وہ ایک سطر سے ڈرے ہوئے ہیں، وہ سطر میں پارلیمنٹ کے اندر کہوں گا اور مجھے کوئی نہیں روکے گا: راہل گاندھی
کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ سابق آرمی چیف اپنی بات بتانا چاہ رہے تھے، لیکن حکومت نے کتاب نہیں شائع ہونے دی۔ مودی حکومت حقائق کو چھپا رہی ہے۔

’’وہ ایک سطر سے ڈرے ہوئے ہیں۔ اس میں ایک سطر ایسی ہے جس سے وزیر اعظم مودی اور وزیر دفاع راجناتھ سنگھ ڈرتے ہیں۔ میں وہ سطر پارلیمنٹ کے اندر کہوں گا اور مجھے کوئی نہیں روکے گا۔‘‘ یہ بیان آج لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے ایوان زیریں میں مبینہ طور پر انھیں بولنے سے روکے جانے اور ایوان کی کارروائی کل تک ملتوی کیے جانے کے بعد پارلیمنٹ احاطہ میں نامہ نگاروں کے سامنے دیا ہے۔ انھوں نے سابق آرمی چیف ایم ایم نروَنے کی کتاب کا ذکر کیا جس میں ڈوکلام سے متعلق ذکر ہے، لیکن یہ کتاب فی الحال شائع نہیں ہوئی ہے۔
پارلیمنٹ احاطہ میں میڈیا اہلکاروں سے بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’معاملہ ٹھیک وہی ہے جو وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا۔ زمین لی گئی تھی یا نہیں، یہ ایک الگ سوال ہے، ہم اس پر آئیں گے۔ لیکن اس پر آنے سے قبل ملک کے لیڈر کو ایک سمت دینی ہوتی ہے۔ ملک کے لیڈر کو فیصلوں سے بھاگنا نہیں چاہیے، اور انھیں دوسرے لوگوں کے کندھوں پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ وزیر اعظم نے یہی کیا ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’حکومت نے کتاب نہیں شائع کرنے دی۔ سابق آرمی چیف اپنی بات بتانا چاہ رہے تھے۔ مودی حکومت حقائق کو چھپا رہی ہے۔‘‘
کتاب کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ سابق آرمی چیف ایم ایم نروَنے نے اپنی کتاب میں پی مودی اور وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے بارے میں صاف صاف لکھا ہے۔ میں اسی مضمون کا حوالہ دے رہا ہوں، لیکن مجھے پارلیمنٹ میں بولنے نہیں دیا جا رہا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’پوری مودی حکومت خوفزدہ ہے کہ اگر نروَنے کی کتاب سامنے آ گئی تو نریندر مودی اور راجناتھ سنگھ کی حقیقت ملک کو پتہ چل جائے گی۔ پتہ چل جائے گا کہ جب چین ہماری طرف آ رہا تھا تو 56 انچ کی چھاتی کو کیا ہوا تھا۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ پارلیمنٹ میں زوردار ہنگامہ کے بعد لوک سبھا کی کارروائی 3 فروری کی صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔ رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی اپنی بات رکھنا چاہ رہے تھے، لیکن برسراقتدار طبقہ کی طرف سے زبردست ہنگامہ کیا گیا اور اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے حزب اختلاف کے قائد کو بولنے سے روکا گیا۔ اسمبلی اسپیکر اوم برلا نے بھی راہل گاندھی سے کہا کہ ایوان کے ضابطوں کا خیال رکھتے ہوئے اپنی باتیں رکھیں۔ حالانکہ برسراقتدار طبقہ کے ہنگامہ کے سبب ایوان کی کارروائی کل تک کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔ اس عمل سے ناراض راہل گاندھی نے میڈیا اہلکاروں سے کہا کہ جب چینی ٹینک ڈوکلام کے قریب تھے، تب پی ایم مودی اور وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے فوجی چیف سے کیا کہا تھا، یہ مجھے بولنے نہیں دیا جا رہا۔ انھوں نے یہ سوال بھی کیا کہ ملک کی سیکورٹی پر پی ایم مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ خاموش کیوں ہیں؟ پتہ نہیں حکومت کو کس بات کا خوف ستا رہا ہے؟