’مدر آف ڈیموکریسی‘ کی بات کرنے والے جمہوریت کی روح کو روندنے پر آمادہ کیوں؟‘ لوک سبھا میں ہنگامہ پر کھڑگے کا تلخ سوال

کانگریس صدر کھڑگے نے لوک سبھا میں راہل گاندھی کے بیان پر ہنگامہ کو افسوسناک قرار دیا اور سوال کیا کہ سابق فوجی چیف کی کتاب میں ایسا کیا لکھا ہے جس سے مودی حکومت کے بڑے بڑے وزراء گھبرا رہے ہیں؟

<div class="paragraphs"><p>ملکارجن کھڑگے، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

’’آر ایس ایس-بی جے پی کی نظریاتی بنیاد ہی حقائق کو چھپانے پر ٹکی ہے، تبھی یہ بزدل مودی حکومت پارلیمنٹ میں قومی سیکورٹی کے سنگین سوالات پر جواب دینے سے ایسے بچ رہی ہے جیسے اس کی دُکھتی رَگ پر کسی نے ہاتھ رکھ دیا ہے۔‘‘ یہ تلخ تبصرہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے آج لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کے بیان پر برسراقتدار طبقہ کے ذریعہ کیے گئے ہنگامہ پر کیا ہے۔

دراصل راہل گاندھی سابق فوجی چیف ایم ایم نروَنے کی ایک غیر مطبوعہ کتاب سے کچھ حوالہ پیش کرنا چاہ رہے تھے، جو چین اور ڈوکلام سے جڑا ہوا تھا۔ جیسے ہی انھوں نے اس کتاب کا حوالہ پیش کرنا شروع کیا، برسراقتدار طبقہ نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ ایوانِ زیریں کے اسپیکر نے بھی ضابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس غیر مطبوعہ کتاب سے کچھ بھی اخذ نہ کرنے کی ہدایت دی۔ پھر راہل گاندھی ایک میگزین کا حوالہ دینے لگے، اس پر بھی برسراقتدار طبقہ کو اعتراض ہوا اور ہنگامہ کے درمیان ہی ایوان کی کارروائی منگل کی صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔


اسی معاملہ میں کانگریس صدر کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کر اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے ایوان میں قومی سیکورٹی سے منسلک ایک بے حد سنگین معاملہ اٹھایا ہے۔ سابق فوجی چیف کی کتاب میں ایسا کیا لکھا ہے جس سے مودی حکومت کے بڑے بڑے وزراء گھبرا رہے ہیں؟ ان کی کتاب کو شائع ہونے سے کون روک رہا ہے؟‘‘

اس معاملہ میں کھڑگے کا کہنا ہے کہ ’’پورا ملک جانتا ہے کہ بی جے پی کا نیشنلزم جھوٹا ہے۔‘‘ وہ یہ سوال بھی پوچھتے ہیں کہ ’’وہ حب الوطنی کی بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، لیکن 2020 میں گلوان میں ہمارے 20 جوانوں کی قربانی کے بعد مودی جی خود چین کو ’کلین چٹ‘ تھما دیتے ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں ہے؟ کیا پارلیمنٹ میں اس سے پہلے قومی سیکورٹی و خارجہ پالیسی سے جڑے ایشوز پر ملک کو بھروسہ میں نہیں لیا گیا ہے؟‘‘ پوسٹ کے آخر میں وہ یہ تلخ سوال بھی پوچھتے ہیں کہ ’’مدر آف ڈیموکریسی کی بات کرنے والے جمہوریت کی روح کو روندنے پر آمادہ کیوں ہیں؟‘‘