویر قومی آواز/ وپن</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

ملک کے 4 صوبوں اور مرکز کے زیر انتظام ایک علاقہ سمیت 5 ریاستوں میں پیر کے روز اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا۔ اس الیکشن میں تمل ناڈو کے نتائج انتہائی چونکانے والے رہے ہیں جہاں اداکار سے سیاستداں بنے تھلاپتی وجے کی پارٹی تملگا ویتری کزگم (ٹی وی کے) نے 108 سیٹیں جیت کر سبھی کو حیران کر دیا ہے۔ وجے کی پارٹی کا ایک امیدوار ایسا بھی ہے جس نے صرف 1 ووٹ سے جیت درج کی ہے۔

تمل ناڈو کے انتخابی نتائج میں تروپتور حلقہ اس وقت سرخیوں میں ہے۔ یہاں ٹی وی کے امیدوار سرینواس سیتوپتی نے سانسیں روک دینے والے مقابلے میں سنسنی خیز جیت حاصل کی ہے۔ ڈی ایم کے امیدوار اور وزیر کے آر پیریاکروپن کو تروپتور اسمبلی سیٹ پر صرف 1 ووٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس نتیجے سے ظاہر ہوتا ہے کہ الیکشن میں ہر ایک ووٹ اہم اور قیمتی ہوتا ہے اور یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ 1 ووٹ کس طرح قسمت بدل سکتا ہے۔


واضح رہے کہ ’ٹی وی کے‘ امیدوار سرینواس سیتھوپتی نے ایک مضبوط لیڈر کو شکست دی ہے۔ پیریاکروپن ریاست میں امداد باہمی کے وزیر اور لگاتار 4 بار رکن اسمبلی رہے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ ووٹوں کی گنتی پوری ہونے کے بعد سیتوپتی کو محض 1 ووٹ زیادہ ملا اور اسی  بنیاد پر انہیں فاتح قرار دیا گیا۔ سیتوپتی کو مجموعی طور پر 83375 ووٹ ملے جبکہ پیریاکروپن کو 83374 ووٹ حاصل ہوئے۔ بے حد کم فرق کی وجہ سے یہ مقابلہ حالیہ انتخابی تاریخ کے سب سے قریبی مقابلوں میں سے ایک بن گیا ہے۔ یہ نتیجہ بتاتا ہے کہ امیدوار کی قسمت صرف 1 ووٹ سے بھی بدل سکتی ہے۔

بتا دیں کہ تمل ناڈو کی تمام 234 اسمبلی سیٹوں کے لیے ووٹوں کی گنتی پوری ہو چکی ہے جس میں پہلی بار الیکشن لڑنے والی تملگا ویتری کزگم (ٹی وی کے) سب سے بڑی پارٹی بن کر اُبھری ہے۔ ٹی وی کے نے 108 سیٹیں جیت کر اپنے حریفوں سے کافی آگے نکلتے ہوئے ریاست میں بڑی سیاسی کامیابی حاصل کی ہے۔ وہیں ڈی ایم کے 59 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر رہی جبکہ اے آئی اے ڈی ایم کے 47 سیٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ کانگریس 5 سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی اور پی ایم کے کو 4 سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑا ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔