کورونا ٹیکہ کون نہ لے، بھارت بائیوٹیک نے کی وضاحت

بھارت بائیوٹیک کمپنی نے کہا کہ کوویکسن سے شدید الرجی ری ایکشن ہونے کا امکان کافی کم ہے۔ ٹیکہ دینے والے ٹیکہ لینے کے بعد تقریباً نصف گھنٹہ تک وہیں پر رہنے پر زور دیتے ہیں جس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

حیدرآباد: کورونا کا ٹیکہ کوویکسن تیار کرنے والی حیدرآبادی کمپنی بھارت بائیوٹیک نے کہا ہے کہ کمزور قوت مدافعت رکھنے یا پھر ایسی دوا استعمال کرنے والے جس کے ذیلی اثرات قوت مدافعت پر ہوتے ہوں کے ساتھ ساتھ الرجی والے افراد کورونا کا ٹیکہ نہ لیں۔ بھارت بائیوٹیک نے اپنی فیکٹ شیٹ میں کہا کہ الرجی کے ساتھ ساتھ بخار، خون کی پیچیدگیوں کے شکار افراد، حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی مائیں اور دیگر سنگین طبی مسائل کے شکار افراد کوویکسن ٹیکہ نہ لیں۔ اس فیکٹ لسٹ میں ذیلی اثرات (سائیڈ ایفکٹس) جیسے درد، انجکشن کی جگہ کا پھول جانا، خراش، جسم میں درد، سردرد، کمزوری، بے قراری، متلی بھی شامل ہیں۔

بھارت بائیوٹیک کمپنی نے کہا کہ کوویکسن سے شدید الرجی ری ایکشن ہونے کا امکان کافی کم ہے۔ ٹیکہ دینے والے ٹیکہ لینے کے بعد تقریباً نصف گھنٹہ تک وہیں پر رہنے پر زور دیتے ہیں جس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس دواساز کمپنی نے کہا کہ ٹیکہ لینے والوں کو ٹیکہ کی دوسری خوراک لینے کے تین ماہ تک فالو اپ کا حصہ بنایا جائے۔ کمپنی کی یہ فیکٹ شیٹ ہندوستان کی جانب سے سب سے بڑی ٹیکہ اندازی کی مہم کے آغاز کے تین دن بعد سامنے آئی ہے۔ قبل ازیں حکومت نے کہا تھا کہ کسی بھی قسم کے ٹیکہ سے منفی ری ایکشن والے افراد یہ ٹیکہ نہ لیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next