’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ گینگ اناؤ معاملہ پر خاموش کیوں، کانگریس کا سوال

مہیلا کانگریس کی سربراہ سشمتا دیو نے کہا کہ صوبہ میں یوگی آدتیہ ناتھ اور مرکز میں نریندر مودی بیٹھے ہوئے ہیں، پھر بھی حکومت کی طرف سے متاثرہ کو انصاف دلانے کے لئے کچھ نہیں کیا جا رہا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

اناؤ ضلع کی رہائشی عصمت دری کی شکار اور ٹرک حادثہ کے بعد سے زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی متاثرہ کے حق میں مہیلا کانگریس کی سربراہ سشمتا دیو نے آواز اٹھائی ہے اور بی جے پی کے خلاف زبردست حملہ بولا۔ انہوں نے متاثرہ کے خط کا نوٹس لینے اور فیصلہ سنانے پر سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کیا اور بی جے پی رہنماؤں کے اس معاملہ پر خاموشی اختیار کرنے پر سوال اٹھائے۔

اناؤ معاملہ پر اے آئی سی سی کے صدر دفتر میں منعقدہ ایک پریس کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے سشمتا دیو نے کہا کہ اناؤ معاملہ میں بی جے پی کا رکن اسمبلی سینگر ملزم ہے، اس لئے متاثرہ کو اپنی حفاظت کے لئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے نام خط لکھنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعجب اس بات پر ہے کہ کیس سی بی آئی کے ہاتھ میں ہونے کے باوجود متاثرہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہے۔

سشمتا دیو نے کہا کہ متاثرہ کا اپنے اہل خانہ اور وکیل کے ساتھ سفر کرتے ہوئے رائے بریلی میں حادثہ پیش آیا اور جس ٹرک نے گاڑی کو ٹکر ماری اس کی نمبر پلیٹ سیاہی سے چھپائی گئی تھی، اس پورے معاملہ کی جانچ ہونی بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لکھنؤ کے اسپتال میں متاثرہ کی ماں اور دیگر خاندان کے لوگوں سے ملی تھیں، جوکہ چلا چلا کر کہہ رہے تھے کہ ہم کئی مہینے سے لگاتار یہ کہہ رہے تھے کہ یو پی میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی بی جے پی حکومت ہے اور اس حکومت میں ہماری جان کو خطرہ ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے عصمت دری اور حادثہ سے متعلق مقدمات کو دہلی منتقل کرنے کا حکم دیا ہے، نیز دہلی کی عدالت کو 45 دن کے اندر سماعت مکمل کرنی ہوگی۔ سپریم کورٹ نے سی آر پی ایف کو متاثرہ خاندان کو حفاظت دینے کی ہدایت دی ہے، ساتھ ہی سی بی آئے سے یہ کہہ دیا ہے کہ 7 دن کے اندر اندر جانچ مکمل کریں اور اگر یہ ممکن نہ ہو پائے تو زیادہ سے زیادہ 14 دن میں تفتیش مکمل کریں۔ اس فیصلہ پر سشمتا دیو نے چیف جسٹس آف انڈیا کا شکریہ ادا کیا ہے۔

مہیلا کانگریس کی سربراہ سشمتا دیو نے کہا کہ بی جے پی کی طرف سے الیکشن کے دوران یہ کہا گیا تھا کہ صوبہ اور مرکز میں ان کی حکومت بنائیں گے تو ہم بہتر حکمرانی لائیں گے لیکن اب جبکہ صوبہ میں یوگی آدتیہ ناتھ اور مرکز میں نریندر مودی بیٹھے ہوئے ہیں، پھر بھی حکومت کی طرف سے متاثرہ کو انصاف دلانے کے لئے کچھ نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ نے اس معاملہ میں نوٹس نہیں لیا ہوتا تو متاثرہ خاندان کی حالت مزید بری ہو جاتی۔

سشمتا دیو نے کہا، ’’سب سے زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ بی جے پی ایم ایل اے کلدیپ سینگر دو سال سے اناؤ عصمت دری معاملہ میں ملزم ہے اور اس سے بھی شرمناک بات یہ ہے کہ ساکشی مہاراج لوک سبھا چناؤ کے بعد عصمت دری کے الزام میں جیل میں بند ملزم سے ملنے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں واقعات پر غور کریں تو چیزیں خودبخود سمجھ میں آ جاتی ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ملک کے وزیر اعظم بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کہتے ہیں، میرا ان سے سوال ہے کہ کیا بیٹیوں کی جان کی کوئی قیمت نہیں۔

انہوں نے کہا ’’جب بی جے پی سے یہ سوال پوچھا گیا کہ وہ اپنے رکن اسمبلی سینگر کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کر رہی تو کہا گیا کہ اسے تو پہلے ہی معطل کر دیا گیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج جب سپریم کورٹ میں حکومت کو پڑے تھپڑ کی گونج بی جے پی کے صدر دفتر تک پہنچی تو سینگر کو انہوں نے فوری طور پر معطل کیا۔‘‘

انہوں نے کہا سپریم کورٹ نے یوگی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ 25 لاکھ کا معاوضہ متاثرہ کے اہل خانہ کو دیں لیکن اس خاندان کا بھلا صرف پیسوں سے نہیں ہونے والا۔ یوگی حکومت کی پولس نے متاثرہ کے خاندان کے ایک 8 سال کے بچے تک کو نہیں چھوڑا اس پر بھی چوری کا الزام عائد کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں پورا یقین ہے کہ اب جبکہ سماعت دہلی میں ہوگی اور 45 دن میں ٹرائل مکمل ہو جائے گی تو متاثرہ خاندان کو انصاف ملے گا۔ سشمتا دیو نے کہا، ’’اس بات پر دکھ ہے کہ بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ کا دعوی کرنے والا گینگ اس معاملہ پر خاموش ہے۔ وزیر اعظم مودی اور خواتین و اطفال بہبود کی وزیر جو امیٹھی سے رکن پارلیمان بھی ہیں اس معاملہ پر خاموش ہیں‘‘۔

Published: 1 Aug 2019, 7:16 PM