بار بار کیوں کانپ رہا ہمالیہ؟ گزشتہ ماہ ہمالیائی علاقے میں محسوس کیے گئے زلزلہ کے 130 سے زائد جھٹکے
ایک ہی ماہ میں زلزلے کے 130 سے زائد جھٹکوں سے یہ سوال کھڑا ہو رہا ہے کیا یہ کسی بڑی آفت کی طرف اشارہ ہے؟ جو کچھ نیپال میں ہوا، کیا یہ زلزلے کے جھٹکے اس سے بڑے سانحہ کے طرف اشارہ کر رہے ہیں؟
.jpg?rect=0%2C0%2C3600%2C2025&auto=format%2Ccompress&fmt=webp)
نیپال میں 26 اگست کو آئے اچانک سیلاب کے باعث مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور 4 ہزار سے زائد افراد لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ نیپال کے تمام متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن مسلسل جاری ہے اور ملبے کے نیچے دبی لاشوں کا پتہ لگانے کے لیے ’اسنیفر ڈاگ‘ کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔ اسی درمیان جو مکان اس قدرتی آفت میں محفوظ رہ گئے ان میں لوگوں نے اب لوٹنا شروع کر دیا ہے۔ لوگ اپنے مکانوں کی صفائی کر رہے ہیں۔ حالانکہ ایسے کچھ ہی گنے چنے مکان ہیں جنہیں سیلاب نے کم نقصان پہنچایا یا جو اس سیلاب میں بھی نہیں ٹوٹے۔ اس کے علاوہ جس ’لانگ ٹانگ‘ سرنگ میں کئی مزدوروں کے پھنسے ہونے کی خبر ہے وہاں ہندوستان اور نیپال کی ریسکیو ٹیمیں 185 میٹر اندر تک پہنچ چکی ہیں۔
دوسری جانب اس قدرتی آفت کے دوران سب سے چونکانے والی بات یہ ہے کہ اگست میں ہمالیائی علاقے میں 130 سے زائد زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ یہ معلومات نیشنل سنٹر فار سسمولوجی (این سی ایس) کی جانب سے فراہم کی گئی ہے، جو ملک بھر میں زلزلے کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے اور زلزلوں سے متعلق تحقیق کرتا ہے۔ اس نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں بتایا کہ اگست میں پورے ہمالیائی علاقے اور اس سے منسلک ہندوکش-پامیر علاقے میں زلزلے کے 130 واقعات پیش آئے اور سب سے زیادہ 63 واقعات ہندوستان کے ہمالیائی علاقے میں درج کیے گئے، جبکہ لداخ، جموں و کشمیر اور ہماچل پردیش میں اس طرح کے 36 واقعات ریکارڈ ہوئے۔ اس کے علاوہ افغانستان میں 26 اور نیپال میں 10 زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
نیشنل سسمولوجیکل سنٹر کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ان میں زیادہ تر زلزلے کم شدت کے تھے، لیکن 13 اگست کو لداخ میں 5.5 کی شدت کا زلزلہ آیا تھا اور اسی روز 4.3 شدت کا بھی زلزلہ محسوس کیا گیا تھا۔ اسی طرح ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر کے علاقوں میں بھی اس طرح کے واقعات پیش آئے۔ ایک ہی ماہ میں زلزلے کے اتنے جھٹکوں سے یہ سوال کھڑا ہو رہا ہے کیا یہ کسی بڑی آفت کی طرف اشارہ ہے؟ جو کچھ نیپال میں ہوا، کیا یہ زلزلے کے جھٹکے اس سے بڑے سانحہ کے طرف اشارہ کر رہے ہیں؟
