’500 کروڑ روپے کی زمین 1 روپے میں کیوں دی گئی؟‘ کانگریس کا وزیر اعلیٰ موہن یادو سے چبھتا ہوا سوال

کانگریس لیڈر جیتو پٹواری نے سوال کیا کہ اگر ’انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ جھوٹی ہے تو ایف آئی آر کیوں نہیں ہوئی؟ انھوں نے موہن یادو سے پوچھا کہ کیا آپ اس معاملے کی عدالتی جانچ کے لیے پیش قدمی کریں گے۔

<div class="paragraphs"><p>جیتو پٹواری، تصویر قومی آواز/ویپن</p></div>
i

مدھیہ پردیش کے اجین میں وزیر اعلیٰ موہن یادو کی فیملی نے انتہائی کم قیمت پر جو زمینیں خریدی ہیں، اس پر کانگریس نے سوالات کی جھڑی لگا دی ہے۔ انگریزی روزنامہ ’انڈین ایکسپریس‘ میں اس زمین خریداری سے متعلق ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے، جس میں کئی اہم انکشافات کیے گئے ہیں۔ اس معاملہ میں کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا اور جیتو پٹواری نے آج پریس کانفرنس کی۔ اس پریس کانفرنس میں پون کھیڑا نے وزیر اعلیٰ موہن یادو کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم مودی کو بھی کٹہرے میں کھڑا کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’اجین کے جس علاقہ میں 2035 کے ماسٹر پلان کے اوپر کام ہونا ہے، موہن یادو کی فیملی نے وہاں زمینیں خریدی ہیں۔ اس معاملہ میں پی ایم مودی سے ایکشن لینے کی کوئی امید نہیں ہے۔ وہ بیرون ملک میں میلوڈی اور ملک میں جھال موڑی کھائیں گے، ان کے وزیر اعلیٰ زمینیں و نذرانوں کا سونا-چاندی نگل جائیں گے۔‘‘

جیتو پٹواری نے اس پریس کانفرنس میں کچھ اہم نکات کی طرف میڈیا اہلکاروں کی توجہ دلائی اور یکے بعد دیگرے کئی سوالات سامنے رکھ دیے۔ انھوں نے سب سے پہلے یہ پوچھا کہ

  • کیا موہن یادو کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد فیملی نے زمین خریدی؟

  • کیا یہ سچ ہے کہ زمین کا بڑا حصہ وہاں ہے، جہاں ترقیاتی منصوبے بعد میں آئے؟

  • کیا حکومت ان سبھی منصوبوں کی ٹائم لائن منظر عام پر لائے گی؟

  • اگر سب کچھ شفاف ہے تو کیا بی جے پی آزادانہ عدالتی جانچ کرائے گی؟

  • کیا وزیر اعلیٰ اپنی فیملی کے ذریعہ 2023 کے بعد خریدی گئی زمین پر قرطاس ابیض (وائٹ پیپر) جاری کریں گے؟


مذکورہ بالا سوالات سامنے رکھنے کے بعد جیتو پٹواری کہتے ہیں کہ ’’مدھیہ پردیش میں موہن یادو نے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد سینکڑوں ایکڑ زمینیں خریدیں۔ کانگریس نے اس بارے میں عوامی طور پر بی جے پی، بی جے پی صدر، نریندر مودی، بی جے پی کی ریاستی یونٹ اور موہن یادو سے سوالات پوچھے تھے۔ سوالات پوچھے ہوئے 30 گھنٹے ہو گئے، لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’اگر بی جے پی اس بارے میں جواب نہیں دے رہی تو اس کا مطلب ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔‘‘

زمین خریداری میں مبینہ گھوٹالہ کے لیے جیتو پٹواری نے پوری بی جے پی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کا پورا سسٹم اس بدعنوانی سے جڑا ہوا ہے۔ ایودھیا میں چندہ چوری اور مہاکال میں زمین لوٹ... یہ بی جے پی کا نیا ماڈل ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’اجین میں 500 کروڑ روپے کی زمین ایک ٹرسٹ کو 1 روپے میں دے دی گئی۔ اس کے ٹرسٹی شری رام جی نام کے شخص ہیں، جو موہن یادو کے ثقافتی مشیر ہیں۔‘‘ یہ بات سامنے رکھنے کے بعد جیتو پٹواری نے سوال کیا کہ

  • آخر 500 کروڑ روپے کی زمین 1 روپے میں کیوں دی گئی؟

  • اگر ’انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ جھوٹی ہے، تو ایف آئی آر کیوں نہیں ہوئی؟

  • بی جے پی کے ریاستی صدر سے سوال زمین پر پوچھا گیا، تو جواب ذات پر دیا گیا۔ کیا یہی ان کی سوچ ہے؟

  • وزیر اعلیٰ بننے کے بعد موہن یادو کی فیملی کے ذریعہ تیزی سے جو زمینیں خریدی گئیں، اس کے لیے پیسے کہاں سے آئے؟

  • کیا وزیر اعلیٰ کی فیملی کے ذریعہ خریدی گئی زمینوں کی پوری تفصیل عوام کے سامنے نہیں آنی چاہیے؟


ان سوالات کو پوچھنے کے بعد جیتو پٹواری نے براہ راست وزیر اعلیٰ موہن یادو کو مخاطب کرتے ہوئے 4 سوالات پوچھے، جو اس طرح ہیں

  1. آپ کی فیملی کی کن کمپنیوں کو ترقیاتی منصوبوں کا براہ راست فائدہ ملا؟

  2. کیا حکومت متعلقہ سیکٹر کے ماسٹر پلان میں ہوئی تبدیلی کو منظر عام پر لائے گی؟

  3. کیا ان منصوبوں کی جانکاری وہاں کے متعلقہ کسانوں کو تھی، جن کی وہاں پہلے سے زمینیں ہیں؟

  4. کیا آپ آگے بڑھ کر خود اس معاملے کی عدالتی جانچ کے لیے پیش قدمی کریں گے؟

آخر میں جیتو پٹواری نے کہا کہ ’’موہن یادو نے جو زمین گھوٹالہ کیا ہے، اس سے ذہن بھٹکانے کے لیے بی جے پی ذات کی بات کر رہی ہے۔ افسوس ہے کہ میڈیا بھی ایسی ہی سرخیاں لگا رہا ہے، جبکہ میڈیا کو یہ کہنا چاہیے کہ وزیر اعلیٰ کے او بی سی ہونے سے بدعنوانی کی چھوٹ نہیں مل جاتی۔‘‘ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’’موہن یادو کی فیملی نے جتنی رجسٹری کروائی ہے، ان میں ٹیکس چوری بھی کی گئی ہے۔ یہ ابھی شروعات ہے... دھیرے دھیرے مزید سطحیں کھلتی جائیں گی۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔