حکومت کی نظر میں عام آدمی کون ہے؟... نواب علی اختر

موجودہ حکومت کی دوسری میعاد کا تقریباً نصف دور جو گزر چکا ہے، کو دیکھا جائے تو بقیہ نصف دورانیے یا مستقبل قریب میں بھی کوئی ایسی حکمت عملی نظرنہیں آرہی جس سے غریب عوام کے لئے راحت کی کوئی شکل نکل سکے۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

نواب علی اختر

خوش کن نعروں اور جملوں کے سہارے مرکزی اقتدارکی چوٹی سر کرنے والی بی جے پی اور اتحادی پارٹیوں پر مشتمل مودی حکومت کا نعرہ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس‘ اب (چند سرمایہ داروں کو چھوڑ کر) ’سب کا ستیا ناش‘ میں تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے۔ موجودہ حکومت کے تقریباً 7 سال کی مدت کے دوران خواہ کسی شعبے کو ترقی نہ ہوئی ہو مگر بے روزگاری، مہنگائی اورنفرت انگیزی اپنے شباب پر ہے۔ ان حالات میں حکومت ہی بہتر طور پر بتا سکتی ہے کہ وہ کس کے ساتھ، کس کا وکاس اور کیا وشواس کا کام کر رہی ہے۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم نریندرمودی نے ایک اور بڑا اعلان کردیا (خیر اعلان تو وہ گزشتہ 6 سال سے کر رہے ہیں اور عوام بھی اب سمجھ گئے ہیں) لیکن اس اعلان میں انہوں نے حسب سابق خاص طور پر عام آدمی کا ذکر کیا ہے۔

وزیر اعظم نے عام آدمی کا ذکر کرتے ہوئے نہ تو اپنی گزشتہ 6 سالہ حکومتی کارکردگی دیکھی، نہ ہی غریب دشمن پالیسیاں اور نہ غریب دشمن لیڈران کی فوج دیکھی، جن کا کام سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپوزیشن کی کھینچا تانی کرنا اور اپنی تمام تر ناکامیوں کا ملبہ سابقہ حکومت پر ڈالتے ہوئے خود کو بری الذمہ کر لینا اور اس کے ساتھ ایک اور کاری وار غریب اور پسے ہوئے عوام پر کر کے اجلاس برخاست کرلینا۔ یہی حال مشیران خوش الحان کا ہے۔ ان کو اپنے’منظور نظر میڈیا‘ کے سامنے حکومتی ناکامیوں کے جتنے مرضی ثبوت پیش کردیئے جائیں، وہ اپنا یہ راگ الاپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ سابقہ حکومتوں نے ہی کیا ہے۔

اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے اکثر غریب اور مہنگائی سے جاں بہ لب عوام پر طنز کیا جاتا ہے کہ مودی حکومت کی اولین ترجیح عام آدمی ہے مگر یہ وضاحت نہیں کی جاتی کہ یہ عام آدمی کون ہے جس کو آپ ترجیح دینا چاہتے ہیں اور اس کے غم میں آپ کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ کیا ہم غریب عوام آپ سے پوچھ سکتے ہیں کہ یہ عام آدمی کون ہے؟ یہ عام آدمی وہ سرمایہ کار ہے جو غریب کا مستقل خون چوس رہا ہے؟، یا پھر یہ عام آدمی وہ مڈل مین ہے جو 10 کی خرید کر 50 کی چیز بیچ رہا ہے؟ یا پھر یہ عام آدمی وہ اشرافیہ جس کو ’چڑھی اتری‘ کا کوئی غم نہیں۔ یا پھر واقعی یہ وہی عام آدمی ہے جسے عرف عام میں ”غریب، مزدور اور مفلس عوام“ کہتے ہیں۔

کسی بھی حکومت کے لئے 6 سال کا عرصہ بہت ہوتا ہے کہ وہ اپنی پالیساں نافذ کرکے اپنے منشور کے مطابق کام کرسکے۔ اگر اتنے طویل عرصے کے بعد بھی وہ پرانی کہاوتیں، قصے اور کہانیاں بیان کرتی رہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ وہ حکومت، حکومتی وزرا اور مشیران مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور ایسی حکومت غریب عوام اور ملک وقوم پر ایک بوجھ کی حیثیت رکھتی ہے۔ مہنگائی اور افراط زر میں کمی کا سلسلہ نہ صرف اسی طرح برقرار ہے بلکہ یہ مہنگائی اور افراط زر عام آدمی پر مسلسل بڑھ رہا ہے اور غریب عوام مزید عدم تحفظ کا شکار ہوتے جا رہے ہیں اور اگر موجودہ حکومت کی دوسری میعاد کا تقریباً نصف دور جو گزر چکا ہے، کو دیکھا جائے تو بقیہ نصف دورانیے یا مستقبل قریب میں بھی کوئی ایسی حکمت عملی نظرنہیں آرہی جس سے غریب عوام کے لئے راحت کی کوئی شکل نکل سکے۔ کیونکہ اس نصفیے میں وزیراعظم اور ان کی ٹیم اس مسئلے کو کسی بھی پلیٹ فارم پر سنجیدگی سے لیتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ ان کی غیر سنجید گی اور بے توجہی کا یہ بوجھ اس ملک کے غریب عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ سیاستدان ہندوستانی قوم کو کیا سمجھ رہے ہیں اور بطور ایک سربراہ قوم ہونے کے بھی آئے دن وہی بیان داغے جا رہے ہیں کہ ’غریب عوام کا مفاد مدنظر ہے‘۔ اب سوال تو بنتا ہے کہ ہر روز پٹرول کی قیمت بڑھا کر کون سے عام آدمی کا مفاد مدنظر رکھا جارہا ہے؟، اشیاء خوردونوش کی قیمتیں جو آسمان کو چھو رہی ہیں اور مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ اس کے اضافے میں بھی کوئی مفاد ہوگا؟ ہم کب تک غریب اور پسماندہ طبقے کو نظر انداز کرتے رہیں گے۔ کیا مودی حکومت کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا ہے یا جن لوگوں نے بھروسہ کرکے انہیں اقتدار تک پہنچایا ہے ان کے لئے بھی کچھ کرنے کا ارادہ ہے؟

ہمارے جمہوری ملک میں تقریباً ہر ماہ وسال کہیں نہ کہیں انتخابات ہوتے رہتے ہیں۔ رواں سال 5 ریاستوں میں انتخابات ہونے ہیں جن میں مغربی بنگال سب سے اہم مانا جارہا ہے اور شاید اسی لئے ملک کو ’بھگوان بھروسے‘ چھوڑ کر پوری مودی حکومت نے بنگال میں ڈیرہ ڈال رکھا ہے۔ وزیرداخلہ امت شاہ جن پر پورے ملک کی سلامتی کی ذمہ داری ہوتی ہے، وہ اکثر بنگال میں ’پڑے‘ رہتے ہیں اور اپنے ہی وزیراعظم کے ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس‘ نعرے کی دھجیاں اڑاتے ہوۓ ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنا کر این آر سی لاگو کرنے کا راگ الاپتے نظر آتے ہیں۔ ان کی سیاست میں مہنگائی سے جاں بہ لب غریب عوام کے دکھ اور غم کے بجائے اقتدار کی حوس حاوی ہے۔

موجودہ وقت میں ملک کے سامنے کئی ایسے مسائل ہیں جو براہ راست عوام سے تعلق رکھتے ہیں ان میں سب سے اہم مسئلہ کسانوں کا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ حکومت کسانوں کو ملک کی ریڑھ کی ہڈی بتاتی رہتی ہے مگر یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ جب یہی کسان اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کے لئے سڑک پر اترتا ہے تو اسے دہشت گرد، پاکستانی اور خالصتانی کہہ کر خود کو خودکشی کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ دہلی کی سرحدوں پر بیٹھے ہزاروں کسانوں کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جا رہے ہیں۔ عام آدمی کی فکر کرنے والی مودی حکومت کو چاہیے کہ احتجاجی کسانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے متنازعہ زرعی قوانین کو ختم کیا جائے اور انہیں ضروری سہولیات اور مراعات فراہم کی جائیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


پسندیدہ ترین
next