ڈاکٹر ظفر الاسلام خان اور کرتار کوچر کی فیملی کی جان کیوں خطرے میں ہے؟

بتایا جاتا ہے کہ شمیم اختر نے دہلی اقلیتی کمیشن کا سکریٹری رہتے کئی طرح کی بدعنوانیوں کو انجام دیا، اوراب جبکہ اس کی اندرونی جانچ شروع ہو گئی ہے تو وہ کمیشن کے عہدیداروں کو دھمکی آمیز فون کر رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

تنویر احمد

دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان اور کمیشن کے رکن کرتار سنگھ کوچر کو گزشتہ دنوں فون کر جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی جس کی خبر دھیرے دھیرے پھیلنے لگی ہے۔ لوگوں کو حیرانی اس بات پر ہو رہی ہے کہ یہ دھمکی کسی اور نے نہیں بلکہ کمیشن کے ہی سابق سکریٹری شمیم اختر نے دی ہے جن کا ٹرانسفر اب دہلی وقف بورڈ میں ہو چکا ہے۔

’قومی آواز‘ نے جب اس تعلق سے دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ ’’انھوں نے (شمیم اختر) 29 مئی کی شب فون کر کے مجھے اور میرے بیٹے کو جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ حد تو یہ ہے کہ اقلیتی کمیشن کے رکن کرتار سنگھ کوچر کو بھی دھمکی آمیز فون کیا گیا اور ان کی فیملی کا قتل کرنے کی دھمکی دی گئی۔‘‘ جب کرتار سنگھ کوچر سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بھی دھمکی آمیز فون آنے کی تصدیق کی اور کہا کہ ’’مجھے اور میری فیملی کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔‘‘

ڈاکٹر ظفرالاسلام نے ’قومی آواز‘ سے بات چیت کے دوران بتایا کہ دھمکی آمیز فون آنے کے بعد 30 مئی کی شب 100 نمبر پر ڈائل کر معاملے کی شکایت کی گئی اور پھر اگلے دن صبح باضابطہ تحریری شکایت انتظامیہ کو دی گئی۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ پولس کارروائی شروع ہو چکی ہے اور انھیں امید ہے کہ انتظامیہ پورے معاملے کی جانچ کر کے ضروری قدم اٹھائے گی۔

بطور دہلی اقلیتی کمیشن سکریٹری شمیم اختر کی کارگزاریوں اور کمیشن کے عہدیداروں سے ان کے رشتوں پر مبنی سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر ظفرالاسلام نے بتایا کہ ’’ستمبر 2018 میں جب وہ دہلی اقلیتی کمیشن کے سکریٹری بن کر آئے تھے تو کافی کو آپریٹو تھے۔ لیکن دھیرے دھیرے ان کے رویہ میں تبدیلی آتی گئی۔ پتہ نہیں ان پر کیا فطور سوار ہو گیا کہ فائلوں کو روکنے، کام اٹکانے اور فائلوں پر بکواس چیزیں لکھنے لگے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ کئی این جی اوز ہیں جو کہ پوری دہلی میں بیداری کیمپ چلاتے ہیں اور کمیشن کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ ادارے بیداری مہم چلاتے ہوئے اپنا پیسہ لگاتے ہیں جس کی ادائیگی اگر انھیں جلد نہیں کی جاتی تو پریشانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ شمیم اختر نے ان کی ادائیگی کو اٹکانا شروع کر دیا تھا جس سے مسائل بڑھنے لگے تھے۔ اسی طرح کے دوسرے کاموں میں بھی رخنہ اندازیاں شروع ہو گئی تھیں، اور ہر کام میں وہ اعتراض ظاہر کرنے لگے تھے۔

دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ شمیم اختر کے اعتراضات اور رخنہ اندازیوں کی وجہ سے کام کرنے میں پریشانی پیدا ہونے لگی اس لیے ایک وقت ایسا آیا جب ہم ان کے اعتراضات کو نظر انداز کرنے پر مجبور ہوئے۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام ’قومی آواز‘ سے بتاتے ہیں کہ ’’میں نے چیف سکریٹری سے انھیں بدلنے کا مطالبہ کیا کیونکہ کام کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ عام انتخابات کے پیش نظر انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کی وجہ سے چیف سکریٹری نے کچھ وقت انتظار کرنے کے لیے کہا، لیکن اس درمیان ان کی (شمیم اختر) بدتمیزی مزید بڑھتی چلی گئیں۔‘‘

ڈاکٹر ظفرالاسلام کا کہنا ہے کہ سکریٹری کے ذریعہ دہلی اقلیتی کمیشن میں غبن کی باتیں معلوم ہوتی رہیں لیکن کوئی ثبوت نہیں تھا اس لیے کارروائی نہیں کی جا سکی۔ انھوں نے بتایا کہ چونکہ فنانشیل پاور سکریٹری کے پاس ہی ہوتے ہیں اس لیے سبھی فائلیں اور ثبوت ان کے پاس ہی تھے، اور جیسے ہی وہ کمیشن سے گئے سب کچھ سامنے آ گیا۔بدعنوانی کا پردہ فاش ہونے کے ڈر سے ہی شمیم اختر نے دھمکی آمیز فون کیا۔ ظفرالاسلام کہتے ہیں کہ ’’وہ کئی غبن کے معاملوں میں ملوث ہیں اور فائلوں و کاغذات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ یہاں کافی کچھ غلط ہوا ہے۔ جعلی بل لگا لگا کر پیسے نکالے گئے ہیں اور حد تو یہ ہے کہ ایک معاملہ میں ایک ہی دن سات لاکھ روپے نکال لیے گئے جب کہ کسی بھی چیز کی خریداری نہیں ہوئی۔‘‘ بتایا جاتا ہے کہ شمیم اختر کے ذریعہ کیے گئے غبن کے معاملوں کی اندرونی جانچ شروع ہو چکی ہے اور ظفرالاسلام خان نے لیفٹیننٹ گورنر کو خط لکھ کر بھی اس کی باضابطہ جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

’قومی آواز‘ سے بات چیت کے دوران ظفرالاسلام خان نے ایک انتہائی اہم بات یہ بتائی کہ دہلی اقلیتی کمیشن کا سکریٹری رہتے ہوئے آخر میں شمیم اختر نے اس قدر غلط رویہ اختیار کر لیا تھا کہ سبھی اسٹاف کو ایک سرکلر جاری کر حکم دیا تھا کہ وہ چیئرمین کی کوئی بات نہ مانیں۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام کہتے ہیں کہ ’’آزاد ہندوستان میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کوئی جونیئر افسر اپنے سینئر کے بارے میں یہ لکھ کر اسٹاف میں دے کہ ان کی بات نہ سنی جائے۔ تحریری شکل میں یہ حکم بھی صادر کیا گیا تھا کہ اگر گھنٹی بجے گی تو بھی جواب نہیں دینا ہے اور اگر جانا ضروری ہو تو ان (شمیم اختر) سے اجازت لے کر جائیں۔‘‘ کمیشن کے چیئرمین نے بتایا کہ ’’میں نے ایل جی (لیفٹیننٹ گورنر) کو بھی یہ بات لکھی ہے کہ آزاد ہندوستان میں ایسا سرکلر کسی افسر نے آج تک جاری نہیں کیا ہوگا۔‘‘

بہر حال، ڈاکٹر ظفرالاسلام خان اور کرتار سنگھ کوچر کی فیملی کو جان سے مارنے کی دھمکی دئیے جانے کے تعلق سے رد عمل حاصل کرنے کے لیے جب ’قومی آواز‘ نے شمیم اختر کے موبائل نمبر پر کال کیا تو سوئچ آف ملا۔ حالانکہ کچھ میڈیا ذرائع کے مطابق شمیم اختر نے دھمکی دیئے جانے کی باتوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ الٹے شمیم اختر کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان اور رکن کرتار کوچر کے طریقہ کار پر انگلی اٹھاتے ہوئے انھیں بدعنوان بتانے کی کوشش کرتے نظر آئے۔

Published: 18 Jun 2019, 8:10 PM