کملیش تیواری کے قاتل اپنی شناخت ظاہر کرنے اور سراغ چھوڑنے کو اتاؤلے کیوں تھے؟

پولس کے مطابق کملیش قتل واقعہ کا معمہ حل ہو گیا ہے۔ قاتلوں کی پہچان ہو گئی ہے۔ سازش تیار کرنے والے حراست میں ہیں اور اصل قاتل بھی جلد ہاتھ آ جائے گا۔ لیکن یہ سب اتنا آسان نہیں جتنا بتایا جا رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کملیش تیواری قتل واقعہ میں جس تیزی کے ساتھ یو پی، گجرات اور مہاراشٹر کی پولس کام کرتی ہوئی نظر آئی وہ حیران کن ہے۔ اب بھی پولس و انتظامیہ انتہائی مستعد اور ایکشن میں ہے۔ 18 اکتوبر کو ہندو لیڈر کے قتل کے بعد اتر پردیش سے لے کر گجرات تک، او رپھر مہاراشٹر سے لے کر نہ جانے کہاں تک پولس ڈپارٹمنٹ میں ایک ہنگامہ سا برپا ہو گیا۔ سبھی دوڑتے اور بھاگتے ہوئے نظر آئے۔

اس بھاگ دوڑ کے باوجود کملیش تیواری کی ماں مطمئن نظر نہیں آتیں۔ اس 70 سالہ ماں کا غم اور غصہ اور ان کے الزام (کملیش کی ماں نے بی جے پی لیڈروں اور ایک مافیہ پر قتل کا الزام لگایا، کملیش تیواری نے خود بی جے پی پر ان کے قتل کی سازش رچے جانے کا ایک ویڈیو میں الزام لگایا تھا) درکنار بھی کر دیں تو بھی کملیش تیواری قتل سے جڑے کئی ایسے سوال ہیں جو کشمکش میں ڈالتے ہیں۔

کملیش کے قتل کے اگلے ہی دن یو پی پولس، گجرات کی اے ٹی ایس اور سورت میں کرائم برانچ فل ایکشن میں نظر اائی اور تین ملزمین کو اپنے شکنجے میں لے لیا۔ ان میں سے ایک 21 سالہ راشد احمد پٹھان ہے جو گزشتہ 2 سال سے دوبئی میں کام کر رہا تھا اور پچھلے مہینے ہی اپنے بھائی کی 3 نومبر کو ہونے والی شادی میں شامل ہونے کے لیے واپس آیا تھا۔ دوسرا 21 سالہ فیضان شیخ چھوٹے موٹے کام کرتا ہے اور تیسرا 24 سال کا مولانا محسن شیخ سورت کے ایک مدرسے میں پڑھاتا ہے۔

ان کی گرفتاری کے فوراً بعد ہی گجرات اے ٹی ایس کے ڈپٹی ایس پی کے کے پٹیل نے اعلان کیا کہ ان تینوں نے اپنا گناہ قبول کر لیا ہے۔ اس درمیان مہاراشٹر اے ٹی ایس سربراہ دیوین بھارت نے ممبئی میں اعلان کیا کہ انھوں نے اس قتل کے ایک سازشی کو ناگپور میں گرفتار کیا ہے اور اس سے پوچھ تاچھ ہو رہی ہے۔

لیکن اس سب میں اپنے بیٹے کی شادی کی تیاریوں میں مصروف پٹھان کے والد خورشید اپنے چھوٹے بیٹے کی گرفتاری سے بے حد صدمے میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’میرے بچے بے قصور ہیں۔ ہم تو اس کملیش تیواری کو جانتے تک نہیں کہ وہ کیا کرتا ہے اور اسے کس نے مارا۔‘‘

اس سب میں حیران کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ مبینہ قاتلوں نے آخر اپنی پہچان چھپانے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ جس طرح کملیش تیواری نے دونوں قاتلوں کی اپنے دفتر میں خاطرداری کی، انھیں چائے پانی کرایا، دہی-وڈا کھلایا، اس سے لگتا ہے کہ دونوں کی کملیش تیواری سے اچھی جان پہچان تھی۔ پہچان اتنی اچھی تھی کہ ان کے کہنے پر کملیش تیواری کا آفس بوائے ان کے لیے پان مسالہ اور سگریٹ لینے باہر چلا گیا اور انھوں نے اسی دوران مبینہ طور پر تیواری کا گلا ریت دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عام طور پر قاتل اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ دھیان رکھتے ہیں کہ سی سی ٹی وی کی زد میں نہ آ جائیں، اور جب جرم کر کے بھاگیں تو کوئی انھیں دیکھ نہ لے۔ لیکن کملیش تیواری قتل معاملہ میں ایسا نہیں ہوا۔ قاتل اس مٹھائی کے ڈبے کو وہیں چھوڑ گئے جس میں وہ مبینہ طور پر پستول لے کر آئے تھے، ساتھ ہی وہاں مٹھائی کا بل بھی چھوڑ گئے تاکہ پتہ چل جائے کہ مٹھائی کہاں سے خریدی گئی تھی۔

آناً فاناً میں پتہ چل گیا کہ جس مٹھائی کے ڈبے میں پستول اور چاقو لایا گیا تھا، وہ سورت کے اُدھنا ایریا کی ایک مٹھائی کی دکان کا تھا۔ پولس نے فوراً اس مٹھائی کی دکان کے سی سی ٹی وی میں فیضان سمیت تین لوگوں کو دیکھا اور انھیں گرفتار کر لیا۔ فیضان نے مٹھائی کی دکان پر سی سی ٹی وی سے بچنے کی کوئی کوشش بھی نہیں کی۔ وہ چاہتا تو آسانی سے اپنا چہرہ چھپا سکتا تھا، یا پھر ڈبہ ہی چاہیے تھا تو کہیں سے بھی لے سکتا تھا۔ آخر اس نے قصداً ایسا کیوں کیا؟

ان سب سے بھی زیادہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ قاتل، مبینہ قتل کے بعد واپس اسی ہوٹل میں گئے جہاں وہ رکے تھے۔ وہاں انھوں نے دوسرے کپڑے پہنے اور خون لگے کپڑے وہیں چھوڑ دیے۔ پھر رسپشن پر آ کر کمرے کی چابی بھی دی اور ایک گھنٹے میں اانے کا کہہ کر چلے گئے۔ آخر ان دونوں نے یہ جوکھم کیوں اٹھایا، وہ تو سیدھے بھاگ سکتے تھے، لیکن انھیں کوئی ایسی جلدی نہیں تھی۔

ان سبھی چیزوں کو دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دونوں خود ہی چاہتے تھے کہ پولس ان کی پہچان کرے اور ان تک پہنچ جائے۔ لیکن دلچسپ یہ بھی ہے کہ اتنا سب ہونے کے باوجود کسی بھی ریاست کی پولس ان دونوں تک اب بھی نہیں پہنچ سکی ہے۔

کملیش تیواری کی ماں پولس کی اس پوری کہانی کو خارج کر چکی ہے اور انھوں نے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ اور ان کی حکومت پر دھوکہ دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یوگی حکومت نے کملیش کی وہ سیکورٹی نہیں ہٹائی ہوتی جو انھیں اکھلیش حکومت میں ملی ہوئی تھی، تو شاید ایسا نہیں ہوتا۔

کملیش کی ماں نے ایک ٹی وی چینل سے بات چیت میں یہاں تک کہا کہ ’’پولس کچھ بے قصوروں کو پکڑ کر سامنے پیش کر دے گی، اور مافیا کو بچا لے گی۔ آخر جب انتظامیہ ہی نے دھوکہ دیا ہے تو ان سے کیا امید کریں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’پچھلی حکومت میں میرے بیٹے کو تقریباً 17 پولس والوں کی سیکورٹی ملی ہوئی تھی۔ یوگی حکومت کے آتے ہی پہلے ان کی تعداد گھٹا کر 9-8 کر دی گئی، اور پھر اسے بھی گھٹا کر 4 کر دیا گیا۔ ان میں سے دو ہر وقت میرے بیٹے کے ساتھ ہوتے تھے، جب بھی وہ کہیں جاتا تھا۔ لیکن جس دن قتل ہوا، اس دن ایک بھی سیکورٹی اہلکار ساتھ میں نہیں تھا۔‘‘

یہی بات تیواری کی پارٹی کے لیڈر اور کملیش تیواری کے نمبر 2 سوراشٹر دیپ سنگھ بھی کہتے ہیں۔ جب یہ مبینہ قاتل کملیش تیواری سے ملنے آئے تھے تو دیپ سنگھ اس وقت وہاں موجود تھے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ تیواری کو دوپہر سے پہلے ایک فون آیا تھا جس کے بعد انھوں نے اپنی بیوی کو ان کے گھر کی پہلی منزل پر بنے دفتر کو صاف کرنے کے لیے کہا تھا۔ ساتھ ہی مہمانوں کے لیے کچھ چائے ناشتہ تیار کرنے کو بھی کہا تھا۔

دیپ سنگھ نے بتایا کہ ایک گھنٹے بعد دونوں آئے تھے اور سیدھے پہلی منزل پر چلے گئے تھے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے مہمان اس جگہ سے واقف تھے۔ وہ تیواری کے ساتھ تقریباً نصف گھنٹے بیٹھ کر بات چیت کرتے رہے۔ اس دوران دیپ سنگھ کے سامنے ہی انھوں نے چائے ناشتہ کیا تھا۔ اس کے بعد ان میں سے ایک نے دیپ سنگھ کو سگریٹ لینے بھیج دیا تھا اور وہ تیواری کو ان مبینہ قاتلوں کے ساتھ چھوڑ کر باہر چلے گئے تھے۔

جب دیپ سنگھ واپس آئے تو تیواری فرش پر خون میں لتھ پتھ پڑے تھے۔ ان کا گلا ریتا گیا تھا، جہاں سے خون بہہ رہا تھا۔ انھوں نے شور مچایا اور تیواری کی بیوی کرن دوڑ کر اوپر آئیں۔ انھوں نے ایمبولنس بلائی، لیکن اسپتال پہنچتے پہنچتے کملیش دم توڑ چکے تھے۔

لکھنؤ کے ایس ایس پی کلاندھی نیتھوانی کا پہلا رد علم یہ تھا کہ ’’پہلی نظر میں لگتا ہے دونوں نے کسی نجی دشمنی کے سبب تیواری پر حملہ کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ تیواری حملہ آوروں کو جانتے تھے۔‘‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق شروع میں ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ قتل گلا ریتنے سے ہوئی ہے، لیکن جیسے ہی پولس کو پستول ملا، تو ایس پی وکاس ترپاٹھی نے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں پتہ چلا ہے کہ پہلے گولی ماری گئی اور اس کے بعد چاقو سے حملہ کیا گیا۔

یہ پوری تھیوری گلے سے نیچے نہیں اترتی۔ اگر حملہ آوروں نے گولی چلائی تو کسی نے گولی چلنے کی آواز کیوں نہیں سنی؟ اور ااخر ایک ایسے مٹھائی کے ڈبے میں چاقو اور پستول رکھ کر کیوں لائے جس کا بل بھی اس میں موجود تھا اور دکان کا پتہ بھی تھا۔

next